PDA

View Full Version : بندہ ملنے کو قريب حضرت قادر گيا



Attari1980
07-28-2009, 12:36 PM
بندہ ملنے کو قريب حضرت قادر گيا
لمعہ باطن ميں گمنے جلوہ ظاہر گيا

تيری مرضی پاگيا سورج پھرا الٹے قدم
تيری انگلی اٹھ گئی مہ کا کليجا چر گيا

بڑھ چلی تيری ضياء اندھير عالم سے گھٹا
کھل گيا گيسو ترا رحمت کا بادل گھر گيا

بندھ گئی تيری ہوا ساوہ ميں خاک اڑنے لگی
بڑھ چلی تيری ضيا آتش پہ پانی پھر گيا

تيری رحمت سے صفی الله کا بيڑا پار تھا
تيرے صدقہ سے نجی الله کا بجرا تر گيا

تيری آمد تھی کہ بيت الله مجرے کو جھکا
تيری ہيبت تھی کہ ہر بت تھر تھرا کر گر گيا

مومن ان کا کيا ہوا الله اس کا ہوگيا
کافر ان سے کيا پھرا الله ہی سے پھر گيا

وہ کہ اس در کا ہوا خلق خدا اس کی ہوئی
وہ کہ اس در سے پھر الله اس سے پھر گيا

مجھ کو ديوانہ بتاتے ہو ميں وہ ہشيار ہوں
پاؤں جب طوف حرم ميں تھک گئے سر پھر گيا

رحمت للعالمين آفت ميں ہوں کيسی کروں
ميرے مولٰی ميں تو اس دل سے بلا ميں گھر گيا

ميں ترے ہاتھوں کے صدقے کيسی کنکرياں تھی وہ
جن سے اتنے کافروں کا دفعتاً منہ پھر گيا

کيوں جناب بوہريرہ تھا وہ کيسا جام شير
جس سے ستر صاحبوں کا دودھ سے منہ پھر گيا

واسطہ پيارے کا ايسا ہو کہ جو سنی مرے
يوں نہ فرمائيں ترے شاہد کہ وہ فاجر گيا

عرش پہ دھوميں مچيں وہ مومن صالح ملا
فرش سے ماتم اٹھے وہ طيب و طاہر گيا

الله الله يہ علو خاص عبديت رضا
بندہ ملنے کو قريب حضرت قادر گيا

ٹھوکريں کھاتے پھرو گے ان کے در پر پڑ رہو
قافلہ تو اے رضا اول گيا آخر گيا