PDA

View Full Version : رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف



Attari1980
08-18-2009, 01:43 PM
رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف

رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف
رحمٰن خود ہے میرے طرفدار کی طرف

جان جناں ہے دشت مدینہ تری بہار
بلبل نہ جائے گی کبھی گلزار کی طرف

انکار کا وقوع تو کیا ہو کریم سے
مائل ہوا نہ دل کبھی انکار کی طرف

جنت بھی لینے آئے تو چھوڑیں گے نہ یہ گلی
مونہہ پھیر بیٹھیں ہم تری دیوار کی طرف

مونہہ اس کا دیکھتی ہیں بہاریں بہشت کی
جس کی نگاہ ہے ترے رخسار کی طرف

جاں بخشیاں مسیح کو حیرت میں ڈالتیں
چپ بیٹھے دیکھتے تری رفتار کی طرف

محشر میں آفتاب ادھر گرم اور ادھر
آنکھیں لگی ہیں دامن دلدار کی طرف

پھیلا ہوا ہے ہاتھ ترے در کے سامنے
گردن جھکی ہوئی تری دیوار کی طرف

گو بے شمار جرم ہیں گو بے عدد گناہ
کچھ غم نہیں جو تم ہو گنہگار کی طرف

یوں مجھ کو موت آئے تو کیا پوچھنا مرا
میں خاک پر نگاہ در یار کی طرف

کعبے کے صدقے دل کی تمنا مگر یہ ہے
مرنے کے وقت مونہہ ہو در یار کی طرف

دے جاتے ہیں مراد جہاں مانگئے وہاں
مونھ ہونا چاہئے در سرکار کی طرف

روکے گی حشر میں جو مجھے پا شکستگی
دوڑیں گے ہاتھ دامن دلدار کی طرف

آہیں دل اسیر سے لب تک نہ آئی تھیں
اور آپ دوڑے آئے گرفتار کی طرف

دیکھی جو بے کسی تو انہیں رحم آ گیا
گھبرا کے ہو گئے وہ گنہگار کی طرف

ملتی ہے بھیک دوڑتے پھرتے ہیں بے نوا
در کی طرف کبھی کبھی دیوار کی طرف

عالم کے دل تو بھر گئے دولت سے کیا عجب
گھر دوڑنے لگیں در سرکار کی طرف

آنکھیں جو بند ہوں تو مقدر کھلے حسن
جلوے خود آئیں طالب دیدار کی طرف

sweet madina very lovely
08-18-2009, 06:55 PM
:bis
:saw
:sub :sub :sub
:ma :ma :ma

رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف
رحمٰن خود ہے میرے طرفدار کی طرف

:ja Attari Bhai!