PDA

View Full Version : وصل دوم در منقبت آقائے اکرم حضور غوث اعظم



Attari1980
07-28-2009, 11:33 AM
واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا
اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلٰی تیرا

سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا
اولیاء ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا

کیا دبے جس پہ حمایت کا ہو پنجہ تیرا
شیر کو خطرے میں لاتا نہیں کتا تیرا

تو حسینی حسنی کیوں نہ محی الدیں ہو
اے خضر مجمع بحرین ہے چشمہ تیرا

قسمیں دے دے کے کھلاتا ہے پلاتا ہے تجھے
پیارا اللہ ترا چاہنے والا تیرا

مصطفٰے کے تن بے سایہ کا سایہ دیکھا
جس نے دیکھا مری جاں جلوہء زیبا تیرا

ابن زہرا کو مبارک ہو عروس قدرت
قادری پائیں تصدق مرے دولھا تیرا

کیوں نہ قاسم ہو کہ تو ابن ابی القاسم ہے
کیوں نہ قادر ہو کہ مختار ہے بابا تیرا

نبوی، میٹھ، علوی فضل، بتولی گلشن
حسنی پھول! حسینی ہے مہکنا تیرا

نبوی، ظل، علوی برج، بتولی منزل
حسنی چاند! حسینی ہے اجالا تیرا

نبوی خور، علوی کوہ، بتولی معدن
حسنی لعل حسینی! ہے تجلا تیرا

بحر و بر، شہر و قری، سہل و حزن، دشت و چمن
کون سے چک پہ پہنچتا نہیں دعوٰی تیرا

حسن نیت ہو خطا پھر کبھی کرتا ہی نہیں
آزمایا ہے یگانہ ہے دوگانہ تیرا

عرض احوال کی پیاسوں میں کہاں تاب مگر
آنکھیں اے ابر کرم تکتی ہیں رستا تیرا

موت نزدیک، گناہوں کی تہیں، میل کے خول
آ برس جا کہ نہا دھولے یہ پیاسا تیرا

“ آب آمد “ وہ کہے اور میں “ تیمم برخاست “
مشت خاک اپنی ہو اور نور کا اہلا تیرا

جان تو جاتے ہی جائے گی قیامت یہ ہے
کہ یہاں مرنے پہ ٹھہرا ہے نظارہ تیرا

تجھ سے در، در سے سگ اور سگ سے ہے مجھ کو نسبت
میری گردن میں بھی ہے دور کا ڈورا تیرا

اس نشانی کے جو سگ ہیں نہیں مارے جاتے
حشر تک میرے گلے میں رہے پٹا تیرا

حشر تک میرے گلے میں رہے پٹا تیرا
ہند میں بھی ہوں تو دیتا رہوں پہرا تیرا

تیری عزت کے نثار اے مرے غیرت والے
آہ صد آہ کہ یوں خوار ہو بردا تیرا

بد سہی، چور سہی، مجرم و ناکارہ سہی
اے وہ کیسا ہی سہی ہے تو کریما تیرا

مجھ کو رسوا بھی اگر کوئی کہے تو یوں ہی
کہ وہی نا، وہ رضا بندہ ء رسوا تیرا

اے رضا یوں نہ بلک تو نہیں جید تو نہ ہو
سید جید ہر دہر ہے مولٰی تیرا

فخر آقا میں رضا اور بھی اک نظم رفیع
چل لکھا لائیں ثناء خوانوں میں چہرا تیرا

sweet madina very lovely
07-28-2009, 11:42 AM
:bis
:saw
:ja