PDA

View Full Version : نہ عرش ایمن نہ انی ذاھب میں میہمانی ہے



Attari1980
08-04-2009, 01:16 PM
نہ عرش ایمن نہ انی ذاھب میں میہمانی ہے

نہ عرش ایمن نہ انی ذاھب میں میہمانی ہے
نہ لطف اذن یا احمد نصیب لن ترانی ہے
نصیب دوستاں گر ان کے در پر موت آتی ہے
خدا یوں ہی کرے پھر تو ہمیشہ زندگانی ہے
اسی در پہ تڑپتے ہیں مچلتے ہیں بلکتے ہیں
اٹھا جاتا نہیں کیا خوب اپنی نا توانی ہے
ہر اک دیوار و در پر مہر نے کی ہے جبیں سائی
نگار مسجد اقدس میں کب سونے کا پانی ہے
ترے منگتا کی خاموشی شفاعت خواہ ہے اس کی
زبان بے زبانی ترجمان خستہ جانی ہے
کھلے کیا راز محبوب و محب مستان غفلت پر
شراب قد رای الحق زیب جام من رانی ہے
جہاں کی خاک روبی نے چمن آرا کیا تجھ کو
صبا ہم نے بھی ان گلیوں کی کچھ دن خاک چھانی ہے
شہا کیا ذات تیری حق نما ہے فرد امکاں میں
کہ تجھ سے کوئی اول ہے نہ تیرا کوئی ثانی ہے
کہاں اس کو شک جاں جناں میں زر کی نقاشی
ارم کے طاہر رنگ پریدہ کی نشانی ہے
زیاب فی ثیاب لب پہ کلمہ دل میں گستاخی
سلام اسلام ملحد کو کہ تسلیم زبانی ہے
یہ اکثر ساتھ ان کے شانہ و مسواک کا رہنا
بتاتا ہے کہ دل ریشوں پہ زائد مہربانی ہے
اسی سرکار سے دنیاؤ دیں ملتے ہیں سائل کو
یہی دربار کنز آمال دامانی ہے
درودیں صورت ہالہ محیط ماہ طیبہ ہیں
برستا امت عاصی پہ ابر رحمت کا پانی ہے
تعالیٰ اللہ استغنا ترے در کے گداؤں کا
کہ ان کو عارفر و شوکت صاحب قرآنی ہے
وہ سرگرم شفاعت ہیں عرق افشاں ہے پیشانی
کرم کر عطر صندل کی زمیں رحمت کی گھانی ہے
یہ سر ہو اور وہ خاک در وہ خاک در ہو اور یہ سر
رضا وہ بھی اگر چاہیں تو اب دل میں یہ ٹھانی ہے

sweet madina very lovely
08-05-2009, 07:00 AM
:bis
:saw
:ja