PDA

View Full Version : نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے میں



Attari1980
08-20-2009, 04:06 PM
نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے میں

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے میں
اٹھا لیجئے تھوڑی خاک ان کے آستانے سے

تمھارے در کے ٹکڑوں سے پڑا پلتا ہے اک عالم
گزارا سب کا ہوتا ہے اسی محتاج خانے سے

شب اسرٰی کے دولھا پر نچھاور ہونے والی تھی
نہیں تو کیا غرض تھی اتنی جانوں کے بنانے سے

کوئی فردوس ہو یا خلد ہو ہم کو غرض مطلب
لگایا اب تو بستر آپ ہی کے آستانے سے

نہ کیوں ان کی طرف اللہ سو سو پیار سے دیکھے
جو اپنی آنکھیں ملتے ہیں تمھارے آستانے سے

تمھارے تو وہ احساں اور یہ نافرمانیاں اپنی
ہمیں تو شرم سی آتی ہے تم کو منہ دکھانے سے

بہار خلد صدقے ہو رہی ہے روئے عاشق پر
کھلی جاتی ہیں کلیاں دل کی تیرے مسکرانے سے

زمیں تھوڑی سی دیدے بہر مدفن اپنے کوچہ میں
لگا دے میرے پیارے میری مٹی بھی ٹھکانے سے

پلٹتا ہے جو زائر اس سے کہتا ہے نصیب اس کا
ارے غافل قضا بہتر ہے یہاں سے پھر کے جانے سے

بلالو اپنے در پر اب تو ہم خانہ بدوشوں کو
پھریں کب تک ذلیل خوار در در بے ٹھکانے سے

نہ پہنچے ان کے قدموں تک نہ کچھ حسن عمل ہی ہے
حسن کیا پوچھتے ہو ہم گئے گزرے زمانے سے