PDA

View Full Version : عارض شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں



Attari1980
07-29-2009, 01:30 PM
نعت شریف
عارض شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
عرش کی آنکھوں کے تارے ہیں وہ خوشتر ایڑیاں
جا بجا پرتو فگن ہے آسماں پر ایڑیاں
دن کو ہیں خورشید شب کو ماہ و اختر ایڑیاں
نجم گردوں تو نظر آتے ہیں چھوٹے اور وہ پاؤں
عرش پر پھر کیوں نہ ہوں محسوس لاغر ایڑیاں
دب کے زیر پا نہ گنجائش سمانے کی رہی
بن گیا جلوہ کف پا کا ابھر کر ایڑیاں
ان کا منگتا پاؤں سے ٹھکرادے وہ دنیا کا تاج
جن کی خاطر مر گئے منعم رگڑ کر ایڑیاں
دو قمر دو پنجہ خور دو ستارے دس ہلال
ان کے تلوے پنجے ناخن پائے اطہر ایڑیاں
ہائے اس پتھر سے اس سینہ کی قسمت پھوڑیئے
بے تکلف جس کے دل میں یوں کریں گھر ایڑیاں
تاج روح القدس کے موتی جسے سجدہ کریں
رکھتی ہیں واللہ وہ پاکیزہ گوہر ایڑیاں
ایک ٹھوکر میں احد کا زلزلہ جاتا رہا
رکھتی ہیں کتنا وقار اللہ اکبر ایڑیاں
چرخ پر چڑھتے ہی چاندی میں سیاہی آگئی
کر چکی ہیں بدر کو ٹکسال باہر ایڑیاں
اے رضا طوفان محشر کے تلاطم سے نہ ڈر
شاد ہو ہیں کشتی امت کو لنگر ایڑیاں