PDA

View Full Version : ٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نور باری حجاب می&#



Attari1980
08-04-2009, 01:12 PM
اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نور باری حجاب میں ہے



اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نور باری حجاب میں ہے
زمانہ تاریک ہورہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے
جلی جلی بو سے اس کی پیدا ہے سوزش عشق چشم والا
کباب آہو میں بھی نہ پایا مزہ جو دل کے کباب میں ہے
انہیں کی بومایہ ٴ سمن ہے انہیں کا جلوہ چمن چمن ہے
انہیں سے گلشن مہک رہے ہیں انہیں کی رنگت گلاب میں ہے
تری جلو میں ہے ماہ طیبہ ہلال ہر مرگ و زندگی کا
حیات جاں کا رکاب میں ہے ممات اعداء کا ڈاب میں ہے
سیاہ لباسان دار دنیا و سبز پوشان عرش اعلیٰ
ہر اک ہے ان کے کرم کا پیاسا فیض ان کی جناب میں ہے
وہ گل ہیں لب ہائے نازک ان کے ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے
گلاب گلشن میں دیکھے بلبل یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے
جلی ہے سوز جگر سے جاں تک ہے طالب جلوہٴ مبارک
دکھا دو وہ لب کہ آب حیواں کا لطف جن کے خطاب میں ہے
کھڑے ہیں منکر نکیر سر پر نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور
بتادو آکر مرے پیمبر کہ سخت مشکل جواب میں ہے
خدائے قہار ہے غضب پر کھلے ہیں بد کاریوں کے دفتر
بچالو آ کر شفیع محشر تمہارا بندہ عذاب میں ہے
کریم ایسا ملا کہ جس کے کھلے ہیں ہاتھ اور بھرے خزانے
بتاؤ اے مفلسو کہ پھر کیوں تمہارا دل اضطراب میں ہے
گنہ کی تاریکیاں یہ چھائیں امنڈ کے کالی گھٹائیں آئیں
خدا کے خورشید مہر فرما کہ ذرہ بس اضطراب میں ہے
کریم اپنے کرم کا صدقہ لیئم بے قدر کو نہ شرما
تو اور رضا سے حساب لینا رضا بھی کوئی حساب میں ہے