PDA

View Full Version : جانب مغرب وہ چمکا آفتاب



Attari1980
08-17-2009, 02:51 PM
جانب مغرب وہ چمکا آفتاب
بھیک کا مشرق سے نکلا آفتاب

جلوہ فرما ہو جو میرا آفتاب
ذرہ ذرہ سے ہو پیدا آفتاب

عارض پر نور کا صاف آئینہ
جلوہ حق کا چمکتا آفتاب

یہ تجلی گاھ ذات بحت ہے
زلف انور ہے شب آسا آفتاب

دیکھنے والوں کے دل ٹھنڈے کئے
عارض انور ہے ٹھنڈا آفتاب

ہے شب دیجور طیبہ نور سے
ہم سیہ کاروں کا کالا آفتاب

بخت چمکا دے اگر شان جمال
ہو میری آنکھوں کا تارا آفتاب

نور کے سانچےمیں ڈھالا ہے تجھے
کیوں ترے جلووں کا ڈھلتا آفتاب

ناخدائی سے نکالا آپ نے
چشمہ مغرب سے ڈوبا آفتاب

ذرہ کی تابش ہے ان کی راہ میں
یا ہوا ہے گر کے ٹھنڈا آفتاب

گرمیوں پر ہے وہ حسن بے زوال
ڈھونڈتا پھرتا ہے سایہ آفتاب

ان کے در کے ذرہ سے کہتا ہے مہر
ہے تمھارے در کا ذرہ آفتاب

شام طیبہ کی تجلی دیکھ کر
ہو تری بابش کا تڑکا آفتاب

روئے مولٰی سے اگر اٹھتا نقاب
چرخ کھا کر غش میں گرتا آفتاب

کہہ رہی ہے صبح مولد کی ضیاء
آج اندھیرے سے ہے نکلا آفتاب

وہ اگر دیں نکہت و طلعت کی بھیک
ذرہ ذرہ ہو مہکتا آفتاب

تلوے اور تلوے کے جلوے پر نثار
پیارا پیارا نور پیارا آفتاب

اے خدا ہم ذروں کے بھی دن پھریں
جلوہ فرما ہو ھمارا آفتاب

ان کے ذرہ کے نہ سر چڑھ حشر میں
دیکھ اب بھی ہے سویرا آفتاب

جس سے گزرے اے حسن وہ مہر حسن
اس کا ہو اندھیرا آفتاب