PDA

View Full Version : سنتے ہیں کہ محشر میں صرف ان کی رسائی ہے



Attari1980
08-04-2009, 01:16 PM
سنتے ہیں کہ محشر میں صرف ان کی رسائی ہے

سنتے ہیں کہ محشر میں صرف ان کی رسائی ہے
گر ان کی رسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے
مچلا ہے کہ رحمت نے امید بندھائی ہے
کیا بات تری مجرم کیا بات بن آئی ہے
سب نے صف محشر میں للکار دیا ہم کو
اے بے کسوں کے آقا اب تیری دہائی ہے
یوں تو سب انہیں کا ہے پر دل کی اگر پوچھو
یہ ٹوٹے ہوئے دل ہی خاص ان کی کمائی ہے
زائر گئے بھی کب کے دن ڈھلنے پہ ہے پیارے
اٹھ میرے اکیلے چل کیا دیر لگائی ہے
بازارِ عمل میں تو سودا نہ بنا اپنا
سرکار کرم تجھ میں عیبی کی سمائی ہے
گرتے ہوؤں کو مژدہ سجدے میں گرے مولا
رورو کے شفاعت کی تمہید اٹھائی ہے
اے دل یہ سلگنا کیا جلنا ہے تو جل بھی اٹھ
دم گھٹنے لگا ظالم کیا دھونی رمائی ہے
مجرم کو نہ شرماؤ احباب کفن ڈھک دو
منہ دیکھ کے کیا ہوگا پردے میں بھلا ئی ہے
اب آپ سنبھالیں تو کام اپنے سنبھل جائیں
ہم نے تو کمائی سب کھیلوں میں گنوائی ہے
اے عشق ترے صدقے جلنے سے چھٹے سستے
جو آگ بجھادے گی وہ آگ لگائی ہے
حرص و ہوس بد سے دل تو بھی ستم کرلے
تو ہی نہیں بیگانہ دنیا ہی پرائی ہے
ہم دل جلے ہیں کس کے ہٹ فتنوں کے پرکالے
کیوں پھونک دوں اک اف سے کیا آگ لگائی -ہے
طیبہ نہ سہی افضل مکہ ہی بڑا زاہد
ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے
مطلع میں یہ شک کیا تھا واللہ رضا واللہ
صرف ان کی رسائی ہے صرف ان کی رسائی ہے

sweet madina very lovely
08-05-2009, 06:48 AM
:bis
:saw
:sub
:ja Attari bhai!