PDA

View Full Version : درمنقبت سیدنا ابو الحسین احمد نوری قدس سر¬



Attari1980
08-01-2009, 12:53 PM
درمنقبت سیدنا ابو الحسین احمد نوری قدس سرہ الشریف
کہ وقت مسند نشینی حضرت ممدوح در ۱۲۹۸ ئھ
برتر قیاس سے ہے مقام ابو الحسین
سدرہ سے پوچھو رفعت بام ابو الحسین
دارستہ پائے بستہ دام ابو الحسین
آزاد نار سے ہے غلام ابو الحسین
خط سیاہ میں نور الٰہی کی تابشیں
کہ صبح نور بار ہے شام ابو الحسین
ساقی سنادے شیشہ بغداد کی ٹپک
مہکی ہے بوئے گل سے مدام ابو الحسین
بوئے کباب سوختہ آتی ہے مے کشو
چھلکا شراب چشت سے جام ابو الحسین
گلگوں سحر کو ہے سہر سوز دل سے آنکھ
سلطان سہرورد ہے نام ابو الحسین
جن نخل پاک میں ہیں چھیالیس ڈالیاں
اک شاخ ان میں سے ہے بنام ابو الحسین
مستوں کو اے کریم بچائے خمار سے
تا دور حشر دورہٴ جام ابو الحسین
ان کے بھلے سے لاکھوں غریبوں کا ہے بھلا
یا رب زمانہ باد بکام ابو الحسین
میلا لگا ہے شان مسیح کی دید ہے
مردے جلا رہا ہے خرام ابو الحسین
سرگشتہ مہر و ماہ ہیں پر اب تک کھلا نہیں
کس چرخ پر ہے ماہ تمام ابو الحسین
اتنا پتہ ملا ہے کہ یہ چرخ چنبری
ہے ہفت پایہ زینہ بام ابو الحسین
ذرہ کو مہر قطرہ کو دریا کرے ابھی
گر جوش زن ہو بخشش عام ابو الحسین
یحییٰ کا صدقہ وارث اقبال مند پائے
سجادہ شیوخ کرام ابو الحسین
انعام لیں بہار جناں تہنیت لکھیں
پھولے پھلے تو نخل مرام ابو الحسین
اللہ ہم بھی دیکھ لیں شہزادوں کی بہار
سونگھے گل مراد مشام ابو الحسین
آقا سے میرے ستھرے میاں کا ہوا ہے نام
اس اچھے ستھرے سے رہے نام ابو الحسین
یا رب وہ چاند جو فلک عز و جاہ پر
ہر سیر میں ہوگام بگام ابو الحسین
آؤ تمہیں بلال سپہر شرف دکھائیں
گردن جھکائیں بہر سلام ابو الحسین
قدرت خدا کی ہے کہ تلاطم کنال اٹھی
بحر فنا سے موج دوام ابو الحسین
یارب ہمیں بھی چاشنی اس پانی یاد کی
جس سے ہے شکریں لب و کام ابو الحسین
ہاں طالع رضا تری اللہ رے یاوری
اے بندہ جدود کرام ابو الحسین