PDA

View Full Version : سلسلہ آہ ! گناہوں کا بڑھا جاتا ہے



Attari1980
11-03-2009, 06:53 PM
سلسلہ آہ ! گناہوں کا بڑھا جاتا ہے

سلسلہ آہ گناہوں کا بڑھا جاتا ہے
نت نیا جرم ہر اک آن ہوا جاتا ہے

قلب پتھر سے بھی سخت ہوا جاتا ہے
دل پر اک خول سیاہی کا چڑھا جاتا ہے

نفس و شیطان کی ہر آن اطاعت دل پر
آہ! مائل مرے اللہ ہوا جاتا ہے

لاؤں وہ اشک کہاں سے جو سیاہی دھوئیں
گندگی میں مرا دل حد سے بڑھا جاتا ہے

عارضی آفت دنیا سے تو گھبراتا ہے
ہائے بےخوف عذابوں سے ہوا جاتا ہے

یہ تیرا جسم جو بیمار ہے تشویش نہ کر
یہ مرض تیرے گناہوں کو مٹا جاتا ہے

اصل برباد کن امراض گناہوں کے ہیں
بھائی کیوں اس کو فراموش کیا جاتا ہے

اصل آفت تو ہے ناراضی رب اکبر
اس کو کیوں بھول کے برباد ہوا جاتا ہے

المدد یا شہ ابرار مدینے والے
قلب سے خوف خدا دور ہو جاتا ہے

آہ دولت کی حفاظت میں تو سب ہیں کوشاں
حفظ ایمان کا تصور ہی مٹا جاتا ہے

یاد رکھو وہی بے عقل ہے احمق ہے جو
کثرت مال کی چاہت میں مرا جاتا ہے

اپنی الفت کا مجھے جام پلا دو ساقی
قلب دنیا کی محبت میں پھنسا جاتا ہے

امتحان کے کہاں قابل ہوں میں پیارے اللہ
بے سبب بخش دے مولٰی تیرا کیا جاتا ہے

آہ جاتی نہیں ہے عادت یاوہ گوئی
وقت انمول یوں برباد ہو جاتا ہے

آہ! آنسو غم دنیا میں بہے جاتے ہیں
دل بھی دنیا کے غموں ہی میں جلا جاتا ہے

اپنا غم ایسا عطا کر کہ کلیجہ پھٹ جائے
دیکھ کے سب کہیں دیوانہ چلا جاتا ہے

ولولہ سنت محبوب کا دے دے مالک
آہ! فیشن پہ مسلمان مرا جاتا ہے

تیرے دیوانے مدینے کے لئے ہیں بیتاب
جانے کب اذن مدینے کا دیا جاتا ہے

آخری وقت ہے آ جا مرے مدنی آ جا
آہ مجرم تیرا دنیا سے شہا جاتا ہے

جلوہ پاک دکھا جا مرے مدنی آ جا
آہ مجرم تیرا دنیا سے شہا جاتا ہے

مجھ کو اب کلمہ پڑھا جا مرے مدنی آ جا
آہ مجرم تیرا دنیا سے شہا جاتا ہے

مجھ کو سینے سے لگا جا مرے مدنی آ جا
آہ مجرم تیرا دنیا سے شہا جاتا ہے

میرے عصیاں کو مٹا جا مرے مدنی آ جا
آہ مجرم تیرا دنیا سے شہا جاتا ہے

میرے آقا سر محشر مرا پردا رکھنا
راز عیبوں کا مرے فاش ہو جاتا ہے

آؤ اب بہر شفاعت مرے شافع آؤ
آہ بدکار عذابوں میں گھرا جاتا ہے

مسکرا کر مری سرکار مجھے کہہ دو نا
آ تجھے دامن رحمت میں لیا جاتا ہے

کاش عطار سے فرمائیں قیامت میں حضور
لے مبارک کہ تجھے بخش دیا جاتا ہے