PDA

View Full Version : منقبت خلیفہ دوم رضی اللہ عنہ



Attari1980
08-17-2009, 02:47 PM
نہیں خوش بخت محتا جان عالم میں کوئی ھم سا کوئی
ملا تقدیر سے حاجت روا فاروق اعظم سا

ترا رشتہ بنا شیرازہ جمیعت خاطر
پڑا تھا دفتر دین کتاب اللہ برہم سا

مراد آئی مرادیں ملنے کی پیاری گھڑی آئی
ملا حاجت روا ہم کو در سلطان عالم سا

ترے جود و کرم کا کوئی اندازہ کرے کیونکر
ترا اک اک گدا فیض و سخاوت میں ہے حاتم سا

خدارا مہر کر اے ذرا پرور مہر نورانی
سیہ بختی سے ہے روز میرا شب غم سا

تمھارے در سے جھولی بھر مرادیں بھر کر اٹھیں گے
نہ کوئی بادشاہ تم سا نہ کوئی بے نوا ہم سا

فدا اے ام کلثوم آپ کی تقدیر یاور کے
علی بابا ہوا دولہا ہوا فاروق اکرم سا

غضب میں دشمنوں کی جان ہے تیغ سر افگن
خروج و رفض کے گھر میں نہ کیوں برپا ہو ماتم سا

شیاطیں مضمحل ہیں تیرے نام پاک کے ڈر سے
نکل جائے نہ کیوں رفاض بد اطوار کا دم سا

منائیں عید جو ذی الحجہ میں تیری شہادت کی
الٰہی روز و ماہ و سن انہیں گزرے محرم سا

حسن در عالم پستی سر سفعت اگر داری
بیا فرق ارادت بردر فاروق اعظم سا