PDA

View Full Version : مدینہ میں ہے وہ سامان بارگاہ رفیع



Attari1980
08-18-2009, 01:40 PM
مدینہ میں ہے وہ سامان بارگاہ رفیع

مدینہ میں ہے وہ سامان بارگاہ رفیع
عروج و اوج ہیں قربان رفیع

نہیں گدا ہی سر خوان بارگاہ رفیع
خلیل بھی تو ہیں مہمان بارگاہ رفیع

بنائے دونوں جہاں مجرئی اسی در کے
کیا خدا نے جو سامان بارگاہ رفیع

زمین عجز پہ سجدہ کرائیں شاہوں سے
فلک جناب غلامان بارگاہ رفیع

ہے انتہائے علا ابتدائے اوج یہاں
ورا خیال سے ہے شان بارگاہ رفیع

کمند رشتہ ء عمر خضر پہنچ نہ سکے
بلند اتنا ہے ایوان بارگاہ رفیع

وہ کون جو نہیں فیضیاب اس در سے
سبھی ہے بندہ ء احسان بارگاہ رفیع

نوازے جاتے ہیں ہم سے نمک حرام غلام
ہماری جان ہو قربان بارگاہ رفیع

مطیع نفس ہیں وہ سرکشان جن و بشر
نہیں جو تابع فرمان بارگاہ رفیع

صلائے عام ہیں مہماں نواز ہیں سرکار
کبھی اٹھا ہی نہیں خوان بارگاہ رفیع

جمال شمس و قمر کا سنگار ہے شب و روز
فروغ شمسہ ء ایوان بارگاہ رفیع

ملائکہ ہیں فقط داب سلطنت کے لئے
خدا ہے آپ نگہبان بارگاہ رفیع

حسن جلالت شاہی سے کیوں جھجکتا ہے
گدا نواز ہے سلطان بارگاہ رفیع