PDA

View Full Version : ترا ظہور ہوا چشم نور کی رونق



Attari1980
08-18-2009, 01:44 PM
ترا ظہور ہوا چشم نور کی رونق

ترا ظہور ہوا چشم نور کی رونق
ترا ہی نور ہے بزم ظہور کی رونق

رہے نہ عفو میں پھر ایک ذرہ شک باقی
جو ان کی خاک قدم ہو قبور کی رونق

نہ فرش کا یہ تجمل نہ عرش کا یہ جمال
فقط ہے نور و ظہور حضور کی رونق

تمھارے نور سے روشن ہوئے زمین و فلک
یہی جمال ہے نزدیک و دور کی رونق

زبان حال سے کہتے ہیں نقش پا ان کے
ہمیں ہیں چہرہ ء غلمان و حور کی رونق

ترے نثار ترا ایک جلوہ ء رنگیں
بہار جنت و حور و قصور کی رونق

ضیا زمین و فلک کی ہے جس تجلی سے
الٰہی ہو وہ دل نا صبور کی رونق

یہی فروغ تو زیب صفا و زینت ہے
یہی ہے حسن تجلی و نور کی رونق

حضور تیرہ و تاریک ہے یہ پتھر دل
تجلیوں سے ہوئی کوہ طور کی رونق

سجی ہے جن سے شبستان عالم امکاں
وہی ہیں مجلس روز نشور کی رونق

کریں دلوں کو منور سراج کے جلوے
فروغ بزم عوارف ہو نور کی رونق

دعا خدا سے غم عشق مصطفٰے کی ہے
حسن یہ غم ہے نشاط و سرور کی رونق