PDA

View Full Version : آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا مہنہ



Attari1980
07-27-2009, 11:04 AM
لحمدللہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علی سیدالمرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم ط بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ط

آقا کا مہینہ
عاشق درود و سلام کا مقامحضرت سیدنا شیخ ابوبکر شبلی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ایک روز بغداد معلٰٰی کے جّید عالم حضرت سیدنا ابو بکر مجاہد علیہ رحمۃ اللہ الواحد کے پاس تشریف لائے۔ حضرت سیدنا ابو بکر مجاہد علیہ رحمۃ اللہ الواحد نے فوراً کھڑے ہوکر ان کو گلے لگالیا اور پیشانی چوم لی، پھر بڑی تعظیم کے ساتھ اپنے پاس بٹھا لیا۔ حاضرین نے حضرت سیدنا ابو بکر مجاہد علیہ رحمۃ اللہ الواحد سے عرض کیا، کہ آپ اور اہل بغداد آج تک انہیں دیوانہ کہتے رہے ہیں مگر آج ان کی اس قدر تعظیم کیوں ؟ حضرت سیدنا ابو بکر مجاہد علیہ رحمۃ اللہ الواحد نے جواب دیا کہ میں نے یوں ہی ایسا نہیں کیا، الحمدللہ آج رات میں نے خواب میں یہ ایمان افروز منظر دیکھا کہ حضرت سیدنا ابو بکر شبلی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے تو سرکار دو عالم، نور مجسم، شاہ بنی آدم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہوکر ان کو سینے سے لگا لیا اور پیشانی کو بوسہ دے کر اپنے پہلو میں بٹھا لیا۔ میں نے عرض کیا، یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ! شبلی پر اس قدر شفقت کی وجہ ؟ اللہ عزوجل کے محبوب، دانائے غیوب، منزہ عن العیوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے (غیب کی خبر دیتے ہوئے) فرمایا کہ یہ ہر نماز کے بعد یہ آیت پڑھتا ہے۔
لقد جاءکم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمومنین روءف رحیم ہ
ترجمہ کنزالایمان:۔ بیشک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا ناگراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر کمال مہربان۔
اور اس کے بعد مجھ پر درود پڑھتا ہے۔ (جذب القلوب اردو ص271)
صلوا علی الحبیب ! صلی اللہ تعالٰی علٰی محمد


سبز پرچہ

امیر المومنین حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ایک مرتبہ شعبان المعظم کی پندرہویں شب عبادت میں مصروف تھے۔ سر اٹھایا تو ایک “سبز پرچہ“ ملا جس کا نور آسمان تک پھیلا ہوا تھا، “ھذہ برائۃ من النار من الملک العزیز لعبدہ عمر بن عبدالعزیز“ یعنی خدائے مالک و غالب اللہ عزوجل کی طرف سے یہ “جہنم کی آگ سے براءت نامہ“ ہے جو اس کے بندے عمر بن عبدالعزیز کو عطا ہوا ہے۔“ (تفسیر روح البیان ج8، ص402۔ مطبوعہ دارالفکر بیروت)
سبحٰن اللہ عزوجل ! میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اس حکایت میں جہاں امیر المومنین سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عظیم فضیلت کا اظہار ہے وہیں شب براءت کی عظمت و شرافت کا ظہور بھی ہے۔ الحمدللہ عزوجل یہ مبارک شب جہنم کی بھڑکتی آگ سے براءت (یعنی چٹکارا) پانے کی رات ہے اسی لئے اس رات کو “شب براءت“ کہا جاتا ہے۔ یہ عظیم رات ہی کیا، بلکہ سارے کا سارا شعبان ہی برکتوں اور رحمتوں کی کان ہے، اس کی عظمت و شان کے بیان کیلئے تو اتنا ہی کافی ہے کہ


آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا مہینہ

رسول اکرم، نور مجسم، شاہ بنی آدم، شافع امم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا شعبان المعظم کے بارے میں فرمان مکرم ہے،
“شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔“ (الجامع الصغیر رقم الحدیث 4889، ص301 مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)


شعبان کی تجلیات و برکات

لفظ “شعبان“ میں پانچ حروف ہیں۔ ش، ع، ب، ا، ن۔ سیدنا غوث اعظم، محبوب سبحانی، قندیل نورانی، شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ الربانی نقل فرماتے ہیں، “ش سے مراد شرف یعنی بزرگی، ع سے مراد علو یعنی بلندی، ب سے مراد بع یرنی بھلائی و احسان، ا سے مراد الفت اور ن سے مراد نور ہے تو یہ تمام چیزیں اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو اس مہینے میں عطا فرماتا ہے، یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، برکات کا نزول ہوتا ہے، خطائیں ترک کر دی جاتی ہیں اور گناہوں کا کفارہ ادا کیا جاتا ہے، اور خیر البریہ سیدالورٰی، جناب محمد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود پاک کی کثرت کی جاتی ہے، اور یہ نبی مختار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کا مہینہ ہے۔“ (غنیۃ الطالبین ج1 ص246، داراحیاء التراث العربی بیروت)


صحابہء کرام کا جذبہ علیہم الرضوان

حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں، “ماہِ شعبان المعظم کا چاند نظر آتے ہی صحابہء کرام علیہم الرضوان تلاوتِ قرآن پاک میں مشغول ہو جاتے، اپنے اموال کی زکوٰۃ نکالتے تاکہ کمزور و مسکین لوگ ماہِ رمضان کے روزوں کے لئے تیاری کر سکیں، حکام قیدیوں کو طلب کرکے جس پر “حد“ (سزا) قائم کرنا ہوتی اُس پر حد قائم کرتے بقیہ کو آزاد کر دیتے، تاجر اپنے قرضے ادا کر دیتے، دوسروں سے اپنے قرضے وصول کر لیتے۔ (یوں ماہِ رمضان المبارک کا چاند نظر آنے سے قبل ہی اپنے آپ کو فارغ کر لیتے) اور رمضان شریف کا چاند نظر آتے ہی غسل کرکے (بعض حضرات) اعتکاف میں بیٹھ جاتے۔“ (غنیۃ الطالبین ج1 ص246)


موجودہ مسلمانوں کا جذبہ

سبحٰن اللہ عزوجل ! پہلے کے مسلمانوں کو عبادت کا کس قدر ذوق ہوتا تھا ! مگر افسوس ! آج کل کے مسلمانوں کو زیادہ تر حُصول مال ہی کا شوق ہے۔ پہلے کے مدنی سوچ رکھنے والے مسلمان متبرک ایّام میں رب الانام عزوجل کی زیادہ سے زیادہ عبادت کرکے اس کا قرب حاصل کرنے کی کوششیں کرتے تھے اور آج کل کے مسلمان مبارک ایّام خصوصاً ماہِ رمضان شریف میں دنیا کی ذلیل دولت کمانے کی نئی نئی ترکیبیں سوچتے ہیں۔ اللہ عزوجل اپنے بندوں پر مہربان ہوکر نیکیوں کا اجر و ثواب خوب بڑھا دیتا ہے۔ لیکن بدنصیب لوگ رمضان المبارک میں اپنی اشیاء کا بھاؤ بڑھا کر اپنے ہی مسلمان بھائیوں میں لوٹ مار مچا دیتے ہیں۔

اے خاصہء خاصان رسل وقت دعاء ہے
اُمت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے
فریاد ہے اے کشتیء اُمت کے نگہبان
بیڑہ یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہمارے دلوں کے چین، سرور کونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ماہِ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنا پسند فرماتے۔


نفلی روزوں کا پسندیدہ مہینہ

حضرت سیدنا عبداللہ بن ابی قیس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اُم المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو فرماتے ہوئے سنا۔ میرے سرتاج، صاحب معراج صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا پسندیدہ مہینہ شعبان المعظم تھا کہ اس میں روزے رکھا کرتے پھر اسے رمضان المبارک سے ملا دیتے۔ (ابو داؤد۔ ج2، ص319، رقم الحدیث 2431، مطبوعہ دارالفکر بیروت)
حضرت سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں، “میں نے عرض کیا، یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں دیکھتا ہوں کہ جس طرح آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم شعبان میں روزے رکھتے ہیں اس طرح کسی بھی مہینے میں نہیں رکھتے۔“ فرمایا، “رجب اور رمضان کے بیچ میں یہ مہینہ ہے، لوگ اس سے غافل ہیں، اس میں لوگوں کے اعمال اللہ رب العٰلمین عزوجل کی طرف اٹھائے جاتے ہیں۔ اور مجھے یہ محبوب ہے کہ میرا عمل اس حال میں اٹھایا جائے کہ میں روزہ دار ہوں۔“ (نسائی رقم الحدیث 2353 ج4 ص207 مطبوعہ دارالفکر بیروت)
حضرت سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے نہ رکھا کرتے بلکہ پورے شعبان ہی کے روزے رکھ لیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے کہ اپنی استطاعت کے مطابق عمل کرو کہ اللہ عزوجل اس وقت تک اپنا فضل نہیں روکتا جب تک تم اُکتا نہ جاؤ۔“ (صحیح البخاری، ج2، ص248 رقم الحدیث 1970 مطبوعہ دارالفکر بیروت)


پورے شعبان کے روزے رکھنا سنّت ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! پورے شعبان المعظم کے روزے رکھنا سنّت مبارکہ ہے جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں گزرا اس لئے ہو سکے تو ہر سال ورنہ زندگی میں کم از کم ایک بار پورے ماہِ شعبان المعظم کے روزے رکھ کر اس سنّت پر بھی عمل کر لینا چاہئیے۔

تری سنّتوں پہ چل کر مری روح جب نکل کر
چلے تم گلے لگانا مدنی مدینے والے

مرنے والوں کے نام

حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں، “تاجدار رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پورے شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے۔ فرماتی ہیں، “ کہ میں نے عرض کی، “یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم! “کیا سب مہینوں میں آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک زیادہ پسندیدہ شعبان کے روزے رکھنا ہے ؟“ تو محبوب رب العباد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اللہ عزوجل اس سال مرنے والی ہر جان کو لکھ دیتا اور مجھے یہ پسند ہے کہ میرا وقت رخصت آئے اور میں روزہ دار ہوں۔“ (مسند ابو یعلٰی ج4 ص277 رقم الحدیث 4890 مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)


بھلائیوں والی راتیں

ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں، میں نے نبی کریم، رؤف رحیم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم کو فرماتے ہوئے سنا، اللہ عزوجل (خاص طور پر) چار راتوں میں بھلائیوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔
(1) بقر عید کی رات۔
(2) عید الفطر کی رات ۔
(3) شعبان کی پندرہویں رات کہ اس رات میں مرنے والوں کے نام اور لوگوں کا رزق اور (اس سال) حج کرنے والوں کے نام لکھے جاتے ہیں۔
(4) عرفہ (نو ذوالحجہ) کی رات ۔ اذان (فجر) تک۔ (الدر المنثور ج7 ص402 دارالفکر بیروت)


نازک فیصلے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! پندرہ شعبان المعظم کی رات کتنی نازک ہے! نہ جانے قسمت میں کیا لکھ دیا جائے، آہ ! بعض اوقات بندہ غفلت میں پڑا رہ جاتا ہے اور اس کے بارے میں کچھ کا کچھ ہو چکا ہوتا ہے۔ چنانچہ “غنیۃ الطالبین“ میں ہے، “بہت سے کفن دُھل کر تیار رکھے ہوتے ہیں مگر کفن پہننے والے بازاروں میں گھوم پھر رہے ہوتے ہیں، بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اُن کی قبریں کھدی ہوئی تیار ہوتی ہیں مگر ان میں دفن ہونے والے خوشیوں میں مست ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں حالانکہ اُن کی ہلاکت کا وقت قریب آ چکا ہوتا ہے۔ بہت سے مکانات کی تعمیر کا کام مکمل ہونے والا تیار ہوتا ہے مگر مالک مکان کی موت کا وقت بھی قریب آ چکا ہوتا ہے۔“ (غنیۃ الطالبین ج1 ص251)

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

گناہگاروں پر کرم

سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے، حضور سراپا نور، فیض گنجور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، “میرے پاس جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور کہا یہ شعبان کی پندرہویں رات ہے اس میں اللہ تعالٰی جہنم سے اتنوں کو آزاد فرماتا ہے جتنے بنی کلب کی بکریوں کے بال ہیں مگر مشرک اور عداوت والے اور رشتہ کاٹنے والے اور (ٹخنوں سے نیچے) کپڑا لٹکانے والے اور والدین کی نافرمانی کرنے والے اور شراب کے عادی کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرماتا۔“ (شعب الایمان ج3 ص383 حدیث3873 مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
حضرت سیدنا امام احمد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہما سے جو روایت نقل کی اس میں قاتل کا بھی ذکر ہے۔ (مسند امام احمد بن حنبل ج2 ص589 الحدیث 6653 دارالفکر بیروت)
حضرت سیدنا مرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، تاجدار رسالت، سراپا رحمت، محبوب رب العزت عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اللہ عزوجل شعبان کی پندرہویں شب میں تمام زمین والوں کو بخش دیتا ہے سوائے مشرک اور عداوت والے کے۔ (المتجر الرابح ص376 رقم الحدیث 769 دار خضر بیروت)


حضرت داؤد علیہ السلام کی دعاء

امیر المؤمنین حضرت مولٰی مشکل کشا سیدتنا علی المرتضٰی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم پندرہویں شعبان المعظم کی رات اکثر باہر تشریف لاتے۔ ایک بار اسی طرح شب براءت میں باہر تشریف لائے اور آسمان کی طرف نظر اٹھا کر فرمایا، ایک مرتبہ اللہ کے نبی حضرت سیدنا داؤد علٰی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے پندرہویں شعبان کی رات آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا، یہ وہ وقت ہے کہ اس وقت میں جس شخص نے جو بھی دعاء اللہ عزوجل سے مانگی اس کی دعاء اللہ عزوجل نے قبول فرمائی اور جس نے مغفرت طلب کی اللہ عزوجل نے اس کی مغفرت فرما دی، بشرطیکہ دعاء کرنے والا عُشّار (ظلماً ٹیکس لینے والا)، جادوگر، کاہن، نُجومی، (ظالم) پولیس والا، حاکم کے سامنے چغلی کھانے والا، گویّا اور باجا بجانے والا نہ ہو، پھر یہ دعاء کی، اللھم رب داود اغفر لمن دعاک فی ھذہ اللیلۃ واستغفرک فیھا یعنی اے اللہ عزوجل ! اے داؤد (علیہ السلام) کے رب جو اس رات میں تجھ سے دعاء کرے یا مغفرت طلب کرے تو اُس کو بخش دے۔“ (ماثبت بالسنۃ ص354)


محروم لوگ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! شب براءت بے حد اہم رات ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ اس کی قسمت میں کیا لکھ دیا گیا۔ لٰہذا کسی صورت سے بھی اس رات کو غفلت میں نہیں گزارنا چاہئیے اس رات خصوصیت کے ساتھ رحمتوں کی چھاچھم بارشیں ہوتی ہیں۔ اس مبارک رات میں اللہ تبارک و تعالٰی “بن کلب“ کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ اُمتیوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ “قبیلہ ء بنی کلب“ قبائل عرب میں سب سے زیادہ بکریاں پالتا تھا۔ آہ ! کچھ بد نصیب ایسے بھی ہیں جن پر اس شب براءت یعنی چھٹکارا پانے کی رات بھی نہ بخشے جانے کی وعید ہے چنانچہ حجۃ الاسلام حضرت امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں۔
(1) شراب کا عادی
(2) زنا کا عادی
(3) ماں باپ کا نافرمان
(4) قطر تعلق کرنے والا
(5) فتنہ باز
(6) چغل خور کی اس رات بخشش نہیں۔
ایک روایت میں فتنہ باز کی جگہ تصویریں بنانے والا آیا ہے۔ (مکاشفۃ القلوب ص304، دارالکتب العلمیۃ بیروت)
اسی طرح کاہن، جادوگر، تکبر کے ساتھ پاجامہ یا تہبند ٹخنوں کے نیچے لٹکانے والے، دو مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈلوانے والے، اور کسی مسلمان سے کینہ رکھنے والے پر بھی اس رات مغفرت کی سعادت سے محرومی کی وعید ہے، چنانچہ تمام مسلمانوں کو چاہئیے کہ متدکرہ گناہوں میں سے اگر معاذاللہ کسی گناہ میں ملوث ہوں تو وہ اس شب براءت کے آنے سے پہلے ہی سچّی توبہ کر لیں اور تمام معاملات صاف کر لیں۔
اعلٰی حضرت، امام اہلسنّت، عظیم البرکت، مجدد دین و ملت، پروانہء شمع رسالت مولیٰنا شاہ احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن نے اپنے ایک ارادتمند کو مکتوب شریف روانہ کیا جس کا مضمون من و عن پیش کیا جاتا ہے۔


پیام امام اہلسنّت رضی اللہ تعالٰی عنہ

شب براءت قریب ہے، اس رات تمام بندوں کے اعمال حضرت عزت عزوجل میں پیش ہوتے ہیں۔ مولا عزوجل بطفیل حضور پرنور، شافع یوم النشور علیہ افضل الصلوٰۃ والسلام مسلمانوں کے ذنوب (گناہ) معاف فرماتا ہے مگر چند ان میں وہ دو مسلمان جو باہم دنیوی وجہ سے رنجش رکھتے ہیں فرماتا ہے، ان کو رہنے دو۔ جب تک آپس میں صُلح نہ کر لیں۔ ایک دوسرے کے حقوق ادا کر دیں یا معاف کرالیں کہ باذنہ تعالٰی حقوق العباد سے صحائف اعمال (یعنی اعمال نامے) خالی ہو کر بارگاہ عزت عزوجل میں پیش ہوں۔ حقوق مولٰی تعالٰی کے لئے توبہء صادقہ کافی ہے۔
التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ (یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اُس نے گناہ کیا ہی نہیں) ایسی حالت میں باذنہ تعالٰی ضرور اس شب میں اُمید مغفرت تامہ ہے بشرط صحت عقیدہ۔ وھو الغفور الرحیم۔ یہ سب مصالحت اخوان (یعنی بھائیوں میں صلح کرانا) و معافی حقوق بحمدہ تعالٰی یہاں سالہائے دراز سے جاری ہے۔ اُمید ہے کہ آپ بھی وہاں کے مسلمانوں میں اجراء کرکے من سن فی الاسلام سنۃ حسنۃ فلہ اجرھا واجر من عمل بھا الی یوم القیمۃ لا ینقص من اجورھم شئی (یعنی جو اسلام میں اچھی راہ نکالے اُس کیلئے اس کا ثواب ہے اور قیامت تک جو اس پر عمل کریں ان سب کا ثواب ہمیشہ اس کے نامہء اعمال میں لکھا جائے بغیر اس کے کہ ان کے ثوابوں میں کچھ کمی آئے۔) کے مصداق۔ اور اس فقیر کیلئے عفو و عافیت دارین کی دعاء فرمائیں۔ فقیر آپ کے لئے دعاء کرتا ہے اور کرے گا۔ (انشاءاللہ عزوجل) سب مسلمانوں کو سمجھا دیا جائے کہ وہاں نہ خالی زبان دیکھی جاتی ہے نہ نفاق پسند ہے۔ صلح و معافی سب سچے دل سے ہو۔ والسلام
فقیر احمد رضا قادری از بریلی


پندرہ شعبان کا روزہ

حضرت سیدتنا علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ نبی کریم، رءوف رحیم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم کا فرمان عظیم ہے، “جب پندرہ شعبان کی رات آئے تو اس میں قیام (یعنی عبادت) کرو اور دن میں روزہ رکھو۔ بے شک اللہ تعالٰی غروب آفتاب سے آسمان دنیا پر خاص تجلی فرماتا اور کہتا ہے، “ہے کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا کہ اُسے بخش دوں ! ہے کوئی روزی طلب کرنے والا کے اُسے روزی دوں ! ہے کوئی مصُیبت زدہ کہ اُسے عافیت عطا کروں ! ہے کوئی ایسا ! ہے کوئی ایسا ! اور یہ اُس وقت تک فرماتا ہے کہ فجر طلوع ہو جائے۔“ (سنن ابن ماجہ ج2 ص160 رقم الحدیث 1388 مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت)


فائدے کی بات

شب براءت میں اعمال نامے تبدیل ہوتے ہیں لٰہذا ممکن ہو تو چودھویں شعبان المعظم کو بھی روزہ رکھ لیا جائے تاکہ اعمال نامے کے آخری دن میں بھی روزہ ہو۔ 14 شعبان کو عصر کی نماز پڑھ کر مسجد میں نفلی اعتکاف کی نیّت سے ٹھہرا جائے تاکہ اعمال نامہ تبدیل ہونے کے آخری لمحات میں مسجد کی حاضری اور اعتکاف لکھا جائے۔


مغرب کے بعد چھ نوافل

معمولات اولیائے کرام رحمھم اللہ سے ہے کہ مغرب کے فرض و سنّت وغیرہ کے بعد چھ رکعت نفل دو دو رکعت کرکے ادا کئے جائیں۔ پہلی دو رکعتوں سے پہلے یہ نیّت کریں، “یااللہ عزوجل ان کی برکت سے درازیء عُمر بالخیر عطا فرمایا۔“ اس کے بعد دو رکعت میں یہ نیت کریں، “یااللہ عزوجل ان کی برکت سے بلاؤں سے حفاظت فرما۔“ اور اس کے بعد اکیس بار قل ھواللہ احد (پوری سورت) یا ایک بار سورہء یٰسین شریف پڑھیں بلکہ ہو سکے تو دونوں ہی پڑھ لیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک اسلامی بھائی یٰسین شریف بلند آواز سے پڑھیں اور دوسرے خاموشی سے سُنیں۔ اس میں یہ خیال رکھیں کہ دوسرا اس دوران زبان سے یٰسین شریف بلکہ کچھ بھی نہ پڑھے۔ انشاءاللہ عزوجل شروع ہوتے ہی ثواب کا انبار لگ جائے گا۔ ہر بار یٰسین شریف کے بعد “دعائے نصف شعبان“ بھی پڑھیں۔ یہ دعاء آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔


سگ مدینہ کی التجائیں

الحمدللہ عزوجل ! سگ مدینہ (راقم الحروف) کا سالہا سال سے شب براءت میں اوپر بتائے ہوئے طریقے کے مطابق چھ نوافل و تلاوت کا معمول ہے۔ مغرب کے بعد کی جانے والی یہ عبادت نفلی ہے۔ فرض و واجب نہیں اور مغرب کے بعد نوافل و تلاوت کی شریعت میں کہیں ممانعت بھی نہیں لٰہذا ممکن ہو تو تمام اسلامی بھائی اپنی اپنی مساجد میں اس کا اہتمام فرمائیں اور ڈھیروں ثواب کمائیں۔ اسلامی بہنیں اپنے اپنے گھر میں یہ اعمال بجا لائیں۔


سال بھر جادو سے حفاظت

شعبان المعظم کی پندرہویں رات کو سات پتے بیری (یعنی پیر کے درخت) کے پانی میں جوش دے کر (جب پانی نہانے کے قابل ہو جائے) غسل کریں انشاءاللہ العزیز عزوجل تمام سال جادو کے اثر سے محفوظ رہیں گے۔ (اسلامی زندگی ص113 مکتۃ اسلامیہ لاہور)


شب براءت اور قبروں کی زیارت

ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں، میں نے ایک رات سرور کائنات شاہ موجودات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو نہ دیکھا تو بقیع پاک میں مجھ مل گئے۔ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا، کیا تمہیں اس بات کا ڈر تھا کہ اللہ اور اس کا رسول عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم تمہاری حق تلفی کریں گے۔ میں نے عرض کیا، یارسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ! میں نے خیال کیا تھا کہ شاید آپ ازواجِ مطہرات میں سے کسی کے پاس تشریف لے گئے ہوں۔ تو آقائے دو جہان، رحمت عالمیان، مدینے کے سلطان صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، “بیشک اللہ تعالٰی شعبان کی پندرہویں رات آسمان دنیا پر تجلی فرماتا ہے، پس قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ گنہگاروں کو بخش دیتا ہے۔“ (سنن الترمذی ج2 ص183 الحدیث 739 مطبوعہ دارالفکر بیروت)


قبر پر موم بتّیاں جلانا

شب براءت میں اسلامی بھائیوں کا قبرستان جانا سنّت ہے۔ (اسلامی بہنوں کو شرعاً اجازت نہیں) قبروں پر موم بتّیاں نہیں جلا سکتے، ہاں اگر تلاوت وغیرہ کرنا ہو تو ضرورۃً اجالا حاصل کرنے کے لئے قبر سے ہٹ کر موم بتی جلا سکتے ہیں، اسی طرح حاضرین کو خوشبو پہنچانے کی نیّت سے قبر سے ہٹ کر اگربتّیاں جلانے میں حرج نہیں۔ مزارات اولیاء رحمھم اللہ پر چادر چڑھانا اور اُس کے پاس چراغ جلانا جائز ہے کہ اس طرح لوگ متوجہ ہوتے اور ان کے دلوں میں عظمت پیدا ہوتی اور وہ حاضر ہو کر اکتساب فیض کرتے ہیں۔ اگر اولیاء اور عوام کی قبریں یکساں رکھی جائیں تو بہت سارے دینی فوائد ختم ہو کر رہ جائیں۔


آتشبازی کا موجد کون ؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! الحمدللہ عزوجل شب براءت جہنم کی آگ سے براءت یعنی چھٹکارا پانے کی رات ہے۔ مگر آج کل کے مسلمانوں کو نہ جانے کیا ہو گیا ہے کہ وہ آگ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بجائے خود پیسے خرچ کرکے اپنے لئے آگ یعنی آتشبازی کا سامان خریدتے ہیں اور اس طرح خوب آتشبازی چلا کر اس مقدس رات کا تقدس پامال کرتے ہیں۔ “اسلامی زندگی“ میں حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنان فرماتے ہیں، “آتشبازی نمرود بادشاہ نے ایجاد کی جب کہ اس نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علٰی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کو آگ میں ڈالا اور آگ گلزار ہو گئی تو اُس کے آدمیوں نے آگ کے انار بھر کر ان میں آگ لگا کر حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کی طرف پھینکے۔“ (اسلامی زندگی 63)


آتشبازی حرام ہے

افسوس ! آتشبازی کی ناپاک رسم اب مسلمانوں میں زور پکڑتی جا رہی ہے، مسلمانوں کا کروڑ ہا کروڑ روپیہ ہر سال آتشبازی کی نذر ہو جاتا ہے اور آئے دن یہ خبریں آتی ہیں کہ فلاں جگہ آتشبازی سے اتنے گھر جل گئے اور اتنے آدمی جل کر مر گئے وغیرہ وغیرہ۔ اس میں جان کا خطرہ، مال کی بربادی اور مکان میں آگ لگنے کا اندیشہ ہے۔ پھر یہ کام اللہ عزوجل کی نافرمانی بھی ہے۔ حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنان فرماتے ہیں، “آتشبازی بنانا، بیچنا، خریدنا اور خریدوانا، چلانا اور چلوانا سب حرام ہے۔“ (اسلامی زندگی ص63)

تجھ کو شعبان معظم کا واسطہ
بخش دے رب محمد (عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) تو مری ہر اک خطا

دعائے نصف شعبان المعظم
http://www.nooremadinah.net/UrduBooks/AaqaKaMaheena/Page007.gif



بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللھم یا ذاالمن ولا یمن علیہ ط یا ذاالجلال والاکرام ط یا ذوالطول والانعام ط لاالہ الا انت ظھر اللاجیب ط وجار المستجبرین ط وامان الخائفین ط اللھم ان کنت کتبتنی عندک فی ام الکتب شقیا او محروما او مطرودا او مقترا علی فی الرزق فامح اللھم بفضلک شقاوتی وحرمانی وطردی واقتتار رزقی ط واثبتنی عندک فی ام الکتب سعیدا مرزوقا موفقا للخیرات ط فانک قلت وقولک الحق فی کتابک المنزل ط علی لسان نبیک المرسل ط بمحواللہ ما یشاء ویثبت وعندہ ام الکتب ہ الھی بالتجلی الاعظم ط فی لیلۃ النصف من شھر شعبان المکرم ط التی یفرق فیھا کل امر حکیم ویبرم ط ان تکشف عنا من البلاء والبلواء ما تعلم وما لا تعلم ط وانت بہ اعلم ط انک انت الاعز الاکرم ط وصلی اللہ تعالٰی علٰی سیدنا محمد وعلی الہ واصحابہ وسلم ط والحمدللہ رب العٰلمین ہ

ترجمہ :۔ اے اللہ عزوجل ! اے احسان کرنے والے کہ جس پر احسان نہیں کیا جاتا ! اے بڑی شان و شوکت والے ! اے فضل و انعام والے ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پریشان حالوں کا مددگار، پناہ مانگنے والوں کو پناہ اور خوفزدوں کو امان دینے والا ہے، اے اللہ عزوجل ! اگر تو اپنے یہاں ام الکتاب (یعنی لوح محفوظ) میں مجھے شقی (یعنی بد بخت)، محروم، دھتکارا ہوا اور رزق میں تنگی دیا ہوا لکھ چکا ہو تو اے اللہ عزوجل ! اپنے فضل سے میری بد بختی، محرومی، ذلت اور رزق کی تنگی کو مٹادے اور اپنے پاس ام الکتاب میں مجھے خوش بخت، رزق دیا ہوا اور بھلائیوں کی توفیق دیا ہوا ثبت فرما دے۔ کہ تو نے ہی تیری نازل کی ہوئی کتاب میں تیرے ہی بھیجے ہوئے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر فرمایا اور تیرا فرمانا حق ہے۔“
اللہ جو چاہے مٹاتا ہے اور ثابت کرتا ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے۔“ (پ13، الرعد 39) (کنزالایمان)
خدایا عزوجل ! تجلیء اعظم کے وسیلہ سے جو نصف شعبان المکرم کی (پندرہویں) رات میں ہے کہ جس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام اور اٹل کر دیا جاتا ہے۔ (یااللہ !) مُصیبتوں اور رنجشوں کو ہم سے دور فرما کہ جنہیں ہم جانتے اور نہیں بھی جانتے جبکہ تو انہیں سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔ بے شک تو سب سے بڑھ کر عزیز اور عزت والا ہے۔ اللہ تعالٰی ہمارے سردار محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے آل و اصحاب رضی اللہ تعالٰی عنہم پر درود و سلام بھیجے۔ سب خوبیاں سب جہانوں کے پالنے والے اللہ عزوجل کے لئے ہیں۔



شب براءت کی تعظیم

شامی تابعین کرام علیہم الرضوان شب براءت کی تعظیم فرماتے اور اس میں خوب عبادت کرتے، انہی سے دیگر مسلمانوں نے اس رات کی تعظیم سیکھی۔ بعض علماء شام نے فرمایا، شب براءت میں مسجد کے اندر اجتماعی عبادت کرنا مستحب ہے، حضرت سیدنا خالد و لقمان رضی اللہ تعالی عنھما اور دیگر تابعین کرام علیھم الرضوان اس رات (کی تعظیم کیلئے) بہترین کپڑے زیب تن فرماتے، سُرمہ اور خوشبو لگاتے، مسجد میں نمازیں ادا فرماتے۔“ (لطائف المعارف ص263)

sweet madina very lovely
07-28-2009, 11:26 AM
:bis
:saw
:ja

talib_ilm
07-28-2009, 12:15 PM
:ja

Ya Mustafa
07-28-2009, 12:39 PM
:ja :ma

Imran Attari
07-29-2009, 11:17 PM
:ja

Saeed022
07-30-2009, 08:41 PM
:ja

Jawad2006
07-31-2009, 08:45 PM
:ja

Tariq Raza
07-31-2009, 08:45 PM
:ja

Abdul Basit
08-01-2009, 09:23 AM
:ja

Kaleem Raza
08-03-2009, 08:12 AM
:ja

Blank_Heart
08-03-2009, 08:35 PM
:ja

Faisal Qadri
08-10-2009, 10:19 AM
:ja

Thanvi Khusra
08-11-2009, 06:32 PM
Nice Post, Thank You!!!

shah2020
08-13-2009, 08:09 AM
:ja

Waqar Ali
08-14-2009, 05:32 PM
:ja

Zafar Qadri
08-17-2009, 11:15 AM
:ja

kashif99
06-12-2014, 11:26 AM
:ja