PDA

View Full Version : دشت مدینہ کی ہے عجب پر بہار صبح



Attari1980
08-17-2009, 02:59 PM
دشت مدینہ کی ہے عجب پر بہار صبح

دشت مدینہ کی ہے عجب پر بہار صبح
ہر ذرہ کی چمک سے عیاں ہیں ہزار صبح

مونھ دھو کے جوئے شیر میں آئے ہزار صبح
شام حرم کی پائے نہ ہر گز بہار صبح

اللہ اپنے جلوہء عارض کی بھیک دے
کر دے سیاہ بخت کی شب ہائے تار صبح

روشن ہے ان کی جلوہ رنگیں کی تابشیں
بلبل ہیں جمع ایک چمن میں ہزار صبح

رکھتی ہے شام طیبہ کچھ ایسی تجلیاں
سو جان سے ہو جس کی ادا پر نثار صبح

نسبت نہیں سحر کو گریبان پاک سے
جوش فروغ سے ہے عیاں تار تار صبح

آتے ہے پاسبان در شہ فلک سے روز
ستر ہزار شام تو ستر ہزار صبح

اے ذرہ ء مدینہ خدارا نگاہ مہر
تڑکے سے دیکھتی ہے ترا انتظار صبح

زلف حضور عارض پر نور پر نثار
کیا نور بار شام ہے کیا جلوہ بار صبح

نور ولادت مہ طیبہ کا فیض ہے
رہتی ہے جنتوں میں جو لیل و نہار صبح

ہر ذرہ حرم سے نمایاں ہزار مہر
ہر مہر سے طلوع کناں بے شمار صبح

گیسو کے بعد یاد ہو رخسار پاک کی
ہو مشک بار شام کی کافور بار صبح

کیا نور دل کو نجدی تیرہ دلوں سے کام
تا حشر شام سے نہ ملے زینہار صبح

حسن شباب ذرہ طیبہ کچھ اور ہے
کیا کور باطن آئینہ کیا شیر خوار صبح

بس چل سکے تو شام سے پہلے سفر کرے
طیبہ کی حاضری کے لیے بے قرار صبح

مایوس کیوں ہو خاک نشیں حسن یار سے
آخر ضیائے ذرہ کی ہے ذمہ دار صبح

کیا دشت پاک طیبہ سے آئی ہے اے حسن
لائی جو اپنی جیب میں نقد بہار صبح