PDA

View Full Version : پیش حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے



Attari1980
08-04-2009, 01:05 PM
پیش حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے

پیش حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے
دل نکل جانے کی جاہے آہ کن آنکھوں سے وہ
ہم سے پیاسوں کے لئے دریا بہاتے جائیں گے
کشتگان گرمئ محشر کووہ جان مسیح
آج دامن کی ہوا دے کر جلاتے جائیں گے
گل کھلے گا آج یہ ان کی نسیم فیض سے
خون روتے آئیں گے ہم مسکراتے جائیں گے
ہاں چلو حسرت زدو سنتے ہیں وہ دن آج ہے
تھی خبر جس کی کہ وہ جلوہ دکھاتے جائیں گے
آج عید عاشقاں ہے گر خدا چاہے کہ وہ
ابروئے پیوستہ کا عالم دکھاتے جائیں گے
کچھ خبر بھی ہے فقیروں آج وہ دن ہے کہ وہ
نعمت خلد اپنے صدقے میں لٹاتے جائیں گے
خاک افتادو بس ان کے آنے ہی کی دیر ہے
خود وہ گر کر سجدہ میں تم کو اٹھاتے جائیں گے
وسعتیں دی ہیں خدا نے دامن محبوب کو
جرم کھلتے جائیں گے اور وہ چھپاتے جائیں گے
لو وہ آئے مسکراتے ہم اسیروں کی طرف
خرمن عصیاں پہ اب بجلی گراتے جائیں گے
آنکھ کھولو غمزدو دیکھو وہ گریاں آئے ہیں
لوح دل سے نقش غم کو اب مٹاتے جائیں گے
سوختہ جانوں پہ ہو پر جوش رحمت آئے ہیں
آب کوثر سے لگی دل کی بجھاتے جائیں گے
آفتاب ان کا ہی چمکے گا جب اوروں کے چراغ
صر صر جوش بلا سے جھلملاتے جائیں گے
پائے کو بال پل سے گزریں گے تری آواز پر
رب سلم کی صدا پر وجد لاتے جائیں گے
سرور دیں لیجئے اپنے ناتوانوں کی خبر
نفس و شیطاں سیدا کب تک دباتے جائیں گے
حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائش مولیٰ کی دھوم
مثل فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے
خاک ہوجائیں عدو جل کر مگر ہم تو رضا
دم میں جب تک دم ہے ذکر ان کا سناتے جائیں گے

Saeed022
08-06-2009, 11:57 AM
:ja