PDA

View Full Version : سورہ فاتحہ کی تفسیر ضاء القرآن سے



Attari1980
06-27-2009, 02:25 PM
سورہ فاتحہ !!!

یہ وہ مختصر لیکن حقائق اور معانی سے لبریز ،دل نشین و دل آویز جلیل القدر سورت ہے ، جس سے اس مقدس آسمانی کتاب کا آغاز ہوتا ہے ، جس نے تاریخ انسانی کا رخ موڑ دیا ، جس نے فکر ونظر میں انقلاب پیدا کردیا ، جس نے قلب و روح کو نئی زندگی بخش دی ، اس پاک سورت کی گوناگوں برکات کو کیوں کر قلمبند کیا جا سکتا ہے ، وہ متعدّد نام جن سے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اس سورت کو یاد فرمایا ، حقیقت شناس نگاہوں کو ان فیوض و برکات سے آشنا کردیں گے جو اس میں بڑی خوبصورتی سے سمو دئیے گئے ہیں ، ان ناموں سے چند یہ ہیں !

الفاتحہ: رحمت و حکمت کے خزانے کھولنے والی -
فاتحۃ الکتاب : قرآن حکیم کے سربستہ رازوں کی کلید ۔
اُمّ القرآن : حقائق قرآنی کا ماخذ و منبع ۔
السبع المثانی : بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں ۔
الشفاء :جسمانی اور روحانی بیماریوں کا تریاق ۔
یہ سورہ پاک مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ، اس کا ایک رکوع ہے سات آیتیں ہیں ، اس کے الفاظ کی تعداد پچیس ہے اور حروف کی تعداد 123 ہے ۔

Attari1980
06-27-2009, 02:26 PM
تسمیہ !!
بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ کے نام سے 1 شروع کرتا ہوں 2 جو بہت ہی مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے 3۔

1 : اسلامی آداب معاشرت میں بسم اللہ الخ کو اہم مقام حاصل ہے ہمیں ہمارے ہادی و مرشد علیہ الصلواۃ والسلام نے یہ سبق دیا ہے کہ ہر کام پہلے بسم اللہ الخ سے شروع کرو ، بلکہ یہاں تک فرمایا !
اغلق بابک واذکر اسم اللہ واطفئ مصاحبک واذکر اسم اللہ و خمراناءک واذکر اسم اللہ واوک سقاءک واذکراسم اللہ ( تفسیر القرطبی )
دروازہ بند کرو تو اللہ کا نام لیا کرو ، دیا بھجاؤ تو اللہ کا نام لیا کرو ، اپنے برتن ڈھانپو تو اللہ کا نام لیا کرو ، اپنی مشک کا منہ باندھو تو اللہ کا نام لیا کرو ،
مقصد یہ ہے کہ ہر کام چھوٹا ہو یا بڑا کرتے وقت انسان اپنے کارساز حقیقی کا نام لینے کا خوگر ہوجائے تا کہ اس کی برکت سے مشکلیں آسان ہو جائیں اس کی تائید و نصرت پر اس کا توکل پختہ ہو جائے ، نیز جب اسے ہر کام شروع کرتے وقت اللہ کا نام لینے کی عادت ہوجائے گی تو وہ ہر ایسا کام کرنے سے رک جائے گا جس میں اس کے رب تعالٰی کی ناراضگی ہو ۔
امام قرطبی نے صحیح سند سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ عثمان بن ابی العاص نے شکایت کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم جب سے مشرف باسلام ہوا ہوں جسم میں درد رہتا ہے تو حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جہاں درد ہو وہاں ہاتھ رکھ کر تین بار بسم اللہ الخ پڑھو اور سات بار یہ جملہ کہو اَعُوذُ بِعِزّۃِ اللہِ وَقُدرَتِہ مِن شَرّ مَا اَجِدُ وَََ اُحَاذِرُ -

2: اللہ معبود حقیقی کا علم ذاتی ہے ، ذات باری کے علاوہ کسی کے لئے استعمال نہین ہوتا ۔

3: یہ دونوں مبالغے کے صیغے ہیں ، ان کا ماخذ رحمت ہے اور رحمت الہٰی سے مراد اس کا وہ انعام و اکرام ہے جس سے وہ اپنی مخلوق کو سرفراز فرماتا رہتا ہے ، وجود ، زندگی علم ، حکمت ، قوت ، عزت ، اور عمل صالح کی توفیق سب اس کی رحمت کے مطاہر ہیں ، یہ اس کی بے پایان رحمت ہی تو ہے جس نے کسی استحقاق کے بغیر انسان کی جسمانی اور روحانی بالیدگی کے سب سامان فراہم فرمادئیے ، یہ اس کی بے حد و بے حساب رحمت ہی تو ہے کہ ہماری لگاتار ناشکریوں اور نافرمانیوں کے باوجود وہ اپنے لطف و کرم کا دروازہ بند کرتا ، کبھی آپ نے غور فرمایا کہ قرآن اللہ تعالٰی کی جس صفت کا سب سے پہلے ذکر کرتا ہے وہ صفت قہاریت و جباریت نہیں بلکہ صفت رحمانیت و رحیمیت ہے یہ اس لئے کہ بندہ کا جو تعلق اللہ تعالٰی سے ہے اُس کا دارومدار خوف و ہراس اور رعب و دبدبہ پر نہ ہو بلکہ رحمت و محبت پر ہو ، کیونکہ یہی وہ اکسیر ہے جس سے انسان کی خفتہ صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں ، اور پنہاں توانائیاں آشکار، اور یہی معراج انسانیت ہے کہ انسان اپنے آپ کو عیاں دیکھ لے بعض حق نا شناس کہتے ہیں کہ اسلام کا خدا خونی ہے اور اپنے ماننے والوں کو خونخواری سکھاتا ہے ، کاش وہ اسلام کی مقدس کتاب کے پہلے صفحہ کی پہلی آیت ہی پڑھ لیتے تو انھیں پتہ چل جاتا کہ اسلام کا خدا خونخوار نہیں ،الرحمٰن ہے ۔ اس کی رحمت کا وسیع دامن کائنات کے ذرّہ ذرّہ کو اپنے آغوش لطف و کرم میں لیے ہے، اسلام کا خدا سفّاک نہیں بلکہ الرحیم ہے اس کی رحمت کا بادل ہروقت برستا ہی رہتا ہے ۔
جیسے پہلے عرض کیا یہ دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں ، ان کا معنی صرف رحمت کرنے والا نہیں بلکہ بہت اور ہر وقت رحمت کرنے والا ہے ، لیکن الرحمٰن میں الرحیم سے بھی زیادہ مبالغہ ہے یعنی بہت ہی رحم فرمانے والا ۔
اتنی رحمت فرمانے والا جس سے زیادہ کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ،
معناہ المنعم الحقیقی البالغ فی الرحمۃ غایتھا وذالک لا یصدق علی غیرہ ( بیضاوی )
اسی لئے الرحمٰن کا اطلاق بجز ذات الہٰی کے کسی پر نہیں ہوتا ۔
مسئلہ بسم اللہ الخ کلام الہٰی ہے ،دو سورتوں کو الگ کرنے کے لئے اس کا نزول ہوا ، نہ یہ سورہ فاتحہ کی آیت ہے نہ کسی اور سورت کی ، ہاں سورۃ النمل کی ایک آیت کا جزو ہے ، اس لئے احناف و مالکیہ کے نزدیک سورہ فاتحہ کی طرح نماز میں اسے بلند آواز سے پڑھنا منع ہے ۔

Attari1980
06-27-2009, 02:26 PM
الحمد للہ رب العالمین

سب تعریفیں 4 اللہ کے لئے جو مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ہے 5 سارے جہانوں کا 6 ۔

4 : ہر خوبی و کمال جس کا ظہور اختیار اور ارادہ سے ہو ، اس کی ستائش و ثناء کو عربی میں حمد کہتے ہیں ، تو اس لفظ حمد نے اس حقیقت کو بے حجاب کردیا کہ اللہ تعالٰی کا صفات کمال سے متصف ہونا اضطراری اور غیر اختیاری نہیں بلکہ اس کی اپنی مرضی اور ارداہ کی جلوہ نمائی ہے، کمال کہیں بھی ہو جمال کسی روپ میں ہو اسی کی کرشمہ سازی ہے ، اسی کی با اختیار تدبیر کا اعجاز ہے تو ستائش و تعریف کسی کی بھی کی جائے حقیقت میں اسی ذات بے ہمتا کی ہے جس کی قدرت و اختیار سے اس عالم رنگ و بو کی ساری رنگینیاں اور رعنائیاں رُو پذیر ہیں اسی لئے فرمایا الحمد للہ ۔
سورہ فاتحہ کا آغاز الحمد سے کیا ، اس سے مراد اس امرکی طرف بھی اشارا ہے کہ سالک جب راہ طلب میں قدم رکھے تو پہلے اپنے رب کی حمد کرے جس نے اس راہ گامزن ہونے کی توفیق اسے بخشی جس نے منزل مقصود کی لگن اس کے دل میں پیدا کی کیونکہ !
میری طلب بھی انھیں کے کرم کا صدقہ ہے
قدم یہ اٹھتے نہیں ہیں اٹھائے جاتے ہیں

نیز اس سورہ میں دعا بھی ہے اور دعا کے آداب سے یہ بھی کہ مولائے کریم جس کے سامنے وہ دامن طلب پھیلا رہا ہے اس کی بخشش بے انداز اور اس کی عنایت جہاں پرور کا اعتراف کرے ۔

5 : رب مصدر ہے اس کا معنی ہے تربیت اور تربیت عربی میں کہتے ہیں تبلیغ الشئی الی کمالہ بحسب استعدادہ الازلی شئیا فشئیا ( روح المعانی )
کسی چیز کو اس کی ازلی استعداد و فطری صلاحیت کے مطابق آہستہ آہستہ مرتبہ کمال تک پہنچانا ، اللہ تعالٰی کی بے شمار نعمتوں نے منعم علیہ کے اعتبار سے اعلٰی ترین نعمت تربیت ہے اس لئے حمد کے فورا بعد اس کا ذکر فرما کر حامد کو یاد دلایا کہ جس کی تو حمد کر رہا ہے وہی ہر حمد کے لائق ہے ، کیونکہ اسی نے تجھے ضعف و ناتوانی ، جہالت و بے بسی کی حالت سے نکال کر اس منزل تک پہنچایا ۔

6: عالمین عالم کی جمع ہے اور یہ ماخوذ ہے عَلم بمعنی علامت و نشانی سے ، کیونکہ ہرچیز اپنے پیدا کرنے والے کا پتہ دیتی ہے نیز اس میں اس لطیف نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام کا خدا کسی خاص قوم ، نسل اور وطن کا خدا نہیں تاکہ اس کی نوازشات کسی خاص قوم ونسل کے ساتھ ہی مخصوص ہوں بلکہ اس کی ربوبیت کا رشتہ کائنات کی ہرشے کے ساتھ یکساں ہے ، اور اسی لئے اس کے لطف و احسان کے سب مساوی طور پر حق دار ہیں بشرطیکہ وہ اس کے احکام کی بجا آوری سے اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کر دیں ۔



دوسری آیت
الرحمٰن الرحیم

بہت ہی مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا


تیسری آیت !!!
مالک یوم الدین ۔۔۔

مالک ہے7 روز جزا کا 8

7 مالک کہتے ہیں المتصرف فی الاعیان المملوکۃ کیف شاء ( بیضاوی )
وہ ہستی جو اپنے ملک میں جو چاہیے کرسکے ،اس لفظ سے ان عقائد باطلہ کی تروید ہوگئی جن میں ہندوستان کے مشرک اور کئی دوسری قومیں مبتلا تھیں یعنی خدا ہر مجرم کو سزا دینے پر مجبور ہے اسے معاف کرنے کا ہرگز اختیار نہیں قرآن نے فرمایا وہ مالک و مختار ہے اور ہر چیز ، جن و انس سب اس کی ملکیت ہیں جیسے چاہے ان سے سلوک فرمائے ، اگر مجرم کو سزا دینا چاہے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا اور اگر بخشنا چاہے تو اسے کوئی ٹوک نہیں سکتا ۔

8:
دین کا معنی ہے حساب اور جزا ،لبید کہتا ہے حصادک یوما مازرعت وانما یبدان الفتی یوما کما ھو دائن ثواب وعذاب کی تعبیر لفظ دین سے کی تا کہ پتہ چلے کہ یہ ثواب و عذاب بلاوجہ نہیں بلکہ ان کے اپنے اعمال کا طبعی اثر ہے جس سے مفر نہیں ، مقصد یہ ہے کہ انسان گناہوں کی لذت میں کھو کر ان بُرے نتائج نے بے خبر نہ ہوجائے جو رونما ہوکر رہیں گے ، اپنی عمر ناپائیدار اور اس کی فنا پذیر راحتوں اور عزتوں پر مغرور ہو کر اس دن کو نہ بھول بیٹھے جب کہ انصاف کے ترازو میں اس کا ہر چھوٹا بڑا نیک و بد عمل تولا جائے گا ، اس میں شک نہیں کہ وہ رب ہے ، اس میں کلام نہیں کہ اس کی رحمت بے پایاں ہے لیکن اس کی یہ صفت کمال بھی ہر وقت پیش نظر رہے کہ وہ عادل ہے ، حق تو یہ ہے کہ عدل کے بغیر اس کی صفات ربوبیت و رحمت کا کامل ظہور ہو ہی نہیں سکتا ۔ کان کھول کر سن لو وہ دن آنے والا ہے جب سطوت و جبروت کے سب موہوم پیکر مٹ جائیں گے ، اکڑی ہوئی سب گردنیں جھُک جائیں گی ، ظاہر و باطن میں اسی کی فرمانروائی ہوگی جو حقیقی فرماں رواہے ۔
کتنی افسوسناک حقیت ہے کہ وہ امت جس کے دین کے بنیادی عقائد میں روزجزا پر ایمان لانا ہے ، میدان عمل میں اس کی غالب اکثریت میں اس ایمان کا کوئی اثر محسوس نہیں کیا جاتا وہ روز حساب اور مکافات عمل کے قانون سے یوں غافل ہیں گویا کسی نے انھیں یہ بات بتائی ہی نہیں ۔



چوتھی آیت
ایاک نعبد وایاک نستعین ۔۔۔۔۔
تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں 9 اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں 10 ۔

9 :
عبادت کیا ہے ؟ آ پ کو لغت و تفسیر کی ساری کتابوں میں اس کا یہ معنی ملے گا اقصی غایۃ الخضوع والتذلل ۔ یعنی حد درجہ کی عاجزی اور انکسار ۔
مفسرین اس کی مثال سجدہ سے دیتے ہیں ، حالانکہ صرف سجدہ ہی عبادت نہیں بلکہ حالت نماز میں تمام حرکات و سکنات عبادت ہیں ، ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونا ، رکوع اور رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑ کر کھڑے ہونا ،سجدہ اور اس کے بعد حالت التحیات میں دوزانو بیٹھنا ، سلام کیلئے دائیں بائیں منہ پھیرنا یہ سب عبادت ہیں ، اگر عبادت صرف تذلل و انکسار کے آخری مرتبہ کا نام ہے اور یہ آخری سجدہ ہی ہے تو کیا یہ باقی چیزیں عبادت نہیں ۔ اسکا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ، اور اگر یہ ساری چیزیں مطلقاً عبادت ہیں تو اگر کوئی اپنے استادکے سامنے اور بیٹا اپنے باپ ک سامنے دوزانو ہو کر بیٹھتا ہے یا ان کی آمد پر کھڑا ہوجاتا ہے تو کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ اُس نے اپنے استاد کی یا باپ کی عبادت کی اور ان کو اپنا معبود بنا لیا ، حاشاوکلا ۔ پھر وہ کونسی چیز ہے جو ان حرکات و سکنات کو اگر یہ نماز میں ہوں تو عبادت بنا دیتی ہے اور یوں کھڑے ہونے کو (ہاتھ باندھے یا کھولے ہوئے ) اور اس طرح بیٹھنے کو دائیں بائیں منہ پھیرنے کو تذلّل و انکسار کے آخری مرتبہ پر پہنچا دیتی ہے ، اور اگر یہی امور نماز سے خارج ہوں تو نہ ان میں غایۃ خضوع ہے اور نہ یہ عبادت متصور ہوتے ہیں ۔تو اس کا ممیز ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ جس ذات کے لئے اور جس کے سامنے آپ یہ افعال کر رہے ہیں ، اس کے متعلق آپ کا عقیدہ کیا ہے ، اور اگر آپ اس کو اللہ اور معبود یقین کرتے ہیں تو یہ سب اعمال عبادت ہیں ، اور سب میں غایۃ تذلل و خضوع پایا جاتا ہے ، لیکن اگر آپ اس کو عبد اور بندہ سمجھتے ہیں ، نہ خدا ، نہ خدا کا بیٹا ، نہ اس کی بیوی ، نہ اس کا اوتار تو یہ اعمال عبادت نہیں کہلائیں گے ، ہاں آپ ان کو احترام ، اجلال اوت تعظیم کہہ سکتے ہیں ۔
البتّہ شریعت محمدیہ علی صاحبہا اجمل الصلاۃ واطیب السلام میں غیر خدا کے لئے سجدہ تعظیمی بھی ممنوع ہے ، یہ سمجھ لینے کے بعد اب یہ بات خود بخود واضح ہوگئی کہ اللہ تعالٰی کی ذات پاک کے بغیر کوئی دوسری چیز ایسی نہیں جس کی عبادت شرعاً یا عقلاً درست ہو ، سب سے بالا تر اور قوی تر وہ ، سب کا خالق اور سب کو اپنی تربیت سے مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ، وہ لطف و کرم کا پیہم مینہ برسانے والا وہ ، بندہ ہزار خطائیں کرے لاکھوں جرم کرے اپنی رحمت سے معاف فرمانے والا وہ ، اور قیامت کے دن ہر نیک و بد کی قسمت کا فیصلہ فرمانے والا وہ ، تو اسے چھوڑ کر انسان کسی غیر کی عبادت کرے تو آخر کیوں ؟
بلکہ اس کے بغیر اور ہے ہی کون جو معبود اور اللہ ہو اور اس کی پرستش کی جائے ؟ اسی لئے قرآن نے ہمیں صرف یہی تعلیم نہیں دی کہ نعبدک کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں کیونکہ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تیرے ساتھ اوروں کی بھی ، بلکہ یہ سبق سکھایا کہ ایاک نعبد ، صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور کسی کی بھی نہیں کرتے ، مفسرین کرام نے ایاک کو مقدم کرنے میں حصر و تخصیص کے علاوہ دیگر لطائف کا بھی ذکر فرمایا ہے ، فرماتے ہیں کہ یہاں تین چیزیں ہیں ، عابد ، عبادت اور معبود ، عارف کو چاہئیے کہ اس مقام پر اپنے آپ کو بھی بھول جائے ، عبادت کو بھی مقصود نہ بنائے بلکہ اس کی نگاہ ہو تو صرف اپنے معبود حقیقی پر تاکہ اس کے انوار جمال و جلال کے مشاہدہ میں استغراق کی نعمت سے سرفراز کیا جائے ، اس لئے فرمایا ایّاک نعبد ۔ عابد واحد ہے لیکن صیغہ جمع کا استعمال کر رہا ہوں ، اس میں نکتہ یہ ہے کہ اپنی ناقص عبادت کو مقرّبین بارگاہ صمدیّت کی اخلاص و نیاز میں ڈوبی ہوئی عبادت کے ساتھ پیش کرے تاکہ ان کی برکت سے اس کی عبادت کو بھی شرف پذیرائی نصیب ہو ۔

sweet madina very lovely
06-27-2009, 07:33 PM
:bis
:saw
:ja

Tariq Raza
07-16-2009, 08:00 AM
:ja