PDA

View Full Version : تمہید ذکر معراج شریف



Attari1980
08-27-2009, 10:04 AM
مسدسات
تمہید ذکر معراج شریف

ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہے
ہم بیکسوں کے حال پہ تجھ کو نظر بھی ہے
جوش عطش بھی شدت سوز جگر بھی ہے
کچھ تلخ کامیاں بھی ہیں کچھ درد سر بھی ہے
ایسا عطا ہو جام شراب طہور کا
جس کے خمار میں بھی مزہ ہو سرور کا

اب دیر کیا ہے بادہء عرفاں قوام دے
ٹھنڈے پڑے کلیجہ میں جس سے وہ جام دے
تازہ ہو روح پیاس بجھے لطف تام دے
یہ تشنہ کام تجھ کو دعائیں مدام دے
انہیں سرور آئے مزے جھوم جھوم کر
ہو جاؤں بے خچر اب ساغر کو چوم کر

فکر بلند سے ہو عیاں اقتدار اوج
چہے ہزار خامہ سر شاخسار اوج
ٹپکے گل کلام سے رنگ بہار اوج
بات بات شان عروج افتخار اوج
فکر و خیال نور کے سانچوں میں ڈھل چلیں
مضموں فراز عرش سے اونچے نکل چلیں

اس شان اس ادا سے ثنائے رسول ہو
ہر شعر شاخ گل ہو تو ہر لفظ پھول ہو
حضار پر سحاب کرم کا نزول ہو
سرکار میں یہ نذر محقر قبول ہو
ایسی تعلیوں سے ہو معراج کا بیاں
سب حاملان عرش سنیں آج کا بیاں

معراج کی یہ رات ہے رحمت کی رات ہے
فرحت کی آج شام ہے عشرت کی رات ہے
ہم تیرہ اختروں کی شفاعت کی رات ہے
اعزاز ماہ طیبہ کی رویت کی رات ہے
پھیلا ہوا ہے سرمہء تسخیر چرخ پر
یا زلف کھولے پھرتی ہیں حوریں ادھر ادھر

دل سوختوں کے دل کا سویدا کہوں اسے
ہر فلک کی آنکھ کا تارا کہوں اسے
دیکھوں جو چشم قیس سے لیلٰی کہوں اسے
اپنے اندھیرے گھر کا اجالا کہوں اسے
یہ شب ہے یا سواد وطن آ شکار ہے
مشکیں غلاف کعبہء پروردگار ہے

اس رات میں نہیں یہ اندھیرا جھکا ہوا
کوئی علیم پوش مراقب ہے یا خدا
مشکیں لباس یا کوئی محبوب دلربا
یا آ ہوئے سیاہ یہ چرتے ہیں جا بجا
ابر سیاہ مست اٹھا حال وجد میں
لیلٰی نے بال کھولے ہیں صحرائے نجد میں

یہ رت کچھ اور ہے یہ ہوا ہی کچھ اور ہے
اب کی بہار ہوش ربا ہی کچھ اور ہے
روئے عروس گل میں صفا ہی کچھ اور ہے
چبھتی ہوئی دلوں میں ادا ہی کچھ اور ہے
گلشن کھلائے باد صبا نے نئے نئے
گاتے ہیں عندلیب ترانے نئے نئے

ہر ہر کلی ہے مشرق خورشید نور سے
لپٹی ہے ہر نگاہ تجلیء طور سے
زوہت ہے سے کے منہ پہ دلوں کے سرور سے
مردے ہیں بے قرار حجاب قبور سے
ماہ عرب کے جلوے جو اونچے نکل گئے
خورشید و ماہتاب مقابل سے ٹل گئے

ہر سمت سے بہار نواخوانیوں میں ہے
نیسان جود رب گہر افشانیوں میں ہے
چشم کلیم جلوے کے قربانیوں میں ہے
غل آمد حضور کا روحانیوں میں ہے
اک دھوم ہے حبیب کو مہماں بلاتے ہیں
بہر براق خلد کو جبریل جاتے ہیں

kashif99
08-29-2009, 08:54 PM
:ja

imranattari
02-28-2011, 07:35 PM
سبحان اللہ