PDA

View Full Version : پاٹ وہ کچھ دھار یہ کچھ زار ہم



Attari1980
07-29-2009, 01:29 PM
نعت شریف
پاٹ وہ کچھ دھار یہ کچھ زار ہم
یا الٰہی کیوں کر اتریں پار ہم
کس بلا کی طے سے ہیں سرشار ہم
دن ڈھلا ہوتے نہیں ہشیار ہم
تم کرم سے مشتری ہر عیب کے
جنس نا مقبول ہر بازار ہم
دشمنوں کی آنکھ میں بھی پھول تم
دوستوں کی بھی نظر میں خار ہم
لغزش پا کا سہار ایک تم
گرنے والے لاکھوں نا ہنجار ہم
صدقہ اپنے بازوؤں کا المدد
کیسے توڑیں یہ بت پندار ہم
دم قدم کی خیر اے جان مسیح
در پہ لائے ہیں دل بیمار ہم
اپنی رحمت کی طرف دیکھیں حضور
جانتے ہیں جیسے ہیں بدکار ہم
اپنے مہمانوں کا صدقہ ایک بوند
مرمٹے پیاسے ادھر سرکار ہم
اپنے کوچہ سے نکالے تو نہ دو
ہیں تو حدبھر کے خدائی خوار ہم
ہاتھ اٹھا کر ایک ٹکڑا اے کریم
ہیں سخی کے مال میں حق دار ہم
چاندنی چھٹکی ہے ان کے نور کی
آؤ دیکھیں سیر طور و نار ہم
ہمت اے ضعف ان کے در پر گر کے ہوں
بے تکلف سایہ ٴ دیوار ہم
باعطا تم‘ شاہ تم‘ مختار تم
بے نوا ہم‘ زار ہم‘ ناچار ہم
تم نے لاکھوں کو جانیں پھیر دیں
ایسا کتنا رکھتے ہیں آزار ہم
اپنی ستاری کا یا رب واسطہ
ہوں نہ رسوا بر سر دربار ہم
اتنی عرض آخری کہہ دو کوئی
ناؤ ٹوٹی آپڑے منجدھار ہم
منہ بھی دیکھا ہے کسی کے عفو کا
دیکھ او عصیاں نہیں بے یار ہم
میں نثار ایسا مسلماں کیجئے
توڑ ڈالیں نفس کا زنار ہم
کب سے پھیلائے ہیں دامن تیغ عشق
اب تو پائیں زخم دامن دار ہم
سنّیت سے کھٹکے سب کی آنکھ میں
پھول ہوکر بن گئے کیا خار ہم
ناتوانی کا بھلا ہو بن گئے
نقش پائے طالبان یارہم
دل کے ٹکڑے نذر حاضر لائے ہیں
اے سگان کوچہ دل دار ہم
قسمت ثور و حرا کی حرص ہے
چاہتے ہیں دل میں گہرا غار ہم
چشم پوشی و کرم شان شما
کارما بے باکی و اصرار ہم
فصل گل سبزہ مستی شباب
چھوڑیں کس دل سے در خمار ہم
میکدہ چھٹتا ہے للہ ساقیا
اب کے ساغر سے نہ ہوں ہشیار ہم
ساقی تسنیم جب تک آ نہ جائیں
اے سیہ مستی نہ ہوں ہشیار ہم
نازشیں کرتے ہیں آپس میں ملک
ہیں غلامان شہ ابرار ہم
لطف از خود رفتگی یارب نصیب
ہوں شہید جلوہٴ رفتا ر ہم
ان کے آگے دعویٰ ہستی رضا
کیا بکے جاتا ہے یہ ہر بار ہم