PDA

View Full Version : وصل چہارم: در منافحت اعداء و استعانت از آقا &#



Attari1980
07-28-2009, 11:38 AM
الاماں قہر ہے اے غوث وہ تيکھا تيرا
مر کے بھی چين سے سوتا نہيں مارا تيرا

بادلوں سے کہيں رکتی ہے کڑکتی بجلی
ڈھاليں چھنٹ جاتی ہيں اٹھتا ہے تيغا تيرا

عکس کا ديکھ کے منہ اور بپھر جاتا ہے
چار آئينہ کے بل کا نہيں نيزا تيرا

کوہ سر مکھ ہوتو اک دار ميں دو پر کالے
ہاتھ پڑتا ہی نہيں بھول کے اوچھا تيرا

اس پہ يہ قہر کہ اب چند مخالف تيرے
چاہتے ہيں کہ گھٹاديں کہيں پايہ تيرا

عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی ليتے
يہ گھٹائيں اسے منظور بڑھانا تيرا

ورفعنا لک ذکرک کا ہے سايہ تجھ پر
بول بولا ہے ترا ذکر ہے اونچا تيرا

مٹ گئے مٹتے ہيں مٹ جائينگے اعدا تيرے
نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھی چرچا تيرا

تو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے
جب بڑھائے تجھے اللہ تعالٰی تيرا

سم قاتل ہے خدا کی قسم ان کا انکار
منکر فضل حضور آہ يہ لکھا تيرا

ميرے سياف کے خنجر سے تجھے باک نہيں
چير کر ديکھے کوئی آہ کليجا تيرا

ابن زہرا سے تيرے دل ميں ہيں يہ زہر بھرے
بل بے او منکر بے باک يہ زہرا تيرا

باز اشہب کی غلامی سے يہ آنکھيں پھرتی
ديکھ اڑ جائے گا ايمان کا طوطا تيرا

شاخ پر بيٹھ کے جڑ کاٹنے کی فکر ميں ہے
کہيں نيچا نہ دکھائے تجھے شجرا تيرا

حق سے بد ہو کے زمانہ کا بھلا بنتا ہے
ارے ميں خوب سمجھتا ہوں معما تيرا

سگ در قہر سے ديکھے تو بکھرتا ہے ابھی
بند بند بدن اے روبہ دنيا تيرا

غرض آقا سے کروں عرض کہ تير ہے پناہ
بندہ مجبور ہے خاطر يہ ہے قبضہ تيرا

حکم نافذ ہے ترا خامہ ترا سيف تری
دم ميں جو چاہے کرے دور ہے شاہا تيرا

جس کو للکار دے آتا ہوتو الٹا پھر جائے
جس کو چمکار لے ہر پھر کے وہ تيرا تيرا

کنجياں دل کی خدا نے تجھے ديں ايسی کر
کہ يہ سينہ ہو محبت کا خزينہ تيرا

دل پہ کندہ ہو ترا نام کہ وہ دزدِ رجيم
الٹے ہی پاؤں پھرے ديکھ کے طغرا تيرا

نزع ميں گور ميں ميزان پہ سر پل پہ کہيں
نہ چھٹے ہاتھ سے دامان معلٰی تيرا

دھوپ محشر کي وہ جانسوز قيامت ہے مگر
مطمئن ہوں کہ مرے سر پہ ہے پلا تيرا

بہجت اس سر کي ہو جو بہجتہ الاسرار ميں ہے
کہ فلک وار مريدوں پہ ہے سايا تيرا

اے رضا چيست غم از جملہ جہاں دشمن تست
کردہ ام مامن خود قبلہ حاجا تے را