PDA

View Full Version : غزل کہ دربارہ عزم سفر اطہر مدینہ منورہ از م



Attari1980
08-01-2009, 01:01 PM
نعت شریف
غزل کہ دربارہ عزم سفر اطہر مدینہ منورہ از مکہ معظمہ بعد حج بمحرم ۱۲۹۶ ء ھ عرض کردہ شد
حاجیو آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے کعبہ کا کعبہ دیکھو
رکن شامی سے مٹی وحشت شام غربت
اب مدینہ کو چلو صبح دلآرا دیکھو
آب زمزم تو پیا خوب بجھائیں پیاس-یں
آؤ جود شہ کوثر کا بھی دریا دیکھو
زیر میزاب ملے خوب کرم کے چھینٹے
ابر رحمت کا یہاں زور برسنا دیکھو
دھوم دیکھی ہے در کعبہ پہ بیتابوں کی
ان کے مشتاقوں میں حسرت کا تڑپنا دیکھو
مثل پروانہ پھرا کرتے تھے جس شمع کے گرد
اپنی اس شمع کو پروانہ یہاں دیکھو
خوب آنکھوں سے لگایا ہے غلاف کعبہ
قصر محبوب کے پردے کا بھی جلوہ دیکھو
واں مطیعوں کا جگر خوف سے پانی پایا
یاں سیہ کاروں کا دامن پہ مچلنا دیکھو
اولیں خانہ حق کی تو ضیائیں دیکھیں
آخریں بیت نبی کا بھی تجلا دیکھو
زینت کعبہ میں تھا لاکھ عروسوں کا بناؤ
جلوہ فرما یہاں کونین کا دولہا دیکھو
ایمن طور کا تھا رکن یمانی میں فروغ
شعلہ طور یہاں انجمن آرا دیکھو
مہر مادر کا مزہ دیتی ہے آغوش حطیم
جن پہ ماں باپ فدایاں کرم ان کا دیکھو
عرض حاجت میں رہا کعبہ کفیل الحجاج
آؤ اب داد رسئ شہ طیبہ دیکھو
دھو چکا ظلمت دل بوسہٴ سنگ اسود
خاک بوسئ مدینہ کا بھی رتبہ دیکھو
کرچکی رفعت کعبہ پہ نظر پروازیں
ٹوپی اب تھام کے خاک در والا دیکھو
بے نیازی سے وہاں کانپتی پائی طاعت
جوش رحمت پہ یہاں ناز گنہ دیکھو
جمعہ مکہ تھا عید اہل عبادت کے لئے
مجرمو آؤ یہاں عید دو شنبہ دیکھو
متلزم سے گلے لگ کے نکالے ارماں
ادب و شوق کا یہاں باہم الجھنا دیکھو
خوب مسعی میں بامید صفا دوڑ لئے
در جاناں کی صفا کا بھی تماشا دیکھو
رقص بسمل کی بہاریں تو منیٰ میں دیکھیں
دل خوننا بہ فشاں کا بھی تڑپنا دیکھو
غور سے سن تو رضا کعبہ سے آتی ہے صدا
میری آنکھوں سے میرے پیارے کا روضہ دیکھو