PDA

View Full Version : اگر قسمت سے میں ان کی گلی میں خاک ہو جاتا



Attari1980
08-15-2009, 03:40 PM
اگر قسمت سے میں ان کی گلی میں خاک ہو جاتا
غم کونین کا سارا بکھیڑا پاک ہو جاتا

جو اے گل جامہء ہستی ترے پوشاک ہو جاتا
تو خار نیستی سے کیوں الجھ کے چاک ہو جاتا

جو وہ ابر کرم پھر آبروئے خاک ہو جاتا
تو اس کے دو چھینٹوں میں زمانہ پاک ہو جاتا

ہوائے دامن رنگیں جو ویرانہ میں آ جاتی
لباس گل میں ظاہر ہر خس و خاشاک ہو جاتا

لب جاں بخش کی قربت حیات جاوداں دیتی
اگر ڈورا نفس کا ریشہء مسواک ہو جاتا

ہوا دل سوختوں کو چاہیے تھی ان کے دامن کی
الٰہی صبح محشر کا گریباں چاک ہو جاتا

اگر دو بوند پانی چشمہء رحمت سے مل جاتا
مری ناپاکیوں کے میل دھلتے پاک ہو جاتے

اگر پیوند ملبوس پیمبر کے نظر آتے
ترا اے حلہء شاہی کلیجہ چاک ہو جاتا

جو وہ گل سونگھ لیتا پھول مرجھایا ہوا بلبل
بہار تازگی میں سب چمن کی ناک ہو جاتا

چمک جاتا مقدر جب در دنداں کی طلعت سے
نہ کیوں رشتہ گہر کا ریشہء مسواک ہو جاتا

عدو کی آنکھ بھی محشر میں حسرت سے نہ مونہہ تکتی
اگر تیراکرم کچھ اے نگاہ پاک ہو جاتا

بہار تازہ رہتیں کیوں خزاں میں دھجیاں اڑتیں
لباس گل جو ان کی ملجگی پوشاک ہو جاتا

کماندار نبوت قادر اندازی میں یکتا ہیں
دو عالم کیوں نہ ان کا بستہء فتراک ہو جاتا

نہ ہوتی شاق گر در کی جدائی تیرے ذرہ کو
قمر اک اور بھی روشن سر افلاک ہو جاتا

تری رحمت کے قبضہ میں ہے پیارے قلب ماہیت
مرے حق میں نہ کیوں زہر گنہ تریاک ہو جاتا

خدا تار رگ جاں کی اگر عزت بڑھا دیتا
شراک نعل پاک سید لولاک ہو جاتا

تجلی گاہ جاناں تک اجالے سے پہنچ جاتے
جو تو اے توسن عمر روداں چالاک ہو جاتا

اگر تیری بھرن اے ابر رحمت کچھ کرم کرتی
ہمارا چشمہء ہستی ابل کر پاک ہو جاتا

حسن اہل نظر عزت سے آنکھوں میں جگہ دیتے
اگر یہ مشت خاک ان کی گلی کی خاک ہو جاتا

Mariya20009
08-16-2009, 05:11 PM
:ja