PDA

View Full Version : آٹھواں مہنہ شعبان المعظم



Attari1980
07-27-2009, 11:10 AM
“آٹھواں مہینہ شعبان المعظم“
اسلامی سال کے آٹھویں مہینے کانام شعبان المعظم ہے۔حدیث مبارک میں ہے کہ شعبان کو اس لیے شعبان کہتے ہیں کہ اس میں روزہ دار کےلیے خیر کثیر تقسیم ہوتی ہے یہاںتک کہ وہ جنت میں داخل ہوتا ہے ۔(ماشبت من السنتہ)
اہم واقعات:
شعبان معظم میں مندرجہ ذیل مثہورواقعات ہوئے۔
1۔اس مہینے کی پانچ تاریخ کو سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت مبارک ہوئی۔
2۔اس مہینے کی پندرہ تاریح شب بر ات کہتے ہیں اوراس رات کواللہ تعالٰی بنی کلب کی بکریوں کےبالوں کے برابر امت مسلمہ کی مغفرت فرماتا ہے۔
3۔اس ماہ کی سولہویں تاریخ کو تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا۔ ابتدااسلام میں کچھ عرصہ بیت المقدس قبلہ رہا اور پھر اللہ تعالٰی نےاپنے محبوب نبی کی مرضی کےمطابق کعبہ معظمہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنادیااس وقت سے ہمیشہ مسلمان کعبہ شریف کی طرف منہ کرکے نماز اداکرتے ہیں۔(عجائب المخلوقات صفحہ47)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شعبان رجب اور رمضان کے درمیان ایک مہینہ ہے لوگ اس کی شان سے غافل ہیں اس میں بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اور مجھے یہ محبوب ہے کہ میرے اعمال اس حال میں اٹھیں کہ میں روزہ دار ہوں۔ (بیہقی)
محترم مسلمان بھائیوں ! شعبان المعظم بڑا بابرکت مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں خوب رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہئے۔ بالخصوص اس ماہ مبارکہ کی پندرہوئیں شب (یعنی شب برات) کو خوب عبادت کرنی چاہئے کہ یہ رات جہنم کے عزاب سے چٹھکارا حاصل کرنے کی رات ہے اس رات کو اللہ عزوجل بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر امت مسلم کے گناہگاروں کی مغفرت فرماتا ہے علماء فرماتے ہیں۔ بنی کلب عرب کا وہ قبیلہ تھا جو سب سے زیادہ بکریاں پالتا تھا۔
غفلت و محرم کی انتھا :
محترم مسلمان بھائیو ! پندرہ شعبان المعظم کی رات بڑی اہم رات ہے۔ اس رات لوگوں کے اعمال اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں اور آئندہ سال تک کے احکامات نافذ کئے جاتے ہیں۔
حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کئی غافل ایسے ہیں جو اعمارتیں بنانے میں مصروف ہیں اور انکی قبر تیار کی جارہی ہوتی ہے کئی غافل ایسے ہیں جو بازاروں میں خریداری میں مصروف ہوتے ہیں اور انکا کفن تیار ہوتا ہے۔ اس رات ناجانے کس کی قسمت میں کیا لکھ دیا جائے۔ اس رات میں جہنم کی آگ سے چٹھکارا حاصل کرنے کیلئے استغفار کرنا چاہئے۔ مگر افسوس ! اس رات مسلمان آتش بازی میں مصروف ہوتے ہیں۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں آتش بازی کرنا، اور خریدنا سب ناجائز ہے۔(اسلامی زندگی)


ٹھکانا قبر ہے تیرا عبادت کچھ تو کر غافل
کہاوت ہے کہ خالی ہاتھ گھر جانا نہیں اچھا

محترم مسلمان بھائیو ! حالانکہ حدیث پاک میں آیا ہے کہ (شب برات) میں خدائے ذوالجلال آسمان و دنیا پر نزول فرماتا ہے یعنی اس کی رحمت نازل ہوتی ہے اور ارشاد فرماتا ہے : ہے کوئی مغفرت مانگنے والا کہ میں اس کے گناہ معاف کردوں، ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اس کو رزق دوں، ہے کوئی مصیبت میں گرفتار کہ میں اسے نجات دوں یہاں تک کہ یہ پکار فجر تک جاری رہتی ہے۔ (ابن ماجہ)
فرمان علی رضی اللہ عنہ :
حضرت علی رضی اللہ عنہ سع روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب شعبان کی پندرہویں شب ہو تو اس میں قیام کرو (یعنی نوافل پڑھو) اور دن کو روزہ رکھو۔ (ابن ماجہ)
شعبان معظم کے نوافل :
چنانچہ بزرگوں کا معمول ہے۔ نصف شعبان (شب برات) کو بعد نماز مغرب چھ رکعت نوافل دو دو رکعت کے ساتھ پڑھیں جائیں۔ سب سے پہلے دو رکعت نفل اس نیت سے پڑھیں درازئی عمر بالخیر ہو پھر دو رکعت نفل اس نیت سے پڑھیں اللہ تعالٰی رزق میں برکت فرمائے اور اپنی ذات کے سوا کسی کا محتاج نہ کرے پھر دو رکعت اس نیت سے پڑھیں تمام آفتیں اور بلائیں دور ہوں ہر دو رکعت نفل کے بعد ایک مرتبہ سورۃ یٰسین ایک مرتبہ دعائے نصف شعبان المعظم اول آخر تین تین بار دورود پاک پڑھیں آخر میں دعا مانگیں۔

دعائے نصف شعبان المعظم
بسم اللہ الرحٰمن الرحیم ط


اللھم یاذا المن علیہ ط یا ذا الجلال والاکرم ط یا ذاالطول والانعام ط لا الہ الا انت ظھر اللاجین ط جار المستجیرین ط وامان الخآئفین ط اللھم ان کنت کتبتنی عندک فی ام الکتٰب شقیا او محروما او مطرودا او مقترا علی فی الرزق فامح اللھم بفضلک شقاوتی وحرمانی وطردی واقتتار رزقی ط وائتنی عندک فی ام الکتٰب سعیدا مرزوقا موفقا للخیرات ط فانک قلت وقولک الحق فی کتابک المنزل ط علٰی لسان نبیک المرسل ط یمحوا اللہ مایشاء ویثبت وعندہ ام الکتٰب ۔ الٰھی بالتجلی الاعظم ط فی لیلۃ النصف من شھر شعبان المکرم ط التی یفرق فیھا کل امر حکیم ویبرم ط ان تکشف عنا من البلاء والبلوآء مانعلم وما لا نعلم ط وانت بہ اعلم ط انک انت الاعز الاکرم ط وصلی اللہ تعالٰی علٰی سیدنا مھمد وعلٰی سیدنا محمد وعلٰی الہ اوصحابہ وسلم ط والحمد للہ رب العٰلمین ۔

دعائے شعبان کی فضیلت :
جو کوئی شعبان المعظم میں (کسی بھی دن میں) یہ دعا پڑھے گا اللہ تعالٰی اس کےلئے ہزار سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہے اور اس کے ہزار سال کے گناہ مٹاتا ہے اور وہ اپنی قبر سے اس حال میں اٹھے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمکتا ہوگا اور اللہ کے نزدیک وہ صدیق لکھا جائے گا۔ (نزھۃ المجالس)
دعا
لا الہ الا اللہ ولا نعبد الا ایاہ مخلصین لہ الدین ولو کرہ الکٰفرین ۔
شب برات کا حلوہ :
محترم مسلمان بھائیو ! پندرہ شعبان کو مسلمان حلوہ پکا کر فاتحہ دلاتے ہیں اور اپنے مرحومین کو ایصال ثواب کرتے ہیں یہ جائز ہے۔ لہزا ہر مسلمان کو چاہئے کہ اس دن حلوہ کوئی بھی میٹھی چیز پکا کر اس پر فاتحہ دلائیں اور سارے مسلمان مرحومین کی ارواح کو اس کا ثواب ایصال کریں۔ اور اس رات کو قبرستان میں حاضری دیں کہ اس رات قبرستان جانا سنت ہے۔

sweet madina very lovely
07-28-2009, 11:17 AM
:bis
:saw
:sub :sub :sub
:ma :ma :ma
:ja

Ya Mustafa
07-28-2009, 12:40 PM
:ja :ma

Saif
07-29-2009, 11:10 PM
:ja :sub

Tariq Raza
07-31-2009, 08:45 PM
:ja