PDA

View Full Version : لحد میں عشق رخ شہ کا داغ لے کے چلے



Attari1980
08-10-2009, 12:49 PM
لحد میں عشق رخ شہ کا داغ لے کے چلے

لحد میں عشق رخ شہ کا داغ لے کے چلے
اندھیری رات سنی چراغ لے کے چلے
ترے غلاموں کا نقش قدم ہے راہ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے
جناں بنے گی محبان چار یار کی قبر
جو اپنے سینہ میں یہ چار باغ لے کے چلے
گئے زیارت در کی صد آہ واپس آئے
نظر کے اشک پچھے دل کا داغ لے کے چلے
مدینہ جان جنان و جہاں ہے وہ سن لیں
جنہیں جنون جناں سوئے زاغ لے چلے
ترے سحاب سخن سے نہ نم کہ نم سے بھی کم
بلیغ بہر بلاغت بلاغ لے کے چلے
حضور طیبہ سے بھی کوئی کام بڑھ کر ہے
کہ جھوٹے حیلہ و مکر و فراغ لے کے چلے
تمہارے وصف جمال و کمال میں جبریل
محال ہے کہ مجال و مساغ لے کے چلے
گلہ نہیں ہے مرید رشید شیطاں سے
کہ اس کے وسعت علمی کا لاغ لے کے چلے
ہر ایک اپنے بڑے کی برائی کرتا ہے
ہر ایک مغبچہ مغ کا ایاغ لے کے چلے
مگر خدا پہ جو دھبہ دروغ کا تھوپا
یہ کس لعیں کا غلامی کا داغ لے کے چلے
وقوع کذب کے معنی درست اور قدوس
ہیئے کی پھوٹے عجب سبز باغ لے کے چلے
جہاں میں کوئی بھی کافر سا کافر ایسا ہے
کہ اپنے رب پہ سفاہت کا داغ لے کے چلے
پڑی ہے اندھے کو عادت کہ شوربے ہی سے کھائے
بٹیر ہاتھ نہ آئی تو زاغ لے کے چلے
خبیث بہر خبیثہ‘ خبیثہ بہر خبیث
کہ ساتھ جنس کو بازو کلاغ لے کے چلے
جودین کووں کو بیٹھے ان کو یکساں ہے
کلاغ لے کے چلے یا الاغ لے کے چلے
رضا کسی سگ طیبہ کے پاؤں بھی چومے
تم اور آہ کہ اتنا دماغ لے کے چلے

Zaheer2009
08-23-2009, 06:41 AM
:sub

kamirafiq2009
09-01-2009, 08:43 AM
:sub

yasir456
09-06-2009, 04:31 PM
:ja