PDA

View Full Version : انمول ہیرے (حضرت علام الیاس عطار قادری)۔



Attari1980
08-06-2009, 11:46 AM
اَلحَمدُ لِلّٰہِ رَبِّ العٰلَمِینَ وَالصَّلوٰۃُ وَالسَّلاَمُ عَلیٰ سَیِّدِ المُرسَلِینَ ط
اَمَّا بَعدُ فَاَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیم ط بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ ط

انمول ہیرے
شیطٰن لاکھ سُستی دلائے امیرِ اہلسنّت کا یہ بیان مکمّل پڑھ لیجئے اِن شآء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ اپنے دل میں مَدَنی انقِلاب برپا ہوتا محسوس فرمائیں گے۔
امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کا یہ بیان دُبئی تا فیضانِ مدینہ کراچی ۱۳ جمادِی الاولیٰ ۱۴۱۸ ھ کو بذریعہ ٹیلیفون رِلے ہوا تھا اسے ضَرورتًا ترمیم کے ساتھ تحریری طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ احمدرضا ابن عطّار عفی عنہ۔

ایک مرتبہ اللہ عزّوجل کے چاروں مُقَرَّب فِرِشتے بارگاہِ رِسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضِر ہوئے۔ سیِّدُنا جبریلِ امین علیہ الصلوٰۃ والسّلام نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دس بار دُرود شریف پڑھے گامیں اسے پُل صِراط سے بجلی کی سی تیزی سے گزاروں گا۔ سیِّدُنا میکائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عرض کیا، میں اُسے حوضِ کوثر پر پہنچا کر سَیراب کروں گا۔سیِّدُنا اسرافیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عرض کیا، میں بارگاہِ ربُّ العزت جَلَّ جَلاَلَہ‘ میں اُس وَقت تک پڑا رہوں گا جب تک اُس کی بخشش نہ ہوجائے۔ مَلَکُ الموت سیِّدُنا عزرائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عرض کیا، میں اس کی ُروح اِس قَدَر آسانی سے قَبض کروں گا جس طرح انبیائے کِرام علیہم السلام کی رُوح نکالتا ہوں۔ (شِفاء القُلُوب)
[align=center]صلّواعلی الحبیب (یعنی حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھو۔)
اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّموَبَارِک عَلیٰ سَیِّدِناوَمَولاَ نَا مُحَمَّدِ نِالنَّبِیِّ الاُمِّیِّ الحَبِیبِ العَالِی القَدرِ العَظِیمِ الجَاہِ وَعَلیٰ اٰلِہ وَصَحبِہ وَبَارِک وَسَلِّم
ایک بادشاہ اپنے مُصَاحِبوں کے ساتھ کسی باغ کے قریب سے گزر رہا تھا کہ اُس نے دیکھا باغ میں سے کوئی سنگریزے پھینک رہا ہے ایک سنگریزہ خود اس کو بھی آکر لگا۔ اُس نے خدّام کو دَوڑایا کہ جاکر سنگریزے پھینکنے والے کو پکڑ کر میرے پاس حاضِر کرو۔ چُنانچہ خُدّام نے ایک گنوار کو حاضِر کردیا ۔ بادشاہ نے کہا، ’’یہ سنگریزے تم نے کہاں سے حاصِل کئے؟‘‘ اُس نے ڈَرتے کہا، ’’میں پہاڑ کی سَیر کر رہا تھا کہ میری نظر ان خوبصورت سنگریزوں پر پڑی میں نے ان کو جھولی میں بھرلیا۔ اس کے بعد پِھر تا پِھراتا اِس باغ میں آنکلا اور پھل توڑنے کے لئے یہ سنگریزے استِعمال کرلئے۔‘‘ بادشاہ بولا، یہ پتھر کے ٹکڑے دراصل انمول ہیرے تھے جنہیں تم نے نادانی سے ضائِع کردیئے، اس پر وہ شخص افسوس کرنے لگا۔ مگر اب افسوس کرنا بے کار تھا کہ وہ انمول ہیرے اُس کے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اِسی طرح ہماری زندگی کے لمحات بھی انمول ہیرے ہیں اگر ان کو ہم نے بے کار ضائع کردیا تو حسرت و نَدامت کے سِوا کچھ ہاتھ نہ آئیگا۔


دِن بھر کھیلوں میں خاک اُڑائی
لاج آئی نہ ذَرّوں کی ہنسی سے

اللہ عزّوجل نے انسان کو ایک مقررہ وَقت کے لئے خاص مقصد کے تحت اس دُنیا میں بھیجا ہے ۔ چُنانچہ سورۃُ المُؤمِنُون میں ارشاد ہوتا ہے:۔
افحسبتم انما خلقنٰکم عبثاً و اَنکم اِلینا لاتُرجِعون ]۱۱۵[
ترجمہ کنزالایمان : تو کیا سمجھتے ہوکہ ہم نے تمہیں بے کار بنایا؟ اور تمہیں ہماری طرف پِھرنا نہیں؟
خزائن العرفان میں اس آیتِ مقدسہ کے تحت لکھا ہے (توکیا سمجھتے ہو) اور آخرت میں جَزا کیلئے اُٹھنانہیں بلکہ تمہیں عبادَت کے لئے پیدا کیا کہ تم پر عبادَت لازِم کریں اور آخِرت میں تم ہماری طرف لوٹ آؤ تو تمہیں تمہارے اعمال کی جَزا دیں۔
موت و حیات کی پیدائش کا سبب بیان کرتے ہوئے سورۃُ المُلک میں ارشاد ہوتا ہے:۔
الّذِی خلق الموت وَالحیٰوۃ لِیبلُوَکم اَیکم اَحسن عَملاً ط
ترجمہ کنزالایمان : وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو تم میں کس کا کام (اطاعت واِخلاص کے لحاظ سے) زیادہ اچھا ہے۔ (پ ۲۹ الملک آیت ۲) وقت قیمتی ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکُورہ بالا دو آیات کے عِلاوہ بھی قراٰنِ پاک میں دیگر مقامات پر تَخلیقِ انسانی کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔ انسان کو اس دُنیا میں بہت مختصر سے وَقت کیلئے رہنا ہے اور اس وَقفہ میں اسے قبر و حَشر کے طوِیل ترین مُعامَلات کیلئے تیّاری کرنی ہے۔ لہٰذا انسان کا وَقت بے حد قیمتی ہے ۔ وَقت ایک تیز رفتار گاڑی کی طرح فرّاٹے بھرتاہوا جا رہا ہے نہ روکے رُکتا ہے نہ پکڑنے سے ہاتھ آتا ہے۔ جو سانس ایک بار لے لیا وہ پلٹ کر نہیں آتا۔ چُنانچہ،

سانس کی مالا
حضرتِ سیِّدنا حسنِ بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، جلدی کرو! جلدی کرو! تمہاری زندگی کیاہے؟ یہی سانس تو ہیں کہ اگر رُک جائیں تو تمہارے اُن اعمال کاسِلسِلہ بھی مُنقَطع ہوجائے جن سے تم اللہ عزّوجل کا قُرب حاصِل کرتے ہو۔ اللہ عزّوجل اُس شخص پر رَحم فرمائے جس نے اپنا جائزہ لیا اور اپنے گناہوں پرچند آنسو بہائے۔ اللہ عزّوجل (سورہ مریم میں) ارشاد فرماتا ہے،
اِنّما نعدلھم عدا ۔
کنزالایمان : ہم تو ان کی (سانسوں) کی گنتی پوری کرتے ہیں۔
اے لوگو! جب تم آخِری سانس لوگے تو تمہاری رُوح جسم سے جدا ہو رہی ہوگی! جب تم آخِری سانس لوگے تو تمہارے گھر والوں کو الوَداع کہہ رہے ہوگے! جب تم آخِری سانس لے چکوگے تو قبر میں اُتاردیئے جاؤگے۔ (اِحیاء العلوم)


یہ سانس کی مالا اب بس ٹوٹنے والی ہے
غلفت سے مگر پھر بھی بیدار نہیں ہوتا!

’’دن†œÃ¢â‚¬Ëœ کا اِعلان
حضرتِ سیِّدنا علاّمہ جلالُ الدین السیوطی الشّافِعی رحمۃ اللہ علیہ ’’جمع الجَوامِع‘‘ میں نَقل کرتے ہیں، تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے، روزانہ صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تواُس وقت ’’دن†œÃ¢â‚¬Ëœ یہ اعلان کرتا ہے، ’’اگر آج کوئی اچھا کام کرنا ہے تو کرلو کہ آج کے بعد میں کبھی پلٹ کر نہیں آؤں گا۔‘‘
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
جناب یا مرحوم!
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! زندگی کا جو دِن نصیب ہوگیا اُسی کو غنیمت جان کر جتنا ہوسکے اس میں اچھّے اچھّے کام کرلئے جائیں تو بہتر ہے کہ ’’کَل†˜â€˜ نہ جانے ہمیں لوگ ’’جناب ‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں یا ’’مرحومâ₠¬ËœÃ¢â‚¬Ëœ کہہ کر۔ ہمیں اس بات کا اِحساس ہویا نہ ہو مگر یہ حقیقت ہے کہ ہم اپنی موت کی منزل کی طرف نہایت تیزی کے ساتھ رَواں دَواں ہیں۔ چُنانچہ سورہ اِنشِقاق میں ارشاد ہوتا ہے۔
یَااَیھا الاِنسان اِنک کادِح اِلیٰ ربک کدحا فملٰقِیہ (پ۳۰ انشقاق آیت۶)
ترجمہ کنزالایمان : اے آدمی! بے شک تجھے اپنے رب عزّوجل کی طرف ضرور دوڑنا ہے پھر اس سے ملنا۔


کتنی بے اعتبار ہے دُنیا
موت کا اِنتظار ہے دُنیا

اچانک موت آجاتی ہے
اپنے وقت کو فُضولیات میں برباد کرنے والو ! غور کرو زِندگی کس قَدر تیزرَفتار ی کیساتھ گزرتی جا رہی ہے ۔ بارہا آپ نے دیکھا ہوگا کہ دیکھتے ہی دیکھتے اچھّابھلا ڈَیل ڈَول والا انسان موت کے گھاٹ اُتر جاتا ہے۔ اب قبر میں اُس پر کیا بِیت رہی ہے اس کا اندازہ کوئی نہیںلگا سکتا۔ ہاں اس پر زندگی کا حال کُھل چکا ہوگا کہ،


گرچِہ ظاہِر میں صورتِ گُل ہے
پرحقیقت میں خار ہے دُنیا

اے دُنیا کے مال کے متوالو! جمعِ مال ہی کو اپنی زندگی کا مقصدِ وَحید سمجھنے والو! جلدی جلدی اپنی آخرت کی تیّاری کرلو، کہیں ایسا نہ ہو کہ رات بھلے چنگے سونے کے باوجود صبح تمہیں اندھیری قبر میں ڈالدیا جائے۔ لِلّٰہ ! غفلت کی نیند سے بیدارہوجاؤ، اللہ عزّوجل سورۃُ الانبِیاء میں ارشاد فرماتا ہے۔
اِقتَرب لِلناس حسابُھم وھُم فِی غَفلۃٍ مُّعرِضون ج (پ۱۷ الانبیاء آیت۱) ترجمہ کنزالایمان : لوگوں کا حساب نزدیک اور وہ غفلت میں مُنہ پَھیرے ہیں۔


ایک جھونکے میں ہے اِدھر سے اُدھر
چار دن کی بہار ہے دُنیا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں اپنی موت کی قَدر پہچاننی ضَروری ہے ۔ فالتو وقت گزرنا کتنے بڑے نقصان کی بات ہے وہ ذَیل کی حدیث مبارَک سے سمجھئے۔
جنّت میں بھی افسوس!
تاجدارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان رَحمت نِشان ہے، ’’جنّت میں جانے کے بعد اہلِ جنّت کو دُنیا کی کسی چیز کا بھی افسوس نہیں ہوگا سِوائے اس ساعَت (گھڑی) کے جو دنیا میں اللہ عزّوجل کے ذِکر کے بِغیر گزرگئی۔ (طَبَرانی)
قَلَم کا قَط
حافظ ابن عَساکر ’’تبیین کِذب المُفتری‘‘ میں فرماتے ہیں، (پانچویں صَدی کے مشہور بزرگ) حضرتِ سیِّدُناسلیم رازی رحمۃ اللہ علیہ کا قلم جب لکھتے لکھتے گھِس جاتا تو قَط لگاتے ہوئے (یعنی قلم کی نوک تَراشتے ہوئے) ذِکرُ اللہ عزّوجل شروع کردیتے تاکہ یہ وقت صِرف قَط لگاتے ہوئے ہی صَرف نہ ہو!


جنّت میں درخت لگوائیے!
وقت کی قدر وقیمت کا اس بات سے اندازہ لگائیے کہ اگر آپ چاہیں تو اس دُنیا میں رہتے ہوئے صرف ایک سیکنڈ میں جنّت کے اندر ایک دَرَخت لگواسکتے ہیں۔ اور جنّت میں دَرَخت لگوانے کا طریقہ بھی نہایت ہی آسان ہے۔ چُنانچہ ’’ طبرانی شریف‘‘ کی رِوایت کے مُطابِق ذَیل میں دیئے ہوئے چاروں کلِمات میں سے جو بھی کلِمہ کہیں جنّت میں ایک درخت لگادیاجائے گا، وہ کلِمات یہ ہیں:۔
1۔ سُبحٰنَ اللّٰہ
2۔اَلحمدللّٰہ
3۔ لآَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ
4۔ اللّٰہُ اَکبر
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اب آپ ہی غورفرمائیے کہ وَقت کتنا قیمتی ہے کہ ذَرا سی دَیر میں زَبان کو حَرَکت دینے سے جنّت میں دَرَخت لگ جاتا ہے تو کاش! فالتو باتوں کی جگہ سبحٰن اللّٰہ ، سبحٰن اللّٰہ کا وِرد کرکے ہم جنّت میں بے شمار درخت لگوالیا کریں۔ ہم چاہے کھڑے ہوں ، چل رہے ہوں، بیٹھے ہوں یا لیٹے ہوں (جب بھی لیٹے لیٹے کوئی وِرد رکریں تو پاؤں سَمیٹ لیا کریں کہ پاؤں پھیلا کر وِرد کرنا مکروہ ہے۔) یا کوئی کام کاج کر رہے ہوں، ہماری کوشش یِہی ہونی چاہئے کہ ہم دُرود شریف پڑھتے رہیں کہ اس کے ثواب کی کوئی انتہانہیں ۔ سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، جس نے مجھ پر ایک بار دُرود شریف پڑھا، اللہ عزّوجل اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے اور دس گُناہ معاف فرمادیتا ہے اور اس کے دس دَرَجات بُلند فرماتا ہے اوریہ (درود شریف پڑھنا) دس غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔ (اَلتَّرغِیب وَالتَّرھِیب)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! میرا مَدَنی مشورہ ہے کہ جب آپ کوئی بات کرنا چاہیں تو غور فرمالیا کریں کہ یہ بات جو میں کرناچاہتا ہوں اِ س میں کوئی دِینی یا دُنیوی فائدہ بھی ہے یانہیں؟ اگر آپ اس بات ک فُضول محسوس کریں تو بولنے کے بجائے دُرود شریف پڑھ لیا کریں تاکہ آپ کو ڈھیروں ثواب ہاتھ آئے۔ سبحٰن اللّٰہ یا اَلحمداللّٰہ یا لآ اِلٰہَ الا اللّٰہ یا اللّٰہ اکبر کہہ لیا کریں تاکہ آپ کے لئے جنّت میں دَرَخت لگادیاجائے یقینا یہ سَودا مہنگا نہیں ہے۔


ذکرودُرود ہرگھڑی وِردِ زَباں رہے
میری فُضُول گوئی کی عادت نکال دو

ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر
اگر کچھ پڑھنے کے بجائے خاموش رہنے کو جی چاہے تو اس میں بھی ثواب کمانے کی صورتیں ہیں اور وہ یہ کہ آپ اُلٹے سیدھے خَیالات میں پڑنے کے بجائے یادِ خداوندی یا یادِ مدینہ و شاہِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم میں گُم ہوجائیں یا علمِ دین میں تَفکُّر شروع کردیں یا موت کے جھٹکوں، قبر کی تنہائی کی وَحشتوں اور محشر کی ہولناکیوں کی فکر میں ڈُوب جائیں۔ تو اس طرح بھی آپ کا وقت ضائع نہیں ہوگا بلکہ آپ کا ایک ایک سانس ان شاء اللہ عزّوجل عبادت میں شمار ہوگا۔ چُنانچہ ’’ تفسیرِ کبیر‘‘ میں ہے، سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان باقرینہ ہے، ’’ایک گھڑی غوروفکر کرناساٹھ سال کی عبادت سے بہترہے۔‘‘


اُن کی یادوں میں کھو جائیے
مُصطفےٰ مُصطفےٰ کیجئے

پانچ کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو! میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا زندگی بے حد مختصر ہے، جو وَقت مل گیا سو مل گیا۔ آئندہ وقت ملنے کی اُمّید دھوکہ ہے۔ کیا معلوم آئندہ لمحے ہم موت سے ہم آغوش ہوچکے ہوں۔ رَح
متِ عَالم ، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، پانچ کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو، ’’موت سے پہلے زندگی کو اور بیماری سے پہلے صحت کو اور مشغولیت سے پہلے فَراغت (فرصت) کو اور بُڑھاپے سے پہلے جوانی کو، اور فَقر سے پہلے مالداری کو۔‘‘ (کیمیائے سعادت)


غافِل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے مُنادی
گَردُوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹادی

دو نعمتیں
ایک اور مقام پر سرکارِ نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بَہُت سے لوگ دھوکہ میں ہیں، ایک صحت اور دوسری فَراغت۔ (بخاری، ترمذی) میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقِعی صحت کی قَدر بیمار ہی کرسکتا ہے اور وقت کی قَدر وہ لوگ جانتے ہیں جو بے حد مصروف ہوتے ہیں ورنہ جو لوگ ’’ فُرصَتی‘‘ ہوتے ہیں ان کو کیا معلوم کہ وقت کی کیا اہمیت ہے! وقت کی قَدر پیدا کیجئے اور فُضول باتوں، فُضول کاموں ، فُضول صُحبتوں سے گُریز کرنے کا ذِہن بنائیے۔

حُسنِ اسلام
حدیث کے مشہور امام حضرت سیّدنا ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ جن کی سُنَن چار ہزار آٹھ سو احادیث پر مشتمل ہے جنہیں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے پانچ لاکھ احادیث سے منتخَب فرمایا ہے اور جو ’’صِحَاح سِتَّہ‘‘ میں شامل ہے آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی ’’ سُنَن‘‘ میں اسلامی زندگی کے دستُور کی جامِعِیَّت پر بطورِ نمُونہ چار احادیث کا اِنتِخاب فرمایا ہے، جن میں ایک حدیث مبارَک یہ ہے ’’فضول مَشاغِل کا ترک کرنا بھی حُسنِ اسلام سے ہے۔‘‘
انمول لَمحات کی قَدر
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! زندگی کے ایّام گھنٹوں اور گھنٹے لمحوں سے عِبارت ہیں، زندگی کا ہر سانس انمول ہوتی ہے، ایک ایک سانس کی قَدر کیجئے کہ کہیں بے فائدہ نہ گزرجائے اور کل بروزِ قِیامت زندگی کا خزانہ نیکیوں سے خالی پاکر اَشکِ ندامت نہ بہانے پڑیں ایک ایک لمحے کا حساب کرنے کی عادت ڈالیں کہ کہاں بسر ہو رہا ہے اور اس کوشِش میں لگے رہیں کہ زندگی کی ہَر ہَرساعت مفید کاموں ہی میں صَرف ہو۔اوقات کو فُضول باتوں ، خوش گَپیوں اور بیکار کاموں میں گزارنے سے اجتِناب کریں تاکہ آخِرت میں آپ وہ کچھ پاسکیں جو آپ کیلئے باعِثِ مُسرَّت وشادمانی ہو۔

وقت کے قَدر دانوں کے ارشادات و مَنقُولات 1
۔حضرتِ مولیٰ علی کرم اللہ وجھہ الکریم فرماتے ہیں، ’’یہ ایّام تمہاری زندگی کے صَفَحات ہیں ان کواچھّے اعمال سے زینت بخشو۔‘‘
۲۔حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ’’میں اپنی زندگی کے گزرے ہوئے اُس دِن کے مقابلے میں کسی چیز پر نادِ م نہیں ہوتا میرا جو دِن نیک اعمال میں اِضافے سے خالی ہو۔‘‘
۳۔حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ’’روزانہ تمہاری عمر مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے تو پھرنیکیوں میں کیوں سُستی کرتے ہو؟‘‘
ایک مرتبہ کسی نے عرض کیا، یا امیر المؤمنین! ’’یہ کام آپ کَل پر مُؤخِّر کردیجئے‘‘ ارشاد فرمایا، ’’میں روزانہ کا کام ایک دِن میں بمشکِل تمام کرپاتا ہوں اگر آج کا کام بھی کَل پر چھوڑدوں گا تو پھر دو دِن کا کام ایک دِن میں کیونکر کرسکوں گا؟‘‘
آج کا کام کل پر مت ڈالو کل دوسرا کام ہوگا
4۔ حضرتِ سیِّدُنا حسنِ بصری رحمۃ اللہ عنہ فرماتے ہیں، اے آدمی! تو ایّام ہی کا مجموعہ ہے، جب ایک رَوز گزرجائے تو یوں سمجھ کہ تیری زندگی کا ایک حصّہ بھی گزر گیا۔‘‘
۵ ۔حضرتِ سیِّدُنا امام شافِعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں ایک مدّت تک اہل اللہ رحمھم اللہ کی صُحبت سے فیضاب رہا ان کی صُحبت سے مجھے دو اَہم باتیں سیکھنے کو ملیں۔ (۱) وقت تلوار کی طرح ہے تم اس کو (نیک اعمال کے ذریعہ) کاٹو ورنہ (فضولیات میں مشغول کرکے) یہ تم کو کاٹ دے گا۔
(۲) اپنے نَفس کی حِفاظت کرو اگر تم نے اس کو اچھّے کام میں مشغول نہ رکھا تو یہ تم کو کسی برے کام میں مشغول کردے گا۔
7۔ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ’’خدا عزّوجل کی قسم! کھانا کھاتے وقت عِلمی مَشغلہ (تحریر ی یا مطالعہ) ترک کے سبب مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ وَقت نہایت ہی قیمتی دولت ہے۔‘‘
عجب چیز ہے احساس زندگی کا
۷۔آٹھویں صَدی کے مشہور شافِعی عالِم سَیِّدنا شمس الدّین اصبہانی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، آپ اس خوف سے کھانا کم تناول فرماتے تھے کہ زِیادہ کھانے سے بَول وبَراز کی ضَرورت بڑھے گی اور بیتُ الخلاء جاکر وقت ضائع ہوگا!
۸۔حضرتِ علامہ ذُہبی رحمۃ اللہ علیہ ’’ تذکِرۃ الحفاظ‘‘ میں خطیب بغدادی رضی اللہ عنہ کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں، ’’آپ راہ چلتے بھی مُطالعہ جاری رکھتے تاکہ آنے جانے کاوقت بیکارنہ گزرے۔‘‘
ٹائِم ٹیبل
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنا یومیہ ’’ نظامُ الاَوقات‘‘ ترتیب دے لیں، اولاً عشاء کی نماز پڑھ کر حتَّی الاِمکان جلد سوجائیں ، رات کو فُضول چَوپال لگانا، ہوٹلوں کی رونق بڑھانا اور دوستوں کی مجلِسوں میں وقت گنوانا (جبکہ کوئی دینی مصلِحت نہ ہو) بَہُت بڑا نقصان ہے، تفسیرِ روحُ البیان میں ہے ،
’’قومِ لُوط علیہ السلام کی تباہ کاریوں میں سے یہ بھی تھا کہ وہ چَوراہوں پر بیٹھ کر لوگوں سے ٹَھٹّھا مَسخری کرتے تھے‘‘ ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خوفِ خُداوندی عزّوجل سے لرز اُٹھئے، دوست بظاہر کیسے ہی ’’نیک صورت‘‘ ہوں ان کی دل آزار اور خدا عزّوجل سے غافِل کردینے والی محفلوں سے توبہ کرلیجئے۔ رات کو دینی مشاغِل سے فارغ ہوکر جلد سوجایا کریں کہ رات کا آرام دِن کے آرام کے مقابلے میں زیادہ صِحّت بخش ہوتا ہے اور عَین فِطرت کا تقاضا بھی۔ چُنانچہ سورۃ القَصَص میں ارشاد ہوتا ہے :۔
ومن رحمَتہ جعلَ لَکُم الیل والنھَار لِتسکنوا فیہ ولتبتغوا مِن فضلہ ولعلکم تَشکرُونَ (پ۲۰ آیت ۷۳)
ترجمہ کنزالایمان : اور اس نے اپنی مِہر سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور دِن میں اس کا فضل ڈھونڈو (یعنی کسب معاش کرو) اور اس لئے کہ تم حق مانو۔
صُبح کی فضیلت
نظامُ الاوقات مُتَعین کرتے ہوئے کام کی نوعِیَّت اور کیفیت کو پیش نظر رکھنا مناسب ہے۔ مَثَلاً جو اسلامی بھائی رات کو جلدی سوجاتے ہیں صُبح کے وقت وہ تروتازہ ہوتے ہیں۔لہٰذا علمی مشاغل کیلئے صبح (آدھی رات ڈھلے سے سورج کی پہلی کرن چمکنے تک صُبح ہے) کا وقت بَہُت مناسِب ہے۔ سرکارِ نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا ’’ ترمذی‘‘ نے نقل کی ہے ، ’’اے اللہ عزّوجل! میری امّت کیلئے صبح کے اوقات میں بَرکت عطافرما‘‘ بَہَرحال صبح اُٹھنے کے بعد سے لیکر رات سونے تک سارے کاموں کے اوقات مقرر ہوںکہ اتنے بجے تہجد، عِلمی مَشاغِل ، مسجد میں تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ باجماعت نمازِ فجر (اسی طرح دیگر نمازیں بھی) اشراق، چاشت، اوّابین، ناشتہ، کسبِ مُعاش، دوپہر کا کھانا، گھریلو مُعاملات ، شام کے مَشاغِل ، اچھّی صُحبت ، (اگر یہ مُیَّسر یہ ہو تو تنہائی بدرجہا بہتر ہے) اسلامی بھائیوں سے دینی ضَروریات کے تحت ملاقات وغیرہ کے اوقات مُتعین فرمالیں۔ اگرآپ اس کے عادی نہیں ہیں تو ہو سکتا ہے شروع میں کچھ دشواری ہو، پھر جب عادت پڑجائے گی تو اس کی بَرَکتیں بھی خود ہی ظاہر ہوجائیں گی۔
ان شاء اللہ عزّوجل


دِن لہو میں کھَونا تجھے شب صُبح تک سونا تجھے
شرمِ نبی ا خوفِ خدا ل یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
رزقِ خُدا کھایا کیا فرمانِ حق ٹالا کیا
شکرِ کرم ترسِ جَزایہ یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

Saeed022
08-06-2009, 11:54 AM
:ja