PDA

View Full Version : عرض سلام بدرگاہ خیرالانام علیہ الصلٰوۃ و 



Attari1980
08-27-2009, 10:07 AM
عرض سلام
بدرگاہ خیرالانام علیہ الصلٰوۃ و السلام

السلام اے خسرو دنیا و بدیں
السلام اے راحت جان حزیں

السلام اے بادشاہ دو جہاں
السلام اے سرور کون و مکاں

السلام اے نور ایماں السلام
السلام اے راحت جاں السلام

اے شکیب جان مضطر السلام
آفتاب ذرہ پرور السلام

درد و غم کے چارہ فرما السلام
درد مندوں کے مسیحا السلام

اے مردایں دینے والے السلام
دونوں عالم کے اُجالے السلام

درد و غم میں مبتلا ہے یہ غریب
دم چلا تیری دہائی اے طبیب

نبضیں ساقط روح مضطر جی نڈھال
درد عصیاں سے ہوا ہے غیر حال

بے سہاروں کے سہارے ہیں حضور
حامی و یاور ہمارے ہیں حضور

ہم غریبوں پر کرم فرمائیے
بد نصیبوں پر کرم فرمائیے

بے قراروں کے سرہانے آئیے
دلفگاروں کے سرہانے آئیے

جاں بلب کی چارہ فرمائی کرو
جان عیسٰی ہو مسیحائی کرو

شام ہے نزدیک منزل دور ہے
پاؤں کیسے جان تک رنجور ہے

مغربی گوشوں میں پھوٹی ہے شفق
زردیء خورشید سے ہے رنگ فق

راہ نا معلوم صحرا پر خطر
کوئی ساتھی ہے نہ کوئی راہبر

طائروں نے بھی بسیرا لے لیا
خواہش پرواز کو رخصت کیا

ہر طرف کرتا ہوں حیرت سے نگاہ
پر نہیں ملتی کسی صورت سے راہ

سو بلائیں چشم تر کے سامنے
یاس کی صورت نظر کے سامنے

دل پریشاں بات گھبرائی ہوئی
شکل پر افسردگی چھائی ہوئی

ظلمتیں شب کی غضب ڈھانے لگیں
کالی کالی بدلیاں چھانے لگیں

ان بلاؤں میں پھنسا ہے خانہ زاد
آفتوں میں پھنسا ہے خانہ زاد

اے عرب کے چاند اے مہر عجم
اے خدا کے نور اے شمع حرم

فرش کی زینت ہے دَم سے آپ کے
عرش کی عزت قدم سے آپ کے


آپ سے ہے جلوہ ء حق کا ظہور
آپ ہی ہیں نور کی آنکھوں کے نور

آپ سے روشن ہوئے کون و مکاں
آپ سے پُر نور ہے بزم جہاں

اے خداوند عرب شاہ عجم
کیجئے ہندی غلاموں پر کرم

ہم سیہ کاروں پہ رحمت کیجئے
تیرہ بختوں کی شفاعت کیجئے

اپنے بندوں کی مدد فرمائیے
پیارے حامی مسکراتے آئیے

ہو اگر شان تبسم کا کرم
صبح ہو جائے شب دیجور غم

ظلمتوں میں گم ہوا ہے راستہ
المدد اے خندہء دنداں نما

ہاں دکھا جانا تجلی کی ادا
ٹھوکریں کھاتا ہے پردیسی ترا

دیکھئے کب تک چمکتے ہیں نصیب
دیر سے ہے لو لگائے یہ غریب

ملتجی ہوں میں عرب کے چاند سے
اپنے رب سے اپنے رب کے چاند سے

میں بھکاری ہوں تمہارا تم غنی
لاج رکھ لو میرے پھیلے ہاتھ کی

تنگ آیا ہو دل ناکام سے
اس نکمے کو لگا دو کام سے

آپ کا دربار ہے عرش اشتباہ
آپ کی سرکار ہے بیکس پناہ

مانگتے پھرتے ہیں سلطان و امیر
رات دن پھیری لگاتے ہیں فقیر

غمزدوں کو آپ کر دیتے ہیں شاد
سب کو مل جاتی ہے منہ مانگی مراد

میں تمہارا ہوں گدائے بے نوا
کیجئے اپنے بے نواؤں پر عطا

میں غلام ہیچکارہ ہوں حضور
ہیچکاروں پر کرم ہے پر ضرور

اچھے اچھوں کے ہیں گاہک ہر کہیں
ہم بدوں کی ہے خریداری یہیں

کیجئے رحمت حسن پر کیجئے
دونوں عالم کی مرادیں دیجئے

imranattari
02-28-2011, 07:44 PM
سبحان اللہ