PDA

View Full Version : رباعیات نعتیہ



Attari1980
08-10-2009, 01:01 PM
رباعیات نعتیہ



پیشہ مرا شاعری نہ دعویٰ مجھ کو
ہاں شرع کا البتہ ہے جنبہ مجھ کو
مولیٰ کی ثنا میں حکم مولیٰ کا خلاف
لوزینہ میں سیر تو نہ بھایا مجھ کو
!!!

ہوں اپنے کلام سے نہایت محظوظ
بیجا سے المنہ للہ محفوظ
قرآن سے میں نے نعت گوئی سیکھی
یعنی رہے احکام شریعت ملحوظ
!!!

محصور جہاں دانی و عالی میں ہے
کیا شبہ رضا کی بیمثالی میں ہے
ہر شخص کو اک وصف میں ہوتا ہے کمال
بندے کو کمال بے کمالی میں ہے
!!!

کس منہ سے کہوں رشک عنادل ہوں میں
شاعر ہوں فصیح بے مماثل ہوں میں
حقا کوئی صنعت نہیں آئی مجھ کو
ہاں یہ ہے کہ نقصان میں کامل ہوں میں
تو شہ میں غم واشک کا ساماں بس ہے
افغان دل زار حدی خواں بس ہے
رہبر کی رہ نعت میں گر حاجت ہو
نقش قدم حضرت حساں بس ہے
!!!

ہر جاہے بلندی فلک کا مذکور
شاید ابھی دیکھے نہیں طیبہ کے قصور
انسان کو انصاف کا بھی پاس رہے
گو دور کے ڈھول ہیں سہانے مشہور
!!!

کس درجہ ہے روشن تن محبوب الہ
جامہ سے عیاں رنگ بدن ہے واللہ
کپڑے یہ نہیں میلے ہیں اس گل کے رضا
فریاد کو آئی ہے سیاہی گناہ
!!!

ہے جلوہ گہ نور الٰہی وہ رو
قوسین کی مانند ہیں دونوں ابرو
آنکھیں یہ نہیں سبزہ مژگاں کے قریب
چرتے ہیں فضائے لا مکاں میں آہو
!!!

معدوم نہ تھا سایہ شاہ ثقلین
اس نور کی جلوہ گہ تھی ذاتی حسنین
تمثیل نے اس سایہ کے دو حصے کیئے
آدھے سے حسن بنے ہیں آدھے سے حسین
!!!

دنیا میں ہر آفت سے بچانا مولیٰ
عقبیٰ میں نہ کچھ رنج دکھانا مولیٰ
بیٹھوں جو در پاک پیمبر کے حضور
ایمان پہ اس وقت اٹھانا مولیٰ
خالق کے کمال ہیں تجدد سے بری
مخلوق نے محدود طبیعت پائی
بالجملہ وجود میں ہے اک ذات رسول
جس کی ہے ہمیشہ روز افزوں خوبی
!!!

ہوں کردو تو گردون کی بناگر جائے
ابرو جو کھچے تیغ قضا گر جائے
اے صاحب قوسین بس اب رد نہ کرے
سہمے ہووں سے تیر بلا پھر جائے
!!!

نقصان نہ دے گا تجھے عصیاں میرا
غفران میں کچھ خرچ نہ ہوگا تیرا
جس سے تجھے نقصان نہیں کردے معاف
جس میں ترا کچھ خرچ نہیں دے مولیٰ
!!!

قطعہ
نہ مرا نوش زتحسین نہ مرا نیش زطعن
نہ مرا گوش بمدحی نہ مرا ہوش ذمے
منم و کنج خمولی کہ نگنجد دروے
جزمن و چند کتابے و دوات و قلمے
!!!

Administrator
08-11-2009, 07:38 AM
:ja

Sohaib123
08-29-2009, 07:54 PM
:ja

Mariya20009
08-30-2009, 06:49 AM
:ja