PDA

View Full Version : ہے کبھی درود و سلام تو کبھی نعت لب پہ سجی رہی



Attari1980
02-24-2010, 09:50 AM
ہے کبھی درود و سلام تو کبھی نعت لب پہ سجی رہی
ہے کبھی درود و سلام تو کبھی نعت لب پہ سجی رہی
غم ہجر میں کبھی رو پڑا کبھی حاضری کی خوشی رہی

تیری آنکھ میں جو نمی رہی کلی تیرے دل کی کھلی رہی
کبھی دل میں ہوک اٹھی رہی تو نگاہ تیری جھکی رہی

تیرا راز عاشق مصطفٰی نہ سمجھ میں آ سکا تو بتا
کبھی تیرے لب پہ ہنسی رہی کبھی آنسوؤں کی جھڑی رہی

مجھے کر دو دیدہ تر عطا غم عشق سوز جگر عطا
ہو عطا مدینے میں گھر عطا یہی آرزوئے دلی رہی

نہیں مجھ کو مال کی آرزو نہ ہی اقتدار کی جستجو
میں تو سائل غم عشق ہوں مرے آگے ہیچ شہی رہی

جسے مل گیا غم مصطفٰے اسے زندگی کا مزہ ملا
کبھی سیل اشک رواں ہوا کبھی آہ دل میں دبی رہی

یہ ہے زندگی کوئی زندگی نہ نماز ہے نہ ہی بندگی
یہی مال و جاہ کی گندگی ہی تیری نظر میں بسی رہی

جو نبی کی یاد میں کھو گیا وہ خدائے پاک کا ہو گیا
دو جہاں اس کے سنور گئے اسے آخرت میں خوشی رہی

مجھے یانبی تیری دید ہو تیری دید ہو میری عید ہو
تجھے جس نے دیکھا ہزار بار اسے پھر بھی تشنہ لبی رہی

نہ پسند آئیں چمن مجھے نہ ہی کھیت بھائیں ہرے بھرے
جو اگر نظر میں بسی سہی تو مدینے ہی کی گلی رہی

مجھے پھر مدینے لو بلا اسی سال حج بھی کروں شہا
ہو کرم پئے شہہ کربلا یہی التجا مدنی رہی

مری جاں ہو جسم سے جب جدا ہو نظر میں جلوہ مصطفٰے
ہو مدینے میں مرا خاتمہ یہ دعائے خدائے غنی رہی

مدنی گناہ کی عادتیں نہیں جاتیں آپ ہی کچھ کریں
میں نے کوششیں کی بہت مگر مری حالت آہ بری رہی

مجھے شوق دیں شب روز دے یہی ولولہ یہی سوز دے
تیری سنتیں کروں عام میں کہ اسی میں تیری خوشی رہی

تو سگ مدینہ کو یاخدا غم روزگار سے لے بچا
دے غم مدینہ پئے رضا یہی بس دعائے دلی رہی