PDA

View Full Version : جن و انساں و ملک کو ہے بھروسا تیرا



Attari1980
08-15-2009, 02:40 PM
جن و انساں و ملک کو ہے بھروسا تیرا
سرورا مرجعِ ہے درِ والا تیرا

واہ اے عطرِ خدا ساز مہکتا تیرا
خوبرو ملتے ہیں کپڑوں میں پسینہ تیرا

دہر میں آٹھ پہر ہے باڑا تیرا
وقف ہے مانگنے والوں پہ خزانہ تیرا

لا مکاں میں نظر آتا ہےاجالا تیرا
دور پہنچایا تیرے حسن نے شہرہ تیرا

جلوءہ یار ادھر بھی کوئ پھیرا تیرا
حسرتیں آٹھ پہر تکتی ہیں رستہ تیرا

کیا کہے وصف کوئ دشت مدینہ تیرا
پھول کی جان نزاکت میں ہے کانٹا تیرا

یہ نہیں ہے کہ فقط ہے یہ مدینہ تیرا
تو ہے مختار دو عالم پہ ہے قبضہ تیرا


کس کے دامن میں چپھے کس کے قدم پر لوٹے
تیرا سگ جائے کہاں چھوڑکے ٹکڑا تیرا

خسرو کون و مکاں اور تواضع ا یسی
ہاتھ تکیہ ہے تیرا خاک بچھونا تیرا

خوبرویان جہاں تجھ پہ فدا ھوتے ہیں
وہ ہے اے ماہ عرب حسن دل آرا تیرا

دشت پرہول میں گھیرا ہے درندوں نے مجھے
اے مرے خضر ادھر بھی کوئی پھیرا تیرا

بادشاہان جہان بہر گدائی آئیں
دینے پر آئے اگر مانگنے والا تیرا

دشمن و دوست کے مونھ پر ہے کشادہ یکساں
روئے آئینہ ہے مو لٰی درِ والا تیرا

پاؤں مجروح ہیں منزل ہے کڑی بوجھ بہت
آہ گر ایسے میں پایا نہ سہارا تیرا

نیک اچھے ہیں کہ اعمال ہیں ان کے اچھے
ہم بدوں کے لئے کافی ہے بھروسا تیرا

آ فتوں میں ہے گرفتا ر غلام ِ عجمی
اے عرب والے ادھر بھی کوئی پھیرا تیرا

ُاونچے اونچوں کو ترے سامنے ساجد پایا
کس طرح سمجھے کوئی رتبہ اعلٰی تیرا

خارِ صحرائے نبی پاؤں سے کیا کام تجھے
آ مری جان مرے دل میں ہے رستہ تیرا

کیوں نہ ہو ناز مجھے اپنے مقدر پہ کہ ہوں
سگ ترا بندہ ترا مانگنے والا تیرا

اچھے اچھے ہیں ترے در کی گدائی کرتے
اونچے اونچوں میں بٹا کرتا ہے صدقہ تیرا

بھیک بے مانگ فقیروں کو جہاں ملتی ہے
دونوں عالم میں وہ دروازہ ہے کس کا تیرا

کیوں تمنا میری مایوس ہو اے ابر کرم
سوکھے دھانوں کا مددگار ہے چھینٹا تیرا

ہائے پھر خندہء بیجا میرے لب پر آیا
ہائے پھر بھول گیا راتوں کو رونا تیرا

حشر کی پیاس سے کیا خوف پھر گنہگاروں کو
تشنہ کاموں کا خریدار ہے دریا تیرا

سوزنِ گمشدہ سے ملتی ہے تبسم سے ترے
شام کو صبح بناتا ہے اجالا تیرا

صدق نے تجھ میں یہاں تک تو جگہ پائی ہے
کہہ نہیں سکتے اُلش کو بھی جھوٹا تیرا

خاص بندوں کے تصدق میں رہائی پائے
آخر اس کام کاتو ہے یہ نکما تیرا

بند غم کاٹ دیا کرتے ہیں تیرے ابرو
پھیر دیتا ہے بلاؤں کو اشارہ تیرا

حشر کے دن ہنسائے گا خطاکاروں کو
میرے غمخواردل شب میں یہ رونا تیرا

عمل نیک کہاں نامہء بدکاراں میں
ہے غلاموں کو بھروسہ مرے آقا تیرا

بہر دیدار جھک آئے ہیں زمیں پرتارے
واہ اے جلوہ دیدار چمکنا تیرا

اونچی ہوکر نظر آتی ہے ہر اک شے چھوٹی
جاکے خورشید بنا چرخ پہ ذرہ تیرا

اے مدینے کی ہوا دل مرا افسردہ ہے
سوکھی کلیوں کو کھلا جاتا ہے جھونکا تیرا

میرے آقا ہیں وہ ابر کرم اے سوز الم
ایک چھینٹے کا بھی ہوگا نہ یہ دہرا تیرا

اب حسن منقبت خواجہ اجمیر سنا
طبع پرجوش ہے رکتا نہیں خامہ تیرا