PDA

View Full Version : ے کاش شب تنہائی میں فرقت کا الم تڑپاتا رہے



Attari1980
11-05-2009, 07:59 PM
اے کاش شب تنہائی میں فرقت کا الم تڑپاتا رہے

اے کاش شب تنہائی میں فرقت کا الم تڑپاتا رہے
لمحہ لمحہ الفت کی آگ کو اور بھی بھڑکاتا رہے

بے تاب جگر قلب مضطر دے دیجئے سرور چشم تر
ہر وقت بھروں ٹھنڈی آہیں غم تیرا خوں رلاتا رہے

بے چین رہوں بے تاب رہوں، میں ہچکیاں باندھ کے روتا رہوں
یہ ذوق جنون بڑھتا ہی رہے ہر دم یہ مجھ کو رلاتا رہے

میں عشق میں یوں گم ہو جاؤں ہرگز نہ اپنا پتہ پاؤں
دیوانہ زمانہ کہہ کر، پتھر مجھ پر برساتا رہے

جب آؤں مدینے روتا ہوا سامنے ہو جب روضہ تیرا
اٹھ جائے نقاب رخ ساقی تو جام دید پلاتا رہے

بے کس ہوں شہا میں دکھیارا، ہر اک نے مجھے ہے دھتکارا
تو ہمدم ہے پھر کیا غم ہے گو سارا جہاں ٹھکراتا رہے

صد شکر خدایا تونے دیا ہے رحمت والا وہ آقا http://www.irshad-ul-islam.com/images/smilies/pbuh.gif
جو امت کے رنج و غم میں راتوں کو اشک بہاتا رہے

جب گرمی محشر ہو زوروں پر، اس وقت تمنا ہے سرور
ہم پیاس کے ماروں کو کوثر کے جام پہ جام پلاتا رہے

ہے میری تمنا میرے خدا، ہر بہن مری ہر بھائی مرا
ہر “دعوت اسلامی“ والا سنت کا علم لہراتا رہے

ہے تجھ سے دعاء رب اکبر مقبول ہو “فیضان سنت“
ہر مسجد، ہر گھر میں پڑھ کر اسلامی بھائی سناتا رہے

جب میرا یاور ہے سرور پھر ڈر محشر کا ہو کیونکر !
وہ حشر میں رسوا کیسے کرے جو عیب یہاں پہ چھپاتا رہے

جب تن سے جدا ہو جاں مضطر اس وقت ہو جلوہ پیش نظر
ہو قبر میں بھی سایہ گستر تو میٹھی نیند سلاتا رہے

یارب (عزوجل) یہ دعاء عطار کی ہے جب تک زندہ دنیا میں رہے
محبوب کی سنت عام کرے یہ ڈنکا دین کا بجاتا رہے