PDA

View Full Version : سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض



Attari1980
08-18-2009, 01:35 PM
سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض

سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرض
یہ عرض ہے حضور بڑے بے نوا کی عرض

ان کے گدا کے در پہ ہے یوں بادشاہ کی عرض
جیسے ہو بادشاہ کے در پہ گدا کی عرض

عاجز نوازیوں پہ کرم ہے تلا ہوا
وہ دل لگا کے سنتے ہیں ہر بے نوا کی عرض

قربان ان کے نام کے بے ان کے نام کے
مقبول ہو نہ خاص جناب خدا کی عرض

غم کی گھٹائیں چائیں ہیں مجھ تیرہ بخت پر
اے مہر سن لے ذرہ بیدست و پا کی عرض

اے بیکسوں کے حامی و یاور سوا ترے
کس کو غرض ہے کون سنے مبتلا کی عرض

اے کیمیائے دل میں ترے در کی خاک ہوں
خاک در حضور سے ہے کیمیا کی عرض

الجھن سے دور نور سے معمور کر مجھے
اے زلف پاک ہے یہ اسیر بلا کی عرض

دکھ میں رہے کوئی یہ گوارا نہیں انہیں
مقبول کیوں نہ ہو دل درد آشنا کی عرض

کیوں دوں طول حضور یہ دیں یہ عطا کریں
خود جانتے ہیں آپ مرے مدعا کی عرض

دامن بھریں گے دولت فضل خدا سے ہم
خالی کبھی گئی ہے حسن مصطفٰے کی عرض