PDA

View Full Version : نعت ہوتی گئی



Attari1980
01-25-2010, 09:47 AM
خون جلتا رہا ، دل مچلتا رہا
جان تڑپتی رہی، نعت ہوتی گئی
سوز کے سوز میں، درد کے درد میں
نعت ڈھلتی گئی ، نعت ہوتی گئی

غم قرینے میں تھا ، سوز سینے میں تھا
میں یہاں تھا مگر، دل مدینے میں تھا
کیف بڑھتا گیا، دل اکھڑتا گیا
عمر گھٹنی رہی، نعت ہوتی گئی

ہر طرف تھا، چاندنی رات تھی
آمنہ کے چھڑی ، چاند کی بات تھی
اشکِ جاں تھے رواں ، داستاں داستاں
بات بڑھتی رہی، نعت ہوتی گئی

اشک آور سماں، ضوفشاں ضوفشاں
جالیا چلمنیں ، چلمنیں جالیاں
نور تھا چھن رہا، جال تھا بن رہا
آنکھ تکتی رہی، نعت ہوتی گئی

یہ سماں دیکھ کر، آنکھ آئی تھی بھر
ٹھہرتی تھی نظر، اپنے ہر جرم پر
سامنے تھی عطا، پر تھی نادم خطا
شرم آتی رہی ، نعت ہوتی گئی

ہجر کے زور پر، ہجرتوں کا سفر
ہر قدم مضطرب، ہر قدم معتبر
راہ تھی پر خطر ، عشق تھا راہ بہر
راہ کٹتی رہی، نعت ہوتی گئی

صائمِ پر الم ، بن کے تصور ِ غم
تھا حضوری میں جب ، چشم نم چشم نم
آپ تھے سامنے غم پڑے تھامنے
آنکھ روتی رہی ، نعت ہوتی گئی