PDA

View Full Version : کامل ایمان والا کون



Attari1980
07-09-2009, 11:23 AM
حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: “ قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کوئی بندہ اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے ( مسلمان ) بھائی کے لئے بھی اسی چیز کو پسند نہ کرے جسے وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔“ ( بخاری و مسلم )
فائدہ:
مومن کی ایک بنیادی صفت یہ ہے کہ وہ عالی ظرف ہوتا ہے، وہ تنگ نظر نہیں ہوتا، وہ دوسروں کے لئے بھی وہ بات پسند کرتا ہے جو اسے خود اپنے لئے پسند ہو، وہ اگر اپنا بدخواہ نہیں ہے تو دوسروں کا بھی بدخواہ نہیں ہو سکتا، آج مسلمان اگر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اسی ایک تعلیم پر عمل کرنے لگ جائیں تو کتنے ہی جھگڑوں اور فتنہ و فساد سے نجات مل جائے، اس لئے کہ اکثر فتنہ و فساد اور جھگڑوں کے پیچھے خودغرضی، تنگ نظری اور سطحیت ہی کار فرما ہوتی ہے۔
مومن سب کا ہمدرد و غمگسار ہوتا ہے، وہ خودغرض اور تنگ نظر نہیں ہوتا، اسے اپنے مسلمان بھائی سے الفت و محبت ہوتی ہے، سارے مسلمان اس کے دینی بھائی ہیں، ایسے شخص کے اندر لازماً شان محبوبی پائی جائے گی جسے سارے مسلمانوں سے محبت اور ہمدردی ہوگی، ایسا شخص جو نہ مومن بھائی سے محبت و ہمدردی رکھتا ہے اور نہ اس کے مشکل وقت میں اس کے کام آتا ہے، اور جب اس پر مشکل لمحات آتے ہیں تو اسے بےیارو مددگار چھوڑ دیتا ہے، ایمان کی حقیقی لذت سے ناآشنا ہے، اس کا وجود بے معنی ہے، وہ ایک ایسے پھول کے مشابہ ہے جو رنگ و بو سے محروم ہے۔
آج مسلمان صرف اپنی ذات کے خول میں مرکوز ہو کر رہ گئے ہیں اور دشمنان دین اور کافروں کے ظاہری وسائل اور طاقت سے خوف کھا کر اپنے مومن بھائی کو تنہا و یکتا چھوڑ رہے ہیں، اور اپنی غیرت ایمانی کا سودا محض اپنے ذاتی مفادات کے لئے کر رہے ہیں، حالانکہ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی کا واضح ارشاد ہے:
“ یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مومن ہو۔ کفر میں آگے بڑھنے والے لوگ تجھے غمناک نہ کریں، یقین مانو کہ یہ اللہ تعالٰی کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، اللہ تعالٰی کا ارادہ ہے کہ ان کے لئے آخرت کا کوئی حصہ عطا نہ کرے، اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ کفر کو ایمان کے بدلے خریدنے والے ہرگز ہرگز اللہ تعالٰی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور ان ہی کے لئے المناک عذاب ہے۔“ ( آل عمران، 177۔175 )
یعنی یہ صرف شیطان کا وسوسہ اور وہم ہے کہ یہ کفار بڑے مظبوط اور طاقتور ہیں، اور جب وہ تمہیں اس وہم میں مبتلا کرے تو انسان کو صرف اللہ تعالٰی پر ہی بھروسہ کرنا چاہئے اور اسی سے رجوع کرنا چاہئے، اسی کو راضی کرنا چاہئے نہ کہ کافروں اور مشرکوں کو، کیونکہ اللہ تعالٰی ہی ہمارے لئے کافی ہے اور وہی ہمارا مددگار ہے جیسا کہ خود اس کا فرمان ہے:“ کیا اللہ تعالٰی اپنے بندے کے لئے کافی نہیں؟“۔ ( الزمر۔ 36 )
یعنی جب اللہ تعالٰی بندے کا حامی و ناصر ہو تو کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہی ان سب کے مقابلے میں ہماری مدد کو کافی ہے۔
اللہ تعالٰی ہم سب کو اس بات کی صحیح فہم دے کہ ہم اپنے مومن بھائی کے لئے بھی وہی کچھ پسند کریں جو اپنے لئے کریں۔

sweet madina very lovely
07-09-2009, 10:41 PM
:bis
:saw
:ja

Waqar Ali
07-12-2009, 05:49 AM
:ja

Administrator
07-12-2009, 11:32 AM
:ja

Qadri
07-16-2009, 08:31 AM
:ja

Saif
07-18-2009, 11:57 PM
JazakAllah Kheir!

Qasim Azhar
07-21-2009, 12:14 AM
:ja

Tariq Raza
07-31-2009, 09:46 PM
:ja

yasir456
08-07-2009, 07:04 PM
:ja