PDA

View Full Version : اک بار پھر مدینے عطار جا رہے ہیں



Attari1980
02-24-2010, 09:49 AM
اک بار پھر مدینے عطار جا رہے ہیں

اک بار پھر مدینے عطار جا رہے ہیں
آقا http://www.faizeraza.net/forum/images/smilies/pbuh.gif مدینے والے در پہ بلا رہے ہیں

قسمت کو اس تصور سے وجد آ رہے ہیں
رحمت کی بھیک دینے آقا بلا رہے ہیں

وہ فیض کا خزانہ ہر دم لٹا رہے ہیں
انوار ہر طرف ہی طیبہ میں چھا رہے ہیں

ہر دم جو ان کے غم میں آنسو بہا رہے ہیں
جینے کا لطف ایسے عشاق پا رہے ہیں

جس دم مدینے آئیں روئیں پچھاڑیں کھائیں
ہم مانگ تم سے آقا ایسی ادا رہے ہیں

حسن عمل ہمارے پلے میں کچھ نہیں ہے
آہوں کی آنسوؤں کی سوغات لا رہے ہیں

منظر ہے روح پرور روضے کی جالیوں پر
عشاق آنسوؤں کے موتی لٹا رہے ہیں

بہتی رہے یہ آنکھیں بس آپ ہی کے غم میں
ہائے ہمیں زمانے کے غم رلا رہے ہیں

اذن خدا سے ہو تم مختار ہر دو عالم
دونوں جہاں تمہاری خیرات کھا رہے ہیں

دستور ہے کہ جس کا کھانا اسی کا گانا
ہم جس کا کھا رہے ہیں گیت اس کے گا رہے ہیں

مسکن بنے مدینہ مدفن بنے مدینہ
احمد رضا کا تم کو دے واسطہ رہے ہیں

آقا ! بلاؤ سب کو بے چین مضطرب ہو
دل جو جلا رہے ہیں آنسو بہا رہے ہیں

جن کا نہ بھاؤ کوئی دنیا میں پوچھتا ہو
سینے سے ان کو آقا اپنے لگا رہے ہیں

امت کے حال سے وہ آگاہ ہر گھڑی ہیں
خوابوں میں آ رہے ہیں بگڑی بنا رہے ہیں

دنیا کے غم نے مارا للہ دو سہارا
سرکار ٹھوکریں ہم در در کی کھا رہے ہیں

اب گھر چکی ہے آقا طوفان میں اپنی نیا
اے ناخدا سہارا مانگ آپ کا رہے ہیں

اے آمنہ کے دلبر نظر کرم ہو ہم پر
ابر سیاہ دل پر عصیاں کے چھا رہے ہیں

چشم کرم ہو جاناں سوئے گناہگاراں
بدکار نفس و شیطاں ہر دم دبا رہے ہیں

سارے مبلغوں کی ہو دور ہر رکاوٹ
آقا جو سنتوں کی خدمت بجا رہے ہیں

پروردگار عالی دے جذبہ غزالی
کر ہم کو خوش خصالی کر یہ دعا رہے ہیں

مرض گناہ سے اب ہم کو شفاء دے یارب
بن جائیں نیک ہم سب کر التجا رہے ہیں

دولت کی حرص دل سے اللہ دور کر دے
عشق رسول دے دے کر یہ دعا رہے ہیں

مال و متاع دنیا ہرگز نہ دیجئے گا
ہم مانگ آپ سے بس غم آپ کا رہے ہیں

رخصت کی اب گھڑی ہے سر پر اجل کھڑی ہے
آ جاؤ آ بھی جاؤ ہم جاں سے جا رہے ہیں

احباب اب لحد میں جلدی اتار بھی دو
دیکھو وہ مسکراتے تشریف لا رہے ہیں

فریاد جان عالم کوئی نہیں ہے ہمدم
ہائے ملک جہنم کو لے کے جا رہے ہیں

قربان روز محشر امن کا پردہ ڈھک کر
عیبوں کو میرے سرور خود ہی چھپا رہے ہیں

محشر میں بندہ پرور لطف و کرم کے پیکر
بھر بھر کے جام کوثر ہم کو پلا رہے ہیں

بہر بلال ہم کو سوز بلال دے دو
یہ عرض لے کر آقا عطار آ رہے ہیں

ان کے کرم کے صدقے فضل و کرم سے ان کے
عطار پیچھے پیچھے جنت میں جا رہے ہی