PDA

View Full Version : آسماں گر تیری تلوؤں کا نظارہ کرتا



Attari1980
08-15-2009, 03:08 PM
روز اک چاند تصدق میں اتارا کرتا

طوف روضہ ہی پہ چکرائے تھے کچھ ناواقف
میں تو آپے میں نہ تھا جو سجدہ کرتا

صر صر دشت مدینہ جع کرم فرماتی
کیوں میں افسردگی ء وقت کی پرواہ کرتا

چھپ گیا چاند نہ آئی ترے دیدار کی تاب
اور اگر سامنے رہتا بھی تو سجدہ کرتا

یہ وہی ہیں کہ گرو آپ اور ان پر مچلو
الٹی باتوں پہ کہو کون نہ سیدھا کرتا

ہم سے ذروں کی تو تقدیر ہی چمکا جاتا
مہر فرما کے وہ جس راہ سے نکلا کرتا

دھوم ذروں میں انا الشمس کی پڑ جاتی ہے
جس طرف سے ہے گزر چاند ہمارا کرتا

آہ کیا خوب تھا گر حاضر در ہوتا میں
ان کے سایہ کے تلے چین سے سویا کرتا

شوق و آداب بہم گرم کشا کش رہتے
عشق گم کردہ تو ان عقل سے الجھا کرتا

آنکھ اٹھتی تو میں جھنجھلا کے پلک سی لیتا
دل بگڑتا تو میں گھبرا کے سنبھالا کرتا

بےخودانہ کبھی سجدہ میں سوئے در گرتا
جانب قبلہ کبھی چونک کے پلٹا کرتا

بام تک سل کو کبھی بال کبوتر دیتا
خاک پر کر کے کبھی ہائے خدایا کرتا

گاہ مرہم نہی ء زخم جگر میں ریتا
گاہ نشتر زنیء خون تمنا کرتا

پمرہ مہر کبھی گرد خطیرہ پھرتا
سایہ کے ساتھ کبھی خاک پہ لوٹا کرتا

صحبت داغ جگر سے کبھی جی بھلاتا
الفت دست و گریباں کا تماشا کرتا

دل حیراں کو کبھی ذوق تپش پہ لاتا
تپش دل کو کبھی حوصلہ فرسا کرتا

کبھی خود اپنے تحیر پہ حیراں رہتا
کبھی خود اپنے سمجھنے کو نہ سمجھا کرتا

کبھی کہتا کہ یہ بزم ہے کیسی ہے بہار
کبھی انداز تجاہل سے میں توبہ کرتا

کبھی کہتا کہ یہ کیا جوش جنوں ہے ظالم
کبھی پھر گر کر تڑپنے کی تمنا کرتا

ستھری ستھری وہ فضا دیکھ کےمیں غرق گناہ
اپنی آنکھوں میں خود اس بزم میں کھٹکا کرتا

کبھی رحمت کے تصور میں ہنسی آ جاتی
پاس آداب کبھی ہونٹوں کو بخیہ کرتا

دل اگر رنج معاصی سے بگڑنے لگتا
عفو کا ذکر سنا کر میں سنبھالا کرتا

یہ مزے خوبیء قسمت سے جو پائے ہوتے
سخت دیوانہ تھا گر خلد کی پرواہ کرتا

موت اس دن کو جو پھر نام وطن کا لیتا
خاک اس سر پہ جو اس در سے کنارا کرتا

اے حسن قصد مدینہ نہیں رونا ہے یہی
اور میں آپ سے کس بات کا شکوہ کرتا