PDA

View Full Version : چشم دل چاہے جو انوار سے ربط



Attari1980
08-18-2009, 01:35 PM
چشم دل چاہے جو انوار سے ربط

چشم دل چاہے جو انوار سے ربط
رکھے خاک در دلدار سے ربط

ان کی رحمت کا طلبگار سے میل
ان کی رحمت کا گنہگار سے ربط

دشت طیبہ کی جو دیکھ آئیں بہار
ہو عنادل کو نہ گلزار سے ربط

یا خدا دل نہ ملے دنیا سے
نہ ہو آئینہ کو زنگار سے ربط

نفس سے میل نہ کرنا اے دل
قہر ہے ایسے ستم گار سے ربط

دل نجدی میں ہو کیوں حب حضور
ظلمتوں کو نہیں انوار سے ربط

تلخیء نزع سے اس کو کیا کام
ہو جسے لعل شکر بار سے ربط

خاک طیبہ کی اگر مل جائے
آپ صحت کرے بیمار سے ربط

ان کے دامان گہر بار کو ہے
کاسہ ء دوست طلبگار سے ربط

کل ہے اجلاس کا دن اور ہمیں
میل عملہ سے نہ دربار سے ربط

عمر یوں ان کی گلی میں گزرے
ذرہ ذرہ سے بڑھے پیار سے ربط

سر شوریدہ کو ہو در سے میل
کمر خستہ کو دیوار سے ربط

اے حسن خیر ہے کیا کرتے ہو
یار کو چھوڑٍ کر اغیار سے ربط