PDA

View Full Version : اہ لطف کے امیدوار ہم بھی ہیں



Attari1980
08-20-2009, 03:57 PM
نگاہ لطف کے امیدوار ہم بھی ہیں

نگاہ لطف کے امید وار ہم بھی ہیں
لئے ہوئے تو دل بےقرار ہم بھی ہیں

ہمارے دست تمنا کی لاج بھی رکھنا
ترے فقیروں میں اے شہر یار ہم بھی ہیں

ادھر بھی توسن اقدس کے دو قدم جلوے
تمھاری راہ میں مشت غبار ہم بھی ہیں

کھلا دو غنچہء دل صدقہ باد امن کا
امیدوار نسیم بہار ہم بھی ہیں

تمھاری ایک نگاہ کرم میں سب کچھ ہے
پڑے ہوئے تو سر راہ گزار ہم بھی ہیں

جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعل پاک حضور
تو پھر کہیں گے کہ ہاں تاجدار ہم بھی ہیں

یہ کس شہنشاہ والا کا صدقہ بٹتا ہے
کہ خسروؤں میں پڑی ہے پکار ہم بھی ہیں

ہماری بگڑی بنی ان کے اختیار میں ہے
سپرد انھیں کے ہیں سب کاروبار ہم بھی ہیں

حسن ہے جن کی سخاوت کی دھوم عالم میں
انھیں کے تم بھی ہو یک ریزہ خوار ہم بھی ہیں