PDA

View Full Version : بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے



Attari1980
08-10-2009, 09:35 AM
حاضری درگاہ ابدی پناہ وصل دوم رنگ عشقی سن ۱۳۲۴ھ

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے
کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے
کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے
چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے
ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری
کشت امل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے
ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے
سونپا خدا کو تجھ کو یہ عظمت سفر کی ہے
ہم گرد کعبہ پھرتے تھے کل تک اور آج وہ
ہم پر نثار ہے یہ ارادت کدھر کی ہے
کالک جبیں کی سجدہ در سے چھراؤ گے
مجھ کو بھی لے چلو یہ تمنا حجر کی ہے
ڈوبا ہوا ہے شوق میں زمزم اور آنکھ سے
جھالے برس رہے ہیں یہ حسرت کدھر کی ہے
برسا کے جانے والوں پہ گوہر کروں نثار
ابر کرم سے عرض یہ میزاب زر کی ہے
آغوش شوق کھولے ہیں جن کے لئے حطیم
وہ پھر کے دیکھتے نہیں یہ دھن کدھر کی ہے
ہاں ہاں رہ مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ
او پاؤں رکھنے والے یہ جا چشم و سر کی ہے
واروں قدم قدم پہ کہ ہر دم ہے جانِ نو
یہ راہ جانفزا مرے مولیٰ کے در کی ہے
گھڑیاں گنی ہیں برسوں کی یہ سُب گھڑی پھری
مرمر کے پھر یہ سل مرے سینے سے سر کی ہے
اللہ اکبر اپنے قدم اور یہ خاک پاک
حسرت ملائکہ کو جہاں وضع سر کی ہے
معراج کا سماں ہے کہاں پہنچے زائرو
کرسی سے اونچی کرسی اسی پاک گھر کی ہے
عشاق روضہ سجدہ میں سوئے حرم جھکے
اللہ جانتا ہے کہ نیت کدھر کی ہے
یہ گھر یہ جور ہے اسکا جو گھر در سے پاک ہے
مژدہ ہو بے گھرو کہ صلا اچھے گھر کی ہے
محبوب رب عرش ہے اس سبز قبہ میں
پہلو میں جلوہ گاہ عتیق و عمر کی ہے
چھائے ملائکہ ہیں لگاتار ہے درود
بدلے ہیں پہرے بدلی میں بارش درر کی ہے
سعدین کا قران ہے پہلوئے ماہ میں
جھرمٹ کئے ہیں تارے تجلی قمر کی ہے
ستر ہزار صبح ہیں ستر ہزار شام
یوں بندگی ٴ زلف و رخ آٹھوں پہر کی ہے
جو ایک بار آئے دوبارہ نہ آئیں گے
رخصت ہی بارگاہ سے بس اس قدر کی ہے
تڑپا کریں بدل کے پھر آنا کہاں نصیب
بے حکم کب مجال پرندے کو پر کی ہے
اے وائے بے کسیٴ تمنا کہ اب امید
دن کو نہ شام کی ہے نہ شب کو سحر کی ہے
یہ بدلیاں نہ ہوں تو کروڑوں کی آس جائے
اور بارگاہ مرحمت عام تر کی ہے
معصوموں کو ہے عمر میں صرف ایک بار بار
عاصی پڑے رہیں تو صلا عمر بھر کی ہے
زندہ رہیں تو حاضریٴ بارگاہ نصیب
مرجائیں تو حیات ابد عیش گھر کی ہے
مفلس اور ایسے در سے پھرے بے غنی ہوئے
چاندی ہر اک طرح تو یہاں گدیہ گر کی ہے
جاناں پہ تکیہ خاک نہالی ہے دل نہال
ہاں بینواؤ خوب یہ صورت گذر کی ہے
ہیں چتر و تخت سایہٴ دیوار و خاک در
شاہوں کو کب نصیب یہ دھج کّروفر کی ہے
اس پاک کو میں خال بسر سر بخاک ہیں
سمجھے ہیں کچھ یہی جو حقیقت بسر کی ہے
کیوں تاجدار و خواب میں دیکھی کبھی یہ شے
جو آج جھولیوں میں گدایان در کی ہے
جارو کشوں میں چہرے لکھے ہیں ملوک کے
وہ بھی کہاں نصیب فقط نام بھر کی ہے
طیبہ میں مر کے ٹھنڈے چلے جاؤ آنکھیں بند
سیدھی سڑک یہ شہر شفاعت نگر کی ہے
عاصی بھی ہیں چہیتے یہ طیبہ ہے زاہدو
مکہ نہیں کہ جانچ جہاں خیر و شر کی ہے
شان جمال طیبہ جاناں ہے نفع محض
وسعت جلال مکہ میں سود و ضرر کی ہے
کعبہ ہے بے شک انجمن آرا دلہن مگر
ساری بہار دلہنوں میں دولہا کے گھر کی ہے
کعبہ دلہن ہے تربت اطہر نہیں دلہن
یہ رشک آفتاب وہ غیرت قمر کی ہے
دونوں بنیں سجیلی انیلی بنی مگر
جو پی کے پاس ہے وہ سہاگن کنور کی ہے
سر سبز وصل یہ ہے سیہ پوش ہجر وہ
چمکی دوپٹوں سے ہے جو حالت جگر کی ہے
ماؤشما تو کیا کہ خلیل جلیل کو
کل دیکھنا کہ ان سے تمنا نظر کی ہے
اپنا شرف دعا سے باقی رہا قبول
یہ جانیں ان کے ہاتھ میں کنجی اثر کی ہے
جو چاہے ان سے مانگ کہ دونوں جہاں کی خیر
زرنا خریدہ ایک کنیز ان کے گھر کی ہے
رومی غلام دن حبشی باندیاں شبیں
گنتی کنیز زادوں میں شام و سحر کی ہے
اتنا عجب بلندی جنت پہ کس لئے
دیکھا نہیں کہ بھیک یہ کس اونچے گھر کی ہے
عرش بریں پہ کیوں نہ ہو فردوس کا دماغ
اتری ہوئی شبیہ ترے بام و در کی ہے
وہ خلد جس میں اترے گی ابرار کی برات
ادنیٰ نچھاور اس مرے دولہا کے سر کی ہے
عنبر زمین عبیر ہوا مشک تر غبار
ادنیٰ سے یہ شناخت تری رہ گزر کی ہے
سرکار ہم گنواروں میں طرز ادب کہاں
ہم کو تو بس تمیز یہی بھیک بھر کی ہے
مانگیں گے مانگے جائیں گے منہ مانگی پائیں گے
سرکار میں نہ لا ہے نہ حاجت اگر کی ہے
اف بے حیائیاں کہ یہ منہ اور ترے حضور
ہاں تو کریم ہے تری خو درگزر کی ہے
تجھ سے چھپاؤں منہ تو کروں کس کے سامنے
کیا اور بھی کسی سے توقع نظر کی ہے
جاؤں کہاں پکاروں کسے کس کا منہ تکوں
کیا پرسش اور جا بھی سگ بے ہنر کی ہے
باب عطا تو یہ ہے جو بہکا ادھر ادھر
کیسی خرابی اس نگھرے دربدر کی ہے
آباد ایک در ہے ترا اور ترے سوا
جو بارگاہ دیکھئے غیرت کھنڈر کی ہے
لب واہیں آنکھیں بند ہیں پھیلی ہیں جھولیاں
کتنے مزے کی بھیک ترے پاک در کی ہے
گھیرا اندھیریوں نے دہائی ہے چاند کی
تنہا ہوں کالی رات ہے منزل خطر کی ہے
قسمت میں لاکھ پیچ ہوں سو بل ہزار کج
یہ ساری گتھی اک تیری سیدھی نظر کی ہے
ایسے بندھے نصیب کھلے مشکلیں کھلیں
دونوں جہاں میں دھوم تمہاری کمر کی ہے
جنت نہ دیں نہ دیں تیری رویت ہو خیر سے
اس گل کے آگے کس کو ہوس برگ و بر کی ہے
شربت نہ دیں نہ دیں تو کرے بات لطف سے
یہ شہد ہوتو پھر کسے پروا شکر کی ہے
میں خانہ زاد کہنہ ہوں صورت لکھی ہوئی
بندوں کنیزوں میں مرے مادر پدر کی ہے
منگتا کا ہاتھ اٹھتے ہی داتا کی دین تھی
دوری قبول و عرض میں بس ہاتھ بھر کی ہے
سنکی وہ دیکھ باد شفاعت کے دے ہوا
یہ آبرو رضا ترے دامان تر کی ہے