PDA

View Full Version : وصف رخ ان کا کیا کرتے ہیں شرح و الشمس وضحی کر&



Attari1980
08-01-2009, 12:53 PM
نعت شریف
وصف رخ ان کا کیا کرتے ہیں شرح و الشمس وضحی کرتے ہیں
ان کی ہم مدح و ثنا کرتے ہیں جن کو محمود کہا کرتے ہیں
ماہ شق گشتہ کی صورت دیکھو کانپ کر مہر کی رجعت دیکھو
مصطفی پیارے کی قدرت دیکھو کیسے اعجاز ہوا کرتے ہیں
تو ہے خورشید رسالت پیارے چھپ گئے تیری ضیا میں تارے
انبیاء اور ہیں سب مہ پارے تجھ سے ہی نور لیا کرتے ہیں
اے بلا بے خردئ کفار رکھتے ہیں ایسے کہ حق میں انکار
کہ گواہی ہو کر اس کو در کا بے زباں بول اٹھا کرتے ہیں
اپنے مولیٰ کی ہے بس شان عظیم جانور بھی کریں جن کی تعظیم
سنگ کرتے ہیں ادب سے تسلیم پیڑ سجدے میں گرا کرتے ہیں
رفعت ذکر ہے تیرا حصہ دونوں عالم میں ہے تیرا چرچا
مرغ فردوس پس ازحمد خدا تیری ہی مدح و ثنا کرتے ہیں
انگلیاں پائیں وہ پیاری پیاری جن سے دریائے کرم ہے جاری
جوش پر آتی ہے جب غمخواری تشنے سیراب ہوا کرتے ہیں
ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد یہیں سے چاہتی ہے ہرنی داد
اسی در پہ شتران ناشاد گلہ ٴ رنج و عنا کرتے ہیں
آستین رحمت عالم الٹے کمر پاک پہ دامن باندھے
گرنے والوں کو کوچہ دوزخ سے صاف الگ کھینچ لیا کرتے ہیں
جب صبا آتی ہے طیبہ سے ادھر کھکھلا پڑتی ہیں کلیاں یکسر
پھول جا مہ سے نکل کر باہر رخ رنگیں کی ثنا کرتے ہیں
تو ہے وہ باد شہ کون و مکاں کہ ملک ہفت فلک کے ہر آں
تیرے مولیٰ سے شہ عرش ایواں تیری دولت کی دعا کرتے ہیں
جس کے جلوے سے احد ہے تاباں معدن نور ہے اس کا داماں
ہم بھی اس چاند پہ ہو کر قرباں دل سنگیں کی جلا کرتے ہیں
کیوں نہ زیبا ہو تجھے تاجوری تیرے ہی دم کی ہے سب جلوہ گری
ملک و جن و بشر حور پڑی جان سب تجھ پہ فدا کرتے ہیں
ٹوٹ پڑتی ہیں بلائیں جن پر جن کو ملتا نہیں کوئی یاور
ہر طرف سے وہ پر ارماں پھر کران کے دامن میں چھپا کرتے ہیں
لب پہ آجاتا ہے جب نام جناب منہ میں کھل جاتا ہے شہد نایاب
وجد میں ہو کہ ہم اے جاں بیتاب اپنے لب چوم لیا کرتے ہیں
لب پہ کس منہ سے غم الفت لائیں کیا بلا دل ہے الم جس کا سنائیں
ہم تو ان کے کف پا پر مٹ جائیں ان کے در پر جو مٹا کرتے ہیں
اپنے دل کا ہے انہیں سے آرام سونپے ہیں اپنے انہیں کو سب کام
لولگی ہے کہ اب اس در کے غلام چارہٴ درد رضا کرتے ہیں