PDA

View Full Version : وصل سوم تفضیل حضور و رغم ہر عد و مقہور



Attari1980
08-10-2009, 09:42 AM
وصل سوم تفضیل حضور و رغم ہر عد و مقہور


بدل یا فرد کو کامل ہے یاغوث
ترے ہی در سے مستکمل ہے یاغوث

جو رتیری یاد سے ذاہل ہے یاغوث
وہ ذکر اللہ سے غافل ہے یاغوث

انا التیاف سے جاہل ہے یاغوث
جو تیرے فضل پر صائل ہے یاغوث

سخن میں اصفیاء تو مغز معنی
بدن ہیں اولیا تو دل ہے یاغوث

اگر وہ جسم عرفاں ہیں تو تو آنکھ
اگر وہ آنکھ ہیں تو تل ہے یاغوث

الوہیت نبوت کے سوا تو
تمام افضال کا قابل ہے یاغوث

نبی کے قدموں پر ہے جر نبوت
کہ ختم اس راہ میں حائل ہے یاغوث

الوہیت ہی احمد نے نہ پائی
نبوت ہی سے تو عاطل ہے یاغوث

صحابیت ہوئی پھر تابعیت
بس آگے قادری منزل ہے یاغوث

ہزاروں تابعی سے تو فزوں ہاں
وہ طبقہ مجملا فاضل ہے یاغوث

رہا میدان و شہر ستان عرفاں
ترا رمنا تری محفل ہے یاغوث

یہ چشتی سہروردی نقشبندی
ہر اک تیری طرف آئل ہے یاغوث

تری چڑیاں ہیں تیرا دانہ پانی
ترا میلہ تری محفل ہے یاغوث

انہیں تو قادری بیعت ہے تجدید
وہ ہاں خاطی جو مستبدل ہے یاغوث

قمر پر جیسے خور کا یوں ترا قرض
سب اہل نور پر فاضل ہے یاغوث

غلط کر دم تو واہب ہے نہ مقرض
تری بخشش ترا نائل ہے یاغوث

کوئی کیا جانے تیرے سرکار رتبہ
کہ تلوا تاج اہل دل ہے یاغوث

مشائخ میں کسی کو تجھ پر تفضیل
بحکم اولیاء باطل ہے یاغوث

جہاں دشوار ہو وہم مساوات
یہ جرات کس قدر ہائل ہے یاغوث

ترے خدام کے آگے ہے اک بات
جو اور اقطاب کو مشکل ہے یاغوث

اسے ادبار جو مدبر ہے تجھ سے
وہ زی اق-بال جو مقبل ہے یاغوث

خدا کے در سے مطر ود و مخذول
جو تیرا تارک و خاذل ہے یاغوث

ستم کوری وہائی رافضی کی
کہ ہندو تک ترا قائل ہے یاغوث

وہ کیا جانے گا فضل مرتضی کو
جو تیرے فضل کا جاہل ہے یاغوث

رضا کے سامنے کی تاب کس میں
فلک وار اس پہ تیرا ظل ہے یاغوث