PDA

View Full Version : فصل اول فضائل سرکار غوثیت رضی اللہ عنہ



Attari1980
08-10-2009, 09:40 AM
فصل اول فضائل سرکار غوثیت رضی اللہ عنہ

ترا ذرہ مہ کامل ہے یاغوث
ترا قطرہ یم سائل ہے یاغوث

کوئی سالک ہے یا واصل ہے یاغوث
وہ کچھ بھی ہوا ترا سائل ہے یاغوث

قد بے سایہ ظل کبریا ہے
تو اس بے سایہ ظل کا ظل ہے یاغوث

تری جاگیر میں ہے شرق تا غرب
قلم وہیں حرم تاحل ہے یاغوث

دل عشق و رخ حسن آئینہ ہیں
اور ان دونوں میں ترا ظل ہے یاغوث

تری شمع دل آرا کی تب و تاب
گل و بلبل کی آب و گل ہے یاغوث

ترا مجنوں ترا صحرا ترا نجد
تری لیلیٰ ترا محمل ہے یاغوث

یہ تری چنپئ رنگت حسینی
حسن کے چاند صبح دل ہے یاغوث

گلستاں زار تیری پنکھڑی ہے
کلی سو خلد کا حاصل ہے یاغوث

اگال اس کا ادھار ابرار کا ہو
جسے تیرا الش حاصل ہے یاغوث

اشارہ میں کیا جس نے قمر چاک
تو اس مہ کامہ کامل ہے یاغوث

جسے عرش دوم کہتے ہیں افلاک
وہ تیری کرسی منزل ہے یاغوث

تو اپنے وقت کا صدیق اکبر
غنی و حیدر و عادل ہے یاغوث

ولی کا مرسل آئیں خود حضور آئیں
وہ تیری وعظ کی محفل ہے یاغوث

جسے مانگے نہ پائیں جاہ والے
وہ بے مانگے تجھے حاصل ہے یاغوث

فیوض عالم امی سے تجھ پر
عیاں ماضی و مستقبل ہے یاغوث

جو قرنوں سیر میں عارف نہ پائیں
وہ تیری پہلی ہی منزل ہے یاغوث

ملک مشغول ہیں اس کی ثنا میں
وہ تیرا ذاکر و شاغل ہے یاغوث

نہ کیوں ہو تیری منزل عرش ثانی
کہ عرش حق تری منزل ہے یاغوث

وہیں سے ابلے ہیں ساتوں سمندر
جو تیری نہر کا ساحل ہے یاغوث

ملائک کے بشر کا جن کے حلقے
تیری ضو ماہ ہر منزل ہے یاغوث

بخارا و عراق و چشت و اجمیر
تری لو شمع ہر محفل ہے یاغوث

جو تیرا نام لے ذاکر ہے پیارے
تصور جو کرے شاغل ہے یاغوث

جو سروے کر ترا سودا خریدے
خدا دے عقل وہ عاقل ہے یاغوث

کہا تو نے کہ جو مانگو ملے گا
رضا تجھ سے ترا سائل ہے یاغوث