PDA

View Full Version : جناب مصطفے ہوں جس سے نا خوش



Attari1980
08-18-2009, 01:30 PM
جناب مصطفے ہوں جس سے ناخوش

جناب مصطفے ہوں جس سے نا خوش
نہیں ممکن ہو اس سے خدا خوش

شہ کونین نے جب صدقہ بانٹا
زمانے بھر کو دم میں کر دیا خوش

سلاطیں مانگتے ہیں بھیک اس سے
یہ اپنے گھر سے ہے ان کا خدا خوش

پسند حق تعالٰی تیری ہر بات
ترے انداز خوش تیری ادا خوش

مٹیں سب ظاہر و باطن کے امراض
مدینہ کی ہے یہ آب و ہوا خوش

فترضٰے کی محبت کے تقاضے
کہ جس سے آپ خوش اس سے خدا خوش

ہزاروں جرم کرتا ہوں شب و روز
خوشا قسمت نہیں وہ پھر بھی نا خوش

الٰہی دے مرے دل کو غم عشق
نشاط دہر سے ہو جاوں نا خوش

نہیں جاتیں کبھی دشت نبی سے
کچھ ایسی ہے بہاروں کی فضا خوش

مدینہ کی اگر سرحد نظر آئے
دل ناشاد ہو بے انتہا خوش

نہ لے آرام دم بھر بے غم عشق
دل مضطر میں خوش میرا خدا خوش

نہ تھا ممکن کہ ایسی معصیت پر
گنہگاروں سے ہو جاتا ہے خدا خوش

تمہاری روتی آنکھوں نے ہنسایا
تمھارے غمزدہ دل نے کیا خوش

الٰہی دھوپ ہو ان کی گلی کی
مرے سر کو نہیں ظل ہما خوش

حسن نعت و چنیں شیریں بیانی
تو خوش باشی کہ کر دی وقت ماخوش