PDA

View Full Version : مجھے بلالو شہہ مدینہ یہ ہجر کا غم ستا رہا ہے



Attari1980
11-05-2009, 08:03 PM
مجھے بلالو شہہ مدینہ یہ ہجر کا غم ستا رہا ہے

مجھے بلالو شہہ مدینہ ہجر کا غم ستا رہا ہے
میں در پہ آؤں یہی تو ارمان دل میں طوفان مچا رہا ہے

ہے سہنا دشوار جدائی مری ہو در تک شہا رسائی
نہیں بھروسہ ہے زندگی کا یہ دل مرا ڈوبا جا رہا ہے

نہیں تمنائے مال و دولت نہیں مجھے خواہش حکومت
مری نظر میں حسین و دلکش وہ سبز گنبد سما رہا ہے

یہی تو حسرت رہی ہے دل میں مجھے اجل بھی وہیں پہ آئے
جہاں پہ آقا ہے پیارا روضہ یہی تو ارمان سدا رہا ہے

ہے جھولی خالی اے شاہ عالی ہے عرض کرتا ترا سوالی
ذلیل منگتا مرادیں لینے کو ہاتھ گندے بڑھا رہا ہے

اے بینواؤ گداؤ آؤ پسارے دامن صفیں بناؤ
خزانہ رحمت کا بانٹتا وہ خدا کا محبوب آرہا ہے

گدائے درجاں بلب ہے آقا نقاب اٹھاؤ دکھا دو جلوہ
ہو تشنہ دید پر عنایت جہاں سے پیاسا ہی جا رہا ہے

میں گور تیرہ میں آ پڑا ہوں فرشتے بھی آچکے ہیں سر پر
چلے گئے ناز اٹھانے والے ترا ہی اب آسرا ہے

ہے نفسا نفسی چہار جانب نثار جاؤں کہاں ہو مولٰی
چھپا لو دامن میں پیارے آکر یہ شور محشر ڈرا رہا ہے

خدائے غفار بخش دے اب تو لاج محبوب رکھ ہی لے اب
ہمارا غم خوار فکر امت میں دیکھ آنسو بہا رہا ہے

صبا جو پھیرا ہو کوئے جاناں تو غمزدو کا سلام کہنا
یہ عرض کرنا غریب عطار کب مدینہ کو آرہا ہے