PDA

View Full Version : ہے لب عیسیٰ سے جاں بخشی نرالی ہاتھ میں



Attari1980
08-01-2009, 12:48 PM
نعت شریف
ہے لب عیسیٰ سے جاں بخشی نرالی ہاتھ میں
سنگریزے پاتے ہیں شیریں مقالی ہاتھ میں
بینواؤں کی نگاہیں ہیں کہاں تحریر دست
رہ گئیں جو پاکے جود لا یزالی ہاتھ میں
کیا لکیروں میں ید اللہ خط سرو آسا لکھا
راہ یوں اس راز لکھنے کی نکالی ہاتھ میں
جود شاہ کوثر اپنے پیاسوں کا جو یا ہے آپ
کیا عجب اڑ کر جو آپ آئے پیالی ہاتھ میں
ابر نیساں مومنوں کو تیغ عریاں کفر پر
جمع ہیں شان جمالی و جلالی ہاتھ میں
مالک کونین ہیں گوپاس کچھ رکھتے نہیں
دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں
سایہ افگن سر پہ ہو پرچم الٰہی جھوم کر
جب لواء الحمد لے امت کا والی ہاتھ میں
ہر خط کف ہے یہاں اے دست بیضائے کلیم
موجزن دریائے نور بے مثالی ہاتھ میں
وہ گراں سنگی ٴ قدر مس وہ ارزانئ جود
نوعیہ بدلا کئے سنگ ولالی ہاتھ میں
دستگیر ہر دو عالم کردیا سبطین کو
اے میں قرباں جان جاں انگشت کیالی ہاتھ میں
آہ وہ عالم کہ آنکھیں بند اور لب پر درود
وقف سنگ در جبیں روضہ کی جالی ہاتھ میں
جس نے بیعت کی بہار حسن پر قرباں رہا
ہیں لکیریں نقش تسخیر جمالی ہاتھ میں
کاش ہوجاؤں لب کوثر میں یوں وارفتہ ہوش
لے کر اس جان کرم کا ذیل عالی ہاتھ میں
آنکھ محو جلوہٴ دیدار دل پر جوش وجد
لب پہ شکر بخشش ساقی پیالی ہاتھ میں
حشر میں کیا کیا مزے وارفتگی کے لوں رضا
لوٹ جاؤں پاکے وہ دامان عالی ہاتھ میں