PDA

View Full Version : تم ذات خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو



Attari1980
08-20-2009, 04:02 PM
تم ذات خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو

تم ذات خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو
اللہ کو معلوم ہے کیا جانے کیا ہو

یہ کیوں کہوں مجھ کو یہ عطا ہو یہ عطا ہو
وہ دو کہ ہمیشہ میرے گھر بھر کا بھلا ہو

جس بات میں مشہور جہاں ہے لب عیسٰی
اے جان جہاں وہ تری ٹھوکر سے ادا ہو

ٹوٹے ہوئے دم جوش پہ طوفان معاصی
دامن نہ ملے ان کا تو کیا جانئے کیا ہو

یوں جھک کے ملے ہم سے کمینوں سے وہ جس کو
اللہ نے اپنے ہی لئے خاص کیا ہو

مٹی نہ وہ برباد پس مرگ الٰہی
جب خاک اڑے میری مدینہ کی ہوا ہو

منگتا تو ہے منگتا کوئی شاہوں میں دکھا دے
جس کو مرے سرکار سے ٹکڑا نہ ملا ہو

قدرت نے ازل میں یہ لکھا ان کی جبیں پر
جو ان کی رضا ہو وہی خالق کی رضا ہو

ہر وقت کرم بندہ نوازی پہ تلا ہے
کچھ کام نہیں اس سے کہ برا ہو یا بھلا ہو

سو جاں سے گنہگار کا ہو رخت عمل چاک
پردہ نہ کھلے گر ترے دامن سے بندھا ہو

ابرار نکوکار خدا کے ہیں خدا کے
ان کا ہے وہ ان کا ہے بد ہو یا برا ہو

اے نفس انھیں رنج دیا اپنی بدی سے
کیا قہر کیا تو نے ارے تیرا برا ہو

اللہ یونہی عمر گزر جائے گدا کی
سر خم ہو در پاک پر اور ہاتھ اٹھا ہو

شاباش حسن اور چمکتی سی غزل پڑھ
دل کھول کر آئینہ ایماں کی جلا ہو

sweet madina very lovely
08-20-2009, 05:50 PM
:bis
:saw
:ja