PDA

View Full Version : عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسماں ہے



Attari1980
08-04-2009, 01:12 PM
عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسماں ہے


عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسماں ہے
جان مراد اب کدھر ہائے تیرا مکان ہے
بزم ثنائے زلف میں میری عروس فکر کو
ساری بہار ہشت خلد چھوٹا سا عطر دان ہے
عرش پہ جاکے مرغ عقل تھک کے گرا غش آگیا
اور ابھی منزلوں پرے پہلا ہی آستان ہے
عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش پہ طرفہ دھوم دھام
کان جدھر لگایئے تیری ہی داستان ہے
اک ترے رخ کی روشنی چین ہے دوجہان کی
انس کا انس اسی سے ہے جان کی وہی جان ہے
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے
گود میں عالم شباب حال شباب کچھ نہ پوچھ
گلبن باغ نور کی اور ہی کچھ اٹھان ہے
تجھ سا سیاہ کار کون ان سا شفیع ہے کہاں
پھر وہ تجھی کو بھول جائیں دل یہ تیرا گمان ہے
پیش نظر وہ نو بہار سجدے کو دل ہے بیقرار
روکئے سر کو روکئے ہاں یہی امتحان ہے
شان خدا نہ ساتھ دے ان کے خرام کا وہ باز
سدرہ سے تاز میں جسے نرم سی اک اڑان ہے
بار جلال اٹھالیا گرچہ کلیجہ شق ہوا
یوں تو یہ ماہ سبز رنگ نظروں میں دھان پان ہے
خوف نہ رکھ رضا ذرا توتو ہے عبد مصطفی
تیرے لئے امان ہے تیرے لئے امان ہے