PDA

View Full Version : Daily One Ayat Tarjma & Tafseer & 1, Hadees Mubarak eng,urdu (Updated Here)



iqbalkuwait
03-24-2010, 10:05 PM
Quran 6/117,118 (http://www.irshad-ul-islam.com/quran-o-hadith/2090-daily-one-quran-kareem-ayat-translation-tafseer-eng-urdu-hadees-mubarak-updat.html)


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Wednesday, 24 March 2010



Quran. 6 Aya.117,118



إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ



فَكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُمْ بِآيَاتِهِ مُؤْمِنِينَ



بیشک آپ کا رب ہی اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا ہے اور وہی ہدایت یافتہ لوگوں سے (بھی) خوب واقف ہے،



سو تم اس (ذبیحہ) سے کھایا کرو جس پر (ذبح کے وقت) اﷲ کا نام لیا گیا ہو اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھنے والے ہو،

Surely, your Lord is best aware of those who go astray from His way, and He is best aware of those who are on the right path.


So, eat (the flesh) of that (animal) upon which the name of Allah has been invoked (when slaughtering), if you do believe in His verses.



TAFSEER



١١٨۔١ یعنی جس جانور پر شکار کرتے وقت یا ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا جائے۔ اسے کھالو بشرطیکہ وہ ان جانوروں میں سے ہو جن کا کھانا حلال ہے۔ اس کا مظلب یہ ہوا کہ جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا جائے وہ حلال و طیب نہیں البتہ اس سے ایسی صورت مستشنٰی ہے جس میں یہ التباس ہو کہ ذبح کے وقت ذبح کرنے والے نے اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں؟ اس میں حکم یہ ہے کہ اللہ کا نام لے کر اسے کھالو۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ نے رسول اللہ سے پوچھا کہ کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں (اس سے مراد اعرابی تھے جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور اسلامی تعلیم و تربیت سے پوری طرح بہرہ ور نہیں تھے) ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے اللہ کا نام لیا یا نہیں؟ آپ نے فرمایا تم اللہ کا نام لے کر اسے کھا لو ' البتہ شبہ کی صورت میں یہ رخصت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر قسم کے جانور کا گوشت بسم اللہ پڑھ لینے سے حلال ہو جائے گا۔ اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی منڈیوں اور دکانوں پر ملنے والا گوشت حلال ہے۔ ہاں اگر کسی کو وہم اور التباس ہو تو وہ کھاتے وقت بسم اللہ پڑھ لے۔



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 466 حدیث مرفوع مکررات 3



عبد اللہ بن یوسف ابن وہب یونس ابن شہاب عروہ زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ کیا یوم احد سے بھی سخت دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیا ہے آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہاری قوم کی جو جو تکلیفیں اٹھائی ہیں وہ اٹھائی ہیں اور سب سے زیادہ تکلیف جو میں نے اٹھائی وہ عقبہ کے دن تھی جب میں نے اپنے آپ کو ابن عبد یا لیل بن عبدکلال کے سامنے پیش کیا تو اس نے میری خواہش کو پورا نہیں کیا پھر میں رنجیدہ ہو کر سیدھا چلا ابھی میں ہوش میں نہ آیا تھا کہ قرآن الثعالب میں پہنچا میں نے اپنا سر اٹھایا تو بادل کے ایک ٹکڑے کو اپنے اوپر سایہ فگن پایا میں نے جو دیکھا تو اس میں جبرائیل علیہ السلام تھے انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے آپ کی قوم کی گفتگو اور ان کا جواب سن لیا ہے اب پہاڑوں کے فرشتہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے کافروں کے بارے میں جو چاہیں حکم دیں پھر مجھے پہاڑوں کے فرشتہ نے آواز دی اور سلام کیا پھر کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سب کچھ آپ کی مرضی ہے اگر آپ چاہیں تو میں اخشبین نامی دو پہاڑوں کو ان کافروں پر لا کر رکھ دوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (نہیں) بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کافروں کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ بالکل شرک نہ کریں گے۔



Volume 1, Book 3, Number 71:



Narrated Muawiya:



I heard Allah's Apostle saying, "If Allah wants to do good to a person, He makes him



comprehend the religion. I am just a distributor, but the grant is from Allah. (And remember)



that this nation (true Muslims) will keep on following Allah's teachings strictly and they will



not be harmed by any one going on a different path till Allah's order (Day of Judgment) is



established."




اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد


http://royaltelecome.hotels.officelive.com/images/3%20color%20zekr%20okokok.gif

iqbalkuwait
03-25-2010, 08:33 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Quran. 6 Aya.119



وَمَا لَكُمْ أَلاَّ تَأْكُلُواْ مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ وَإِنَّ كَثِيرًا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ



اور تمہیں کیا ہے کہ تم اس (ذبیحہ) سے نہیں کھاتے جس پر (ذبح کے وقت) اﷲ کا نام لیا گیا ہے (تم ان حلال جانوروں کو بلاوجہ حرام ٹھہراتے ہو)؟ حالانکہ اس نے تمہارے لئے ان (تمام) چیزوں کو تفصیلاً بیان کر دیا ہے جو اس نے تم پر حرام کی ہیں، سوائے اس (صورت) کے کہ تم (محض جان بچانے کے لئے) ان (کے بقدرِ حاجت کھانے) کی طرف انتہائی مجبور ہو جاؤ (سو اب تم اپنی طرف سے اور چیزوں کو مزید حرام نہ ٹھہرایا کرو)۔ بیشک بہت سے لوگ بغیر (پختہ) علم کے اپنی خواہشات (اور من گھڑت تصورات) کے ذریعے (لوگوں کو) بہکاتے رہتے ہیں، اور یقینا آپ کا ربّ حد سے تجاوز کرنے والوں کو خوب جانتا ہے،



What should cause you to avoid eating of that upon which the name of Allah has been invoked, while He has spelled out to you all that He has made unlawful for you, except that to which you are compelled by extreme necessity? Surely, there are many who misguide people on the basis of their desires without having knowledge. Surely, your Lord is the best knower of those who cross the limits.



TAFSEER


ف٣ یعنی اضطرار اور مجبوری کی حالت کو مستثنیٰ کر کے جو چیزیں حرام ہیں ان کی تفصیل کی جا چکی۔ ان میں وہ حلال جانور داخل نہیں جو اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے پھر اس کے نہ کھانے کی کیا وجہ؟


ف٤ مسلمان کا عقیدہ یہ ہے کہ ہرچیز کو بالواسطہ یا بلا واسطہ خدا ہی پیدا کرتا اور خدا ہی مارتا ہے۔ پھر جس طرح اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں بعض کا کھانا ہم کو مرغوب اور مفید ہے جیسے سیب انگور وغیرہ اور بعض چیزوں سے ہم نفرت کرتے ہیں یا مضر سمجھتے ہیں جیسے ناپاک گندی چیزیں اور سنکھیا وغیرہ۔ اسی طرح اس کی ماری ہوئی چیزیں بھی دو قسم کی ہیں ایک وہ جن سے فطرت سلیمہ نفرت کرے یا ان کا کھانا ہماری بدنی یا روحی صحت کیلئے خدا کے نزدیک مضر ہو۔ مثلاً وہ حیوان دموی جو اپنی طبعی موت سے مرے اور اس کا خون وغیرہ گوشت میں جذب ہو کر رہ جائے۔ دوسرے وہ حلال و طیب جانور جو باقاعدہ خدا کے نام پر ذبح ہو یہ بھی خدا ہی کا مارا ہوا ہے، جس پر مسلمان کی چھری کے توسط سے اس نے موت طاری کی۔ مگر عمل ذبح اور خدا کے نام کی برکت سے اس کا گوشت پاک و صاف ہوگیا۔ پس جو شخص دونوں قسموں کو ایک کرنا چاہے وہ معتدی (حد سے بڑھنے والا) ہوگا۔



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 697 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 65



عبداللہ بن مسلمہ، مالک، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ ، عبداللہ بن عمر، روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں شانوں کے برابر اٹھاتے اور جب رکوع کے لئے تکبیر کہتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تب بھی دونوں ہاتھ اسی طرح اٹھاتے اور سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ دونوں کہتے لیکن سجدے میں یہ عمل نہ کرتے تھے۔



Volume 1, Book 3, Number 72:



Narrated Ibn 'Umar:



We were with the Prophet and a spadix of date-palm tree was brought to him. On that he said,



"Amongst the trees, there is a tree which resembles a Muslim." I wanted to say that it was the



date-palm tree but as I was the youngest of all (of them) I kept quiet. And then the Prophet



said, "It is the date-palm tree."




اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد
http://royaltelecome.hotels.officelive.com/images/3%20color%20zekr%20okokok.gif

iqbalkuwait
03-26-2010, 10:55 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Friday, 26 March 2010



Quran. 6 Aya.120,121



وَذَرُواْ ظَاهِرَ الإِثْمِ وَبَاطِنَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُواْ يَقْتَرِفُونَ



وَلاَ تَأْكُلُواْ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَآئِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ



اور تم ظاہری اور باطنی (یعنی آشکار و پنہاں دونوں قسم کے) گناہ چھوڑ دو۔ بیشک جو لوگ گناہ کما رہے ہیں انہیں عنقریب سزا دی جائے گی ان (اَعمالِ بد) کے باعث جن کا وہ ارتکاب کرتے تھے،



اور تم اس (جانور کے گوشت) سے نہ کھایا کرو جس پر (ذبح کے وقت) اﷲ کا نام نہ لیا گیا ہو اور بیشک وہ (گوشت کھانا) گناہ ہے، اور بیشک شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں (وسوسے) ڈالتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم ان کے کہنے پر چل پڑے (تو) تم بھی مشرک ہو جاؤ گے،

Leave outward sin and inward sin. Surely, those who commit sin shall be punished for what they used to commit.


Do not eat that (meat) over which the name of Allah has not been pronounced. This is surely a sin. The satans inspire their friends to dispute with you. If you were to obey them, you would be Mushriks.



TAFSEER


٣ ف سو جس طرح ایک درخت کا بیج اور اس کی جڑیں ہوتی ہیں جو زمین کے اندر ہوتی ہیں اور ظاہر میں نظر نہیں آتیں۔ اور ایک اسکی شاخیں اور اسکے پھل پھول وغیرہ بھی ہوتے ہیں جو ظاہر میں نظر آتے ہیں اسی طرح برائی کی ظاہری شکلیں اور مظاہر بھی ہوتے ہیں جو ظاہر میں اور کھلی آنکھوں سے نظر آتے ہیں اور اسکی وہ جڑ بنیاد بھی ہوتی ہے، جو انسان کے قلب و باطن میں جاگزین ہوتی ہے سو برائی سے پوری طرح بچاؤ اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے کہ جب اس کے ظاہری اور باطنی دونوں پہلوؤں کا صفایا اور خاتمہ کر دیا جائے ورنہ اگر ظاہری برائی چھوڑ دی لیکن قلب و باطن میں اسکی جڑ بنیاد باقی و برقرار رہی تو وہ کل پھر کسی اور شکل میں اپنے پل پرزے نکال لے گی اور معاملہ پھر وہیں پہنچ جائے گا اس لئے ارشاد فرمایا گیا کہ گناہ کے ظاہر کو بھی چھوڑو اور اس کے باطن کو بھی تاکہ اسطرح برائی کا پوری طرح خاتمہ ہو جائے اللّہُمَّ اِنَّا نَعُوْذُبِکَ مِنْ الذنوب والفتن کلہا، ماظہر منہا ومابطن،

ف ٦ یعنی نہ حقیقۃً نہ حکماً۔ حنفیہ متروک التسمیہ عمداً کے مسئلہ میں ذکر حکمی کا دعویٰ کرتے ہیں۔


ف٧ یعنی شرک فقط یہ ہی نہیں کہ کسی کو سوائے خدا کے پوجے بلکہ شرک کے حکم میں یہ بھی ہے کہ کسی چیز کی تحلیل و تحریم میں مستند شرعی کو چھوڑ کر محض آراء و اہوا کا تابع ہو جائے۔ جیسا کہ "اِتَّخَذُوا اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَاباًمِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ کی تفسیر میں مرفوعا منقول ہے کہ اہل کتاب نے وحی الہٰی کو چھوڑ کر صرف احبار و رہبان ہی پر تحلیل و تحریم کا مدار رکھ چھوڑا تھا۔



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1624 حدیث مرفوع مکررات 39 متفق علیہ



محمد بن ابی بکر، فضیل بن سلیمان، موسیٰ بن عقبہ، کریب، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پہنچے تو آپ نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ اور صفا مروہ کا طواف کریں، پھر احرام سے باہر ہو جائیں اور سر منڈائیں یا بال کتروائیں۔



Volume 1, Book 3, Number 73:



Narrated 'Abdullah bin Mas'ud:



The Prophet said, "Do not wish to be like anyone except in two cases. (The first is) A person,



whom Allah has given wealth and he spends it righteously; (the second is) the one whom



Allah has given wisdom (the Holy Qur'an) and he acts according to it and teaches it to



others." (Fateh-al-Bari page 177 Vol. 1)



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد




اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

iqbalkuwait
03-27-2010, 08:24 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Saturday, 27 March 2010



Quran.6 Aya.122



أَوَ مَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ



بھلا وہ شخص جو مُردہ (یعنی ایمان سے محروم) تھا پھر ہم نے اسے (ہدایت کی بدولت) زندہ کیا اور ہم نے اس کے لئے (ایمان و معرفت کا) نور پیدا فرما دیا (اب) وہ اس کے ذریعے (بقیہ) لوگوں میں (بھی روشنی پھیلانے کے لئے) چلتا ہے اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جس کا حال یہ ہو کہ (وہ جہالت اور گمراہی کے) اندھیروں میں (اس طرح گھِرا) پڑا ہے کہ اس سے نکل ہی نہیں سکتا۔ اسی طرح کافروں کے لئے ان کے وہ اعمال (ان کی نظروں میں) خوش نما دکھائے جاتے ہیں جو وہ انجام دیتے رہتے ہیں،



Is it (conceivable) that the one who was dead and to whom We gave life, and set for him a light with which he walks among men, (is held to) be like the one whose condition is such that he is in total darkness, never coming out of it? This is how their deeds appear beautified to the disbelievers.



TAFSEER



٢ ف سو اس سے اہل ایمان اور اہل کفر و باطل دونوں کی تمثیل بیان فرمائی گئی ہے موت سے یہاں پر مراد کفر و باطل کی زندگی ہے جو کہ اصل میں موت ہے اور حیات سے مراد ایمان و یقین کی زندگی ہے جو کہ اصل اور حقیقی زندگی ہے اور نور سے مراد کتاب ہدایت یعنی قرآن حکیم ہے سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اہل ایمان کو اللہ تعالٰی نے کفر و باطل کی موت سے نکال کر ایمان و یقین کی زندگی سے سرفراز فرما دیا اور ان کو کتاب حکیم قرآن مجید کے اس نور مبین سے سرفراز فرما دیا جسکے ساتھ وہ لوگوں کے درمیان چلتے ہیں اور اس طرح اس نور مبین سے وہ خود بھی مستفید و فیضیاب ہوتے ہیں اور دوسری کو بھی مستفید و فیضیاب کرتے ہیں تو کیا یہ اور وہ لوگ باہم ایک برابر ہو سکتے ہیں؟ جو کفر و باطل کی طرح طرح کی تاریکیوں میں ڈوبے پڑے ہیں؟ ظاہر ہے کہ نہیں اور یقینا و ہرگز نہیں تو پھر مومن و کافر کے باہم برابر ہونے کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے؟ یَمْشِیْ بِہٖ فِی النَّاسِ یعنی وہ اسکے ساتھ لوگوں میں چلتا ہے کے جملے کے اندر دو خاص پہلو پائے جاتے ہیں ایک یہ کہ بندہ مومن اس عظیم الشان روشنی کے ساتھ چلتا ہے جبکہ دوسرے لوگ اس روشنی سے محروم اور اندہیروں کے اندر ہیں اور دوسرا پہلو اس میں یہ ہے کہ وہ اس روشنی کے ساتھ لوگوں کے اندر چلتا ہے سو اس طرح وہ اس سے خود بھی مستفید و فیضیاب ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی مستفید و فیضیاب کرتا ہے کہ روشنی کا حق یہی ہے کہ انسان اس سے خود بھی مستفید و فیضیاب ہو اور دوسروں کو بھی اس سے استفادے کا موقع دے اسی حکمت کو حضرت عیسیٰ نے یوں بیان فرمایا کہ جس کے پاس چراغ ہوتا ہے وہ اس کو پیمانے کے نیچے ڈھانپ کر نہیں رکھتا بلکہ وہ اس کو اونچی جگہ رکھتا ہے تاکہ اس سے اس کا گھر بھی روشن ہو۔ اور دوسروں کو بھی راستہ ملے۔ سو اس سے مومن صادق اور اسکی زندگی کی عظمت شان بھی واضح ہو جاتی ہے، کہ اسکی زندگی روشنی پر روشنی میں، اور روشنی کے ساتھ ہے۔ جبکہ باقی تمام دنیا اندھیروں کے اندر ہے، کیونکہ حق و ہدایت کی روشنی اب صرف قرآن پاک ہی کی صورت میں موجود ہے۔ سابقہ آسمانی کتابوں کو اس حد تک بدل اور بگاڑ دیا گیا کہ اب ان کا اصل نسخہ بھی نہیں مل سکتابلکہ انکی وہ اصل زبان ہی ناپید ہوگئی ہے جس میں ان کو اتارا گیا تھا۔



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1689 حدیث مرفوع مکررات 5متفق علیہ



عبداللہ بن مسلمہ، سمی، مالک، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے جو تم میں سے کسی کے کھانے پینے اور سونے سے روک دیتا ہے اس لئے جب ضرورت پوری ہوجائے تو اپنے گھروں کو جلدی لوٹ جانا چاہیے۔



Volume 1, Book 3, Number 74:



Narrated Ibn 'Abbas:



That he differed with Hur bin Qais bin Hisn Al-Fazari regarding the companion of (the



Prophet) Moses. Ibn 'Abbas said that he was Khadir. Meanwhile, Ubai bin Ka'b passed by



them and Ibn 'Abbas called him, saying "My friend (Hur) and I have differed regarding



Moses' companion whom Moses, asked the way to meet. Have you heard the Prophet



mentioning something about him? He said, "Yes. I heard Allah's Apostle saying, "While



Moses was sitting in the company of some Israelites, a man came and asked him. "Do you



know anyone who is more learned than you? Moses replied: "No." So Allah sent the Divine



Inspiration to Moses: 'Yes, Our slave Khadir (is more learned than you.)' Moses asked



(Allah) how to meet him (Khadir). So Allah made the fish as a sign for him and he was told



that when the fish was lost, he should return (to the place where he had lost it) and there he



would meet him (Al-Khadir). So Moses went on looking for the sign of the fish in the sea.



The servant-boy of Moses said to him: Do you remember when we betook ourselves to the



rock, I indeed forgot the fish, none but Satan made me forget to remember it. On that Moses



said: 'That is what we have been seeking? (18.64) So they went back retracing their footsteps,



and found Khadir. (And) what happened further to them is narrated in the Holy Qur'an



by Allah. (18.54 up to 18.82)



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد




اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

iqbalkuwait
03-28-2010, 10:44 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Sunday, 28 March 2010



Quran. 6 Aya.123,124



وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجَرِمِيهَا لِيَمْكُرُواْ فِيهَا وَمَا يَمْكُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ



وَإِذَا جَاءتْهُمْ آيَةٌ قَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّى نُؤْتَى مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللّهِ اللّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُواْ صَغَارٌ عِندَ اللّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُواْ يَمْكُرُونَ



اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وڈیروں (اور رئیسوں) کو وہاں کے جرائم کا سرغنہ بنایا تاکہ وہ اس (بستی) میں مکاریاں کریں، اور وہ (حقیقت میں) اپنی جانوں کے سوا کسی (اور) سے فریب نہیں کر رہے اور وہ (اس کے انجامِ بد کا) شعور نہیں رکھتے،



اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے (تو) کہتے ہیں: ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں بھی ویسی ہی (نشانی) دی جائے جیسی اﷲ کے رسولوں کو دی گئی ہے۔ اﷲ خوب جانتا ہے کہ اسے اپنی رسالت کا محل کسے بنانا ہے۔ عنقریب مجرموں کو اﷲ کے حضور ذلت رسید ہوگی اور سخت عذاب بھی (ملے گا) اس وجہ سے کہ وہ مکر (اور دھوکہ دہی) کرتے تھے،

In a similar way, in every town We caused its chief sinners to commit mischief in it. And they do not commit mischief but against themselves, while they do not realize it.


When a sign comes to them, they say, :We shall never come to believe unless we are given the like of what was given to the messengers of Allah. Allah knows best where to place His message. Those who committed sin shall soon suffer from disgrace before Allah and face severe punishment for the mischief they have been making.



TAFSEER


ف٢ یعنی کچھ آج رؤسائے مکہ ہی نہیں ہمیشہ کافروں کے سردار حیلے نکالتے رہے ہیں تاکہ عوام الناس پیغمبروں کے مطیع نہ ہوجائیں جیسے فرعون نے معجزہ دیکھا تو حیلہ نکالا کہ سحر کے زور سے سلطنت لیا چاہتا ہے لیکن ان کے یہ حیلے اور داؤ پیچ بحمدﷲ پکے ایمانداروں پر نہیں چلتے۔ حیلہ کرنے والے اپنی عاقبت خراب کر کے خود اپنا ہی نقصان کرتے ہیں جس کا احساس انھیں اس وقت نہیں ہوتا۔


ف٣ ان کی مکاری اور متکبرانہ حیلہ جوئی کی ایک مثال یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے صدق کا جب کوئی نشان دیکھتے تو کہتے کہ ہم ان دلائل و نشانات کو نہیں جانتے۔ ہم تو اس وقت یقین کر سکتے ہیں جب ہمارے اوپر فرشتے نازل ہوں اور پیغمبروں کی طرح ہم کو بھی خدا کا پیغام سنائیں یا خود حق تعالٰی ہی ہمارے سامنے آجائیں۔ "وَقَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُونَ لَقَاءَنَا لَوْلاَ اُنْزَلَ عَلَیْنَا الْمَلٰئِکَۃُ اَوْ نَرٰی رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَکْبَرُوْا فِی اَنْفُسِھِمْ وَعَتَوْعُتُوًّا کَبِیْرًا" (فرقان، رکوع٣'آیت نمبر ٢١) خیر یہ تو خدا ہی جانتا ہے کہ کون شخص اس کا اہل ہے کہ منصب پیغامبری پر سرفراز کیا جائے اور اس عظیم الشان امانت الہٰیہ کا حامل بن سکے۔ یہ نہ کوئی کسبی چیز ہے کہ دعاء یا ریاضت یا دنیاوی جاہ و دولت وغیرہ سے حاصل ہو سکے اور نہ ہر کس و ناکس کو ایسی جلیل القدر اور نازک ذمہ داری پر فائز کیا جاسکتا ہے۔ ہاں ایسے گستاخ، متکبر، حیلہ جو مکاروں کو آگاہ رہنا چاہیے کہ عنقریب اس معزز منصب کی طلب کا جواب ان کو سخت ذلت اور عذاب شدید کی صورت میں دیا جائے گا۔



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2111 حدیث مرفوع مکررات 128متفق علیہ



حفص بن عمر، شعبہ، حکم، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ ہم لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھائی، تو لوگوں نے عرض کیا کہ نماز میں زیادتی ہوگئی ہے، آپ نے فرمایا کیا بات ہے، لوگوں نے کہا کہ آپ نے پانچ رکعت نماز پڑھی، پھر آپ نے سلام پھیر نے کے بعد دو سجدے اور کر لئے۔



Volume 1, Book 3, Number 75:



Narrated Ibn 'Abbas:



Once the Prophet embraced me and said, "O Allah! Bestow on him the knowledge of the



Book (Qur'an)."



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد

iqbalkuwait
03-29-2010, 09:16 PM
Quran 6/125
http://royaltelecome.hotels.officelive.com/images/c.jpg
http://royaltelecome.hotels.officelive.com/images/3%20color%20ex.gif

iqbalkuwait
03-30-2010, 11:32 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Tuesday, 30 March 2010



Quran. 6 Aya.126,127



وَهَـذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًا قَدْ فَصَّلْنَا الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ



لَهُمْ دَارُ السَّلاَمِ عِندَ رَبِّهِمْ وَهُوَ وَلِيُّهُمْ بِمَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ



اور یہ (اسلام ہی) آپ کے رب کا سیدھا راستہ ہے، بیشک ہم نے نصیحت قبول کرنے والے لوگوں کے لئے آیتیں تفصیل سے بیان کر دی ہیں،



انہی کے لئے ان کے رب کے حضور سلامتی کا گھر ہے اور وہی ان کا مولٰی ہے ان اعمالِ (صالحہ) کے باعث جو وہ انجام دیا کرتے تھے،

This is the path of your Lord, a straight path. We have made the verses elaborate for people who accept the advice.


For them will be the home of peace (Paradise) with their Lord. And He will be their Wal (Helper and Protector) because of what they used to do.



TAFSEER


ف ٥ جو لوگ ایمان لانے کا ارادہ نہیں رکھتے ان پر اسی طرح عذاب اور تباہی ڈالی جاتی ہے کہ رفتہ رفتہ ان کا سینہ اس قدر تنگ کر دیا جاتا ہے کہ اس میں حق کے گھسنے کی قطعاً گنجائش نہیں رہتی۔ پھر یہ ہی ضیق صدر عذاب ہے جو قیامت میں بشکل محسوس سامنے آجائے گا۔ مترجم محقق قدس اللہ روحہ نے "رجس" کا ترجمہ جو عذاب سے کیا ہے اس کے موافق یہ تقریر ہے۔ عبدالرحمن بن زید بن اسلم نے "رجس" کے معنی عذاب ہی کے لئے ہیں۔ مگر ابن عباس نے یہاں "رجس" سے مراد شیطان لیا ہے۔ شاید اس لئے کہ "رجس" ناپاک کو کہتے ہیں اور شیطان سے بڑھ کر کون ناپاک ہوگا۔ بہرحال اس تفسیر پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح ان پر بےایمانیوں کی وجہ سے شیطان مسلط کر دیا جاتا ہے کہ کبھی رجوع الی الحق کی توفیق نہیں ہوتی۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ "اول فرماتا تھا کہ کافر قسمیں کھاتے ہیں کہ آیت دیکھیں تو البتہ یقین لاویں اور اب فرمایا کہ ہم نہ دیں گے ایمان تو کیونکر لاویں گے۔ بیچ میں مردہ حلال کرنے کے حیلے نقل کئے، اب اس بات کا جواب فرمایا کہ جس کی عقل اس طرف چلے کہ اپنی بات نہ چھوڑے، جو دلیل دیکھے کچھ حیلہ بنا لے، وہ نشان ہے گمراہی کا اور جس کی عقل چلے انصاف پر اور حکم برداری پر، وہ نشان ہدایت ہے۔ ان لوگوں میں نشان ہیں گمراہی کے ان پر کوئی آیت اثر نہ کرے گی۔ "باقی اللہ تعالٰی کی طرف ارادہ ہدایت و اضلال کی نسبت کرنا، اس کے متعلق متعدد مواضع میں ہم کلام کر چکے ہیں اور آئندہ بھی حسب موقع لکھا جائے گا۔ مگر یہ مسئلہ طویل الذیل اور معرکۃ الآراء ہے اس لئے ہمارا ارادہ ہے کہ اس پر ایک مستقل مضمون لکھ کر فوائد کے ساتھ ملحق کر دیا جائے۔ و باللہ التوفیق۔


ف١ یعنی جو اسلام و فرمانبرداری کے سیدھے راستہ پر چلے گا وہ ہی سلامتی کے گھر پہنچے گا اور خدا اس کا ولی و مددگار ہوگا۔ یہ حال تو ان کا ہوا جن کا ولی خدا ہے (یعنی اولیاء الرحمن)۔ آگے اولیاء الشیطان کا حال بیان کیا جاتا ہے۔



HADEES MUBARAK



صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 891 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 23متفق علیہ



یحیی بن یحیی تمیمی، ابوخثیمہ، اشعث بن ابی شعشاء، احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، اشعث، معاویہ بن سوید بن مقرن، حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن سوید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مقرن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب کے پاس گیا تو میں نے ان سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم فرمایا اور سات چیزوں سے منع فرمایا جن سات چیزوں کے کرنے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا بیمار کی عیادت کرنا، جنازہ کی ساتھ جانا، چھینکنے والے کی چھینک کا جواب دینا، قسم پوری کرنا، مظلوم کی مدد کرنا، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنا، سلام کو پھیلانا اور جن چیزوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا، سونے کی انگوٹھی پہننا، چاندی کے برتن میں پینا، ریشمی گدوں پر بیٹھنا، قسی کے کپڑے پہننا، ریشمی کپڑا پہننا، استبرق پہننا، دیباج پہننا۔



Volume 1, Book 3, Number 77:



Narrated Mahmud bin Rabi'a:



When I was a boy of five, I remember, the Prophet took water from a bucket (used far getting



water out of a well) with his mouth and threw it on my face.



Muhammad Iqbal Kuwait



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد



http://royaltelecome.hotels.officelive.com/images/3%20color%20ex.gif

iqbalkuwait
03-31-2010, 11:21 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Wednesday, 31 March 2010



Quran.6 Aya.128



وَيَوْمَ يِحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الإِنسِ وَقَالَ أَوْلِيَآؤُهُم مِّنَ الإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِيَ أَجَّلْتَ لَنَا قَالَ النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِيهَا إِلاَّ مَا شَاء اللّهُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَليمٌ



اور جس دن وہ ان سب کو جمع فرمائے گا (تو ارشاد ہوگا:) اے گروہِ جنّات (یعنی شیاطین!) بیشک تم نے بہت سے انسانوں کو (گمراہ) کر لیا، اور انسانوں میں سے ان کے دوست کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے ایک دوسرے سے (خوب) فائدے حاصل کئے اور (اسی غفلت اور مفاد پرستی کے عالم میں) ہم اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لئے مقرر فرمائی تھی (مگر ہم اس کے لئے کچھ تیاری نہ کر سکے)۔ اﷲ فرمائے گا کہ (اب) دوزخ ہی تمہارا ٹھکانا ہے ہمیشہ اسی میں رہو گے مگر جو اﷲ چاہے۔ بیشک آپ کا رب بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے،



The day He will assemble all of them together, (Allah will say to Jinn) :O species of Jinns, you have done too much against mankind. Their friends from among the human beings will say, :Our Lord, some of us have benefited from others, and we have reached our term that You had appointed for us. He will say, :The Fire is your Abode wherein you will remain for ever, unless Allah wills (otherwise). Surely, your Lord is All-Wise, All-Knowing.



TAFSEER


٢ ف سو اس موقع پر وہ لوگ جوانسانوں میں سے شیاطین جن کے ساتھی اور ان کے آلہ کار بنے رہے ہونگے وہ کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہم نے ایک دوسرے کی معیت و رفاقت سے دنیا میں خوب خوب فائدے اٹھائے۔ یہاں تک کہ ہم اس یوم حساب کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لئے مقرر فرما رکھا تھا سو اسطرح وہ اس بات کا صاف اور صریح طور پر اقرار و اعتراف کریں گے کہ دنیا میں وہ ایک دوسرے کے آلہ کار بنے رہے تھے یعنی ہم نے شیاطین کی پوچا پاٹ کی ان کے تھانوں پر نذریں مانیں نیازیں دیں چڑھاوے چڑھائے ان کے پاس قربانیاں کہیں، بھینٹیں چڑھائیں ان کے کہنے سکھانے پر حلال کو حرام اور حرام کو حلال ٹھہرایا۔ اور اسی طرح ان کے کاہنوں، نجومیوں اور ساحروں وغیر نے ان کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیا اور ان سے کئی طرح کے فائدے اٹھائے اور نفع حاصل کئے اور ہم ایسے کاموں میں اسطرح الجھے اور پھنسے رہے کہ ہمیں اپنے عمل کے انجام پر غور کرنے کی توفیق نہ ملی۔ اور ہم اسی طرح کی خرمستیوں اور لذت کوشیوں میں سست اور محو ومگن رہے یہاں تک کہ یہ دن آپہنچا۔ اور ہم تیرے حضور حاضر ہوگئے۔


٣ ف سو شیاطین انس یہ بات تو اس روز بطور اعتراف و اقرار جرم کہیں گے۔ اور اس سے مقصود ان کا اظہار ندامت ہوگا۔ تاکہ اس طرح یہ تمہید باندھ کر وہ اللہ تعالٰی سے معافی کی درخواست کر سکیں۔ لیکن اسلوب کلام سے یہ ظاہر ہو رہا ہے۔ اور اسکی صاف شہادت مل رہی ہے کہ اللہ تعالٰی ان کی بات ان کی تمہید پوری ہونے سے پہلے ہی کاٹ دے گا اور ان کو معذرت اور درخواست معافی کا موقع دیے بغیر ہی اپنا فیصلہ سنا دے گا کہ اب تمہارا ٹھکانا بہرحال دوزخ ہے جس میں تم نے ہمیشہ کیلئے رہنا ہے۔ اس لئے اب تم لوگ ایسی باتیں بنانے کی کوشش نہ کرو۔ کہ اب عذر ومعذرت، معافی تلافی اور اصلاح کے سب دروازے بند ہو چکے ہیں۔ اب مشیئت و مرضی صرف اللہ تعالٰی ہی کی ہوگی جو وہ چاہے گاوہی ہوگا۔ کسی کی سعی و سفارش، کسی کا اثر و رسوخ اور کسی کی آہ و پکار، اور دعا و فریاد کچھ کام نہیں آئیگی۔ صرف اللہ تعالٰی ہی کی مشیت کار فرما ہوگی، سبحانہ و تعالیٰ، سو یہی مطلب ہے الا ماشاء اللہ کا۔



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1419 حدیث مرفوع مکررات 5متفق علیہ



ابو الیمان، شعیب، زہری، سالم بن عبداللہ ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ ایسے ہوں گے جیسے اونٹ کہ سینکڑوں کی تعداد ہو لیکن سواری کے قابل کوئی نہ ہو۔



Volume 1, Book 3, Number 78:



Narrated Ibn 'Abbas:



that he differed with Hur bin Qais bin Hisn Al-Fazari regarding the companion of the Prophet



Moses. Meanwhile, Ubai bin Ka'b passed by them and Ibn 'Abbas called him saying, "My



friend (Hur) and I have differed regarding Moses' companion whom Moses asked the way to



meet. Have you heard Allah's Apostle mentioning something about him? Ubai bin Ka'b said:



"Yes, I heard the Prophet mentioning something about him (saying) while Moses was sitting



in the company of some Israelites, a man came and asked him: "Do you know anyone who is



more learned than you? Moses replied: "No." So Allah sent the Divine Inspiration to Moses:



'--Yes, Our slave Khadir is more learned than you. Moses asked Allah how to meet him (Al-



Khadir). So Allah made the fish a sign for him and he was told when the fish was lost, he



should return (to the place where he had lost it) and there he would meet him (Al-Khadir). So



Moses went on looking for the sign of the fish in the sea. The servant-boy of Moses said: 'Do



you remember when we betook ourselves to the rock, I indeed forgot the fish, none but Satan



made me forget to remember it. On that Moses said, 'That is what we have been seeking.' So



they went back retracing their footsteps, and found Kha,dir. (and) what happened further



about them is narrated in the Holy Qur'an by Allah." (18.54 up to 18.82)



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد
http://royaltelecome.hotels.officelive.com/images/rabana.jpg

iqbalkuwait
04-01-2010, 11:19 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Thursday, 01 April 2010



Quran. 6 Aya.129,130



وَكَذَلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضًا بِمَا كَانُواْ يَكْسِبُونَ



يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاء يَوْمِكُمْ هَـذَا قَالُواْ شَهِدْنَا عَلَى أَنفُسِنَا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَشَهِدُواْ عَلَى أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُواْ كَافِرِينَ



اسی طرح ہم ظالموں میں سے بعض کو بعض پر مسلط کرتے رہتے ہیں ان اعمالِ(بد) کے باعث جو وہ کمایا کرتے ہیں،



اے گروہِ جن و انس! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم پر میری آیتیں بیان کرتے تھے اور تمہاری اس دن کی پیشی سے تمہیں ڈراتے تھے؟ (تو) وہ کہیں گے: ہم اپنی جانوں کے خلاف گواہی دیتے ہیں، اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا اور وہ اپنی جانوں کے خلاف اس (بات) کی گواہی دیں گے کہ وہ (دنیا میں) کافر (یعنی حق کے انکاری) تھے،

Thus We will make some wrongdoers companions of others (in the Hereafter) because of what they used to commit.


:O species of Jinn and mankind, had the messengers not come to you, from among yourselves, who used to relate My verses to you, and used to warn you of the encounter of this your day? They will say, :We testify against ourselves. The worldly life had deceived them, and they will testify against themselves that they were disbelievers.



TAFSEER


ف ٦ جیسے تم نے "شیاطین الجن" اور ان کے اولیاء انسی کا حال سنا۔ اسی طرح تمام ظالموں اور گنہگاروں کو ان کے ظلم اور سیہ کاریوں کے تناسب سے دوزخ میں ہم ایک دوسرے کے قریب کر دیں گے اور جو جس درجہ کا ظالم و گنہگار ہوگا اس کو اسی کے طبقہ عصاۃ میں ملا دیں گے۔

ف٧ اوپر جن و انس کی شرارت اور سزا کا بیان تھا اور "اولیاء الجن" کی زبانی فی الجملہ معذرت بھی نقل کی گئی تھی، اب بتلایا جاتا ہے کہ ان کا کوئی عذر معقول اور قابل سماعت نہیں، دنیا میں خدا کی حجت تمام ہو چکی تھی جس کا خود انہیں بھی اقرار کرنا پڑے گا۔ یہ خطاب "یَامَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ"کا قیامت کے دن ہوگا اور مخاطب جن وانس کا یعنی کل مکلفین کا مجموعہ ہے، ہر جماعت الگ الگ مخاطب نہیں جو یہ اعتراض ہو کہ رسول تو ہمیشہ انسانوں میں سے آئے قوم جن میں سے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا گیا۔ پھر "رُسُلٌ مِّنْکُمْ" (رسول تم ہی میں کے) کہنا کیسے صحیح ہوگا۔ اصل یہ ہے کہ مجموعہ مخاطبین میں سے اگر کسی نوع میں بھی اتیان رسل متحقق ہو جائے جس کی غرض تمام مخاطبین کو بلا تخصیص فائدہ پہنچانا ہو تو مجموعہ کو خطاب کرنے میں کوئی اشکال نہیں رہتا۔ مثلاً کوئی یہ کہے"اے عرب و عجم کے باشندو! اور پورب پچھم کے رہنے والو! کیا تم ہی میں سے خدا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے کامل انسان کو پیدا نہیں کیا "اس عبارت کا مطلب کسی کے نزدیک یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو عرب میں پیدا کئے گئے اور دوسرے عجم میں ہونے چاہئیں، اسی طرح پورب کے علیحدہ اور پچھم کے علیحدہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، تب یہ عبارت صحیح ہوگی، علیٰ ہذا القیاس یہاں سمجھ لیجئے کہ یَا مَعْشَرَالْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِکُمْ کا مدلول صرف اس قدر ہے کہ جن وانس کے مجموعہ سے پیغمبر بھیجے گئے۔ باقی یہ تحقیق کہ ہر نوع میں سے الگ الگ پیغمبر آئے یا ہر ایک پیغمبر کل افراد جن و انس کی طرف مبعوث ہوا، یہ آیت اس کے بیان سے ساکت ہے۔ دوسری نصوص سے جمہور علماء نے یہ ہی قرار دیا ہے کہ نہ ہر ایک پیغمبر کی بعثت عام ہے اور نہ کسی جن کو اللہ نے مستقل رسول بنا کر بھیجا۔ اکثر معاشی و معادی معاملات میں ان کو حق تعالٰی نے انسانوں کے تابع بنا کر رکھا ہے جیسا کہ سورہ جن کی آیات اور نصوص حدیثیہ وغیرہ اس پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ کوئی ضابطہ نہیں کہ مخلوق کی ہر نوع کے لئے اسی نوع کا کوئی شخص رسول ہوا کرے۔ باقی انسانوں کی طرف فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجنے سے جو قرآن کے متعدد مواضع میں انکار کیا گیا ہے، اس کا اصلی منشاء یہ ہے کہ عام انسان بہیئۃ الاصلیہ اس کی رویت کا تحمل نہیں کر سکتے اور بےاندازہ خوف و ہیبت کی وجہ سے مستفید نہیں ہو سکتے اور بصورت انسان آئیں تو بےضرورت التباس رہتا ہے۔ اسی پر قیاس کر لو کہ اگر قوم جن میں منصب نبوت کی اہلیت ہوتی تو وہ بھی انسانوں کے لئے مبعوث نہیں کئے جاسکتے تھے کیونکہ وہاں بھی یہ ہی اشکال تھا۔ ہاں رسول انسی کا جن کی طرف مبعوث ہونا اس لئے نہیں کہ جنوں کے حق میں انسان کی رؤیت نہ تو ناقابل تحمل ہے اور نہ انسان کا صوری خوف و رعب استفادہ سے مانع ہو سکتا ہے۔ ادھر پیغمبر کو حق تعالٰی وہ قوت قلبی عطا فرما دیتا ہے کہ اس پر جن جیسی ہیبت ناک مخلوق کا کوئی رعب نہیں پڑتا۔

ف ٨ یعنی دنیا کی لذات و شہوات نے انہیں آخرت سے غافل بنا دیا۔ کبھی خیال بھی نہ آیا کہ اس احکم الحاکمین کے سامنے جانا ہے جو ذرہ ذرہ کا حساب لے گا۔


ف٩ اس سورت میں اوپر مزکور ہوا کہ اول کافر اپنے کفر کا انکار کریں گے۔ پھر حق تعالٰی تدبیر سے ان کو قائل کرے گا۔



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 48 حدیث مرفوع مکررات 3



قتیبہ بن سعید، اسماعیل بن جعفر، حمید، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ لوگوں کو شب قدر بتانے کے لئے نکلے، مگر (اتفاق سے اس وقت) دو مسلمان باہم لڑ رہے تھے، آپ نے فرمایا (کہ اس وقت) میں اس واسطے نکلا تھا کہ تمہیں شب قدر بتادوں، مگر (چونکہ) فلاں فلاں باہم لڑے، اس لئے (اسکی خبر دنیا سے) اٹھالی گئی اور شاید یہی تمہارے حق میں مفید ہو (اب تم شب قدر کو) رمضان کی ستائیسویں اور انتیسویں اور پچیسویں (تاریخوں) میں تلاش کرو۔



Volume 1, Book 3, Number 79:



Narrated Abu Musa:



The Prophet said, "The example of guidance and knowledge with which Allah has sent me is



like abundant rain falling on the earth, some of which was fertile soil that absorbed rain water



and brought forth vegetation and grass in abundance. (And) another portion of it was hard



and held the rain water and Allah benefited the people with it and they utilized it for drinking,



making their animals drink from it and for irrigation of the land for cultivation. (And) a



portion of it was barren which could neither hold the water nor bring forth vegetation (then



that land gave no benefits). The first is the example of the person who comprehends Allah's



religion and gets benefit (from the knowledge) which Allah has revealed through me (the



Prophets and learns and then teaches others. The last example is that of a person who does



not care for it and does not take Allah's guidance revealed through me (He is like that barren



land.)"




اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد
http://royaltelecome.hotels.officelive.com/images/rabana.jpg
http://royaltelecome.hotels.officelive.com/images/3%20color%20zekr%20okokok.gif

iqbalkuwait
04-03-2010, 01:45 AM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Friday, 02 April 2010



Quran. 6 Aya.131,132



ذَلِكَ أَن لَّمْ يَكُن رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غَافِلُونَ



وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُواْ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ



یہ (رسولوں کا بھیجنا) اس لئے تھا کہ آپ کا رب بستیوں کو ظلم کے باعث ایسی حالت میں تباہ کرنے والا نہیں ہے کہ وہاں کے رہنے والے (حق کی تعلیمات سے بالکل) بے خبر ہوں (یعنی انہیں کسی نے حق سے آگاہ ہی نہ کیا ہو)،



اور ہر ایک کے لئے ان کے اعمال کے لحاظ سے درجات (مقرر) ہیں، اور آپ کا رب ان کاموں سے بے خبر نہیں جو وہ انجام دیتے ہیں،

That (Allah sends messengers) is because your Lord is not to destroy any towns on account of any wrongdoing, while their people are unaware.


For all people, there are ranks according to what they did, and your Lord is not unaware of what they do.



TAFSEER


١ ف سو اس سے بعثت رسول کی وجہ اور اسکی غرض و غایت کو واضح فرما دیا گیا کہ ہر قوم کے اندر انہی میں سے ایک رسول اس لئے مبعوث فرمایا گیا کہ آپ کے رب کی رحمت سے یہ بات بعید تھی کہ وہ کسی قوم کو اسکے کفر وشرک پر اس کے عواقب و نتائج سے خبردار کئے بغیر کوئی عذاب بھیج دے۔ کہ یہ بات اسکے عدل وانصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں اس لئے وہ اگر کسی قوم کو سزا دیتا ہے۔ تو پہلے ان کو اچھی طرح آگاہ کر دیتا ہے۔ تاکہ وہ اگر توبہ و اصلاح کرنا چاہیں تو کرلیں۔ اور اگر ایسا نہ کرنا چاہیں تو اپنے کئے کرائے کے نتیجے کے طور پر اس کا انجام بھگتیں، جس کا حقدار و مستحق انہوں نے اپنے آپ کو بنا لیا۔ والعیاذُ باللہ، جل وعلا


٢ ف سو اس ارشاد ربانی سے ایک طرف تو اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالٰی کے یہاں کسی کے درجہ و مرتبہ کا اصل دارومدار اس کے اپنے عمل و کردار پر ہے نہ کہ کسی قوم قبیلے، یا حسب و نسب، وغیرہ کی بناء پر، اور دوسری حقیقت اس سے یہ واضح فرما دی گئی کہ ان لوگوں کا کوئی عمل و کردار اللہ تعالٰی سے مخفی و مستور نہیں ہو سکتا۔ وہ ان کے تمام کاموں سے پوری طرح واقف و آگاہ ہے۔ اس لئے اس کو انکی درجہ بندی کے سلسلہ میں کوئی زحمت اور مشکل نہیں پیش آسکتی۔ پس وہ ہر کسی کے ساتھ وہی معاملہ فرمائے گا جس کا وہ اپنے عمل و کردار کے اعتبار سے مستحق ہوگا۔ فَبِاللّٰہ التوفیق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ۔ وعَلٰی مَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ، وَہُوَ الْہَادِی اِلٰی سَوَاءِ السَّبِیْل۔ سبحانہ و تعالٰی



HADEES MUBARAK



جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 771 حدیث مرفوع مکررات 8



واصل بن عبدالاعلی، ابوبکر بن عیاش، عاصم، حضرت زر رضی اللہ تعالی عنہ نے ابی بن کعب سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابومنزر کو کس طرح کہا کہ شب قدر رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔ فرمایا بے شک ہمیں رسواللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ وہ ایسی رات ہے کہ اس کے بعد جب صبح سورج نکلتا ہے تو اس میں شعاعیں نہیں ہو تیں ہم نے گنا اور حفظ کرلیا قسم ہے اللہ کی کہ ابن مسعود بھى جانتے تھے کہ یہ رات رمضان کی ستائیسویں رات ہی ہے لیکن تم لوگوں کو بتانا بہتر نہیں سمجھا تاکہ تم صرف اس رات پر بھروسہ نہ کرنے لگو اور دوسری راتوں میں عبادت کرنا کم نہ کر دو، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔



Volume 1, Book 3, Number 80:



Narrated Anas:



Allah's Apostle said, "From among the portents of the Hour are (the following):



1. Religious knowledge will be taken away (by the death of Religious learned men).



2. (Religious) ignorance will prevail.



3. Drinking of Alcoholic drinks (will be very common).



4. There will be prevalence of open illegal sexual intercourse.



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد




اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں
http://royaltelecome.hotels.officelive.com/images/3%20color%20ex.gif

iqbalkuwait
04-03-2010, 09:25 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Saturday, 03 April 2010



Quran.6 Aya.133,134



وَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِن بَعْدِكُم مَّا يَشَاء كَمَآ أَنشَأَكُم مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ آخَرِينَ



إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لآتٍ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ



اور آپ کا رب بے نیاز ہے، (بڑی) رحمت والا ہے، اگر چاہے تو تمہیں نابود کر دے اور تمہارے بعد جسے چاہے (تمہارا) جانشین بنا دے جیسا کہ اس نے دوسرے لوگوں کی اولاد سے تم کو پیدا فرمایا ہے،



بیشک جس (عذاب) کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور آنے والا ہے اور تم (اﷲ کو) عاجز نہیں کر سکتے،

Your Lord is the All-Independent, the Lord of Mercy. If He so wills, He can take you away and cause whomsoever He wills to succeed you, just as He has raised you from the progeny of other people.


Surely what you are promised is bound to come, and you cannot frustrate (it).



TAFSEER


٣ ف سو وہ چونکہ غنی و بےنیاز ہے اس لئے اس کو نہ کسی کی ضرورت ہوسکتی ہے اور نہ کوئی حاجت وہ سب سے غنی اور ہر اعتبار سے مستغنی و بےپرواہ ہے۔ اگر خدانخواستہ سب اس کا انکار کر دیں تو اس کا کچھ بھی بگڑنے والا نہیں۔ اور اگر سب مل کر اس کی حمد و ثنا کے ترانے گانے لگیں تو اس سے اسکی خدائی میں ذرہ برابر کسی اضافے کا کوئی سوال و امکان نہیں وہ ایسے تمام تصورات اور جملہ شوائب سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے سبحانہ وتعالیٰ، لیکن وہ چونکہ غنی اور بےنیاز ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی رحمت والا بھی ہے اس لئے وہ اپنے بندوں کو ایمان و اسلام کی دعوت دیتا ہے اور ان کی ہدایت کیلئے اپنے رسول بھیجتا ہے اور ان کیلئے اپنی کتابیں اتارتا ہے۔ تاکہ خود ان کا بھلا ہو۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی۔ اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں بھی جو اسکے بعد آنے والا ہے۔ اور تاکہ اس طرح وہ ان کو دوزخ کے ہولناک عذاب سے بچا کر اپنی جنت اور اسکی نعمتوں، اور اپنی عظیم الشان عنائیوں اور گونا گوں رحمتوں سے نوازے اور اتمام حجت کے بغیر کسی کو عذاب نہ دے۔ اور اسی لئے وہ لوگوں کو مہلت دیتا ہے۔ تاکہ جنہوں نے اپنی اصلاح کرنی ہو وہ کرلیں۔ نہیں تو وہ اپنا پیمانہ بھر لیں اور اسکے نتیجے میں وہ اپنے آخری انجام اور منطقی نتیجے کو پہنچ کر رہیں، سو وہ اگر منکروں اور سرکشوں کو فوراً نہیں پکڑتا تو اسلئے نہیں کہ وہ ایسا کر نہیں سکتا یا ایسا کرنے سے اسکی دنیا اجڑ جائیگی۔ اور پھر اسکو اس کے آباد کرنے والے نہیں مل سکیں گے نہیں اور ہرگز نہیں وہ اگر چاہے تو تم سب کو لے جائے اور تمہاری جگہ کسی اور مخلوق کو لابسائے جیسا کہ اس نے خود تم لوگوں کو دوسروں کی نسل سے پیدا فرمایا ہے، سبحانہ و تعالیٰ، پس تم لوگوں کو اس سے سبق سیکھنا، اور درس عبرت لینا چاہئے۔ وباللہ التوفیق لمایُحِبُّ ویرید، وعلی مایُحِبُّ ویرید، وہو الہادی الی سواء السبیل


ف٢ خدا نے رسول بھیج کر اپنی حجت تمام کر دی۔ اب اگر تم نہ مانو اور سیدھے راستہ پر نہ چلو تو وہ غنی ہے اسے تمہاری کچھ پرواہ نہیں۔ وہ چاہے تو تم کو ایک دم میں لے جائے اور اپنی رحمت سے دوسری قوم کو تمہاری جگہ کھڑا کر دے جو خدا کی مطیع و وفادار ہو اور تم کو لے جا کر دوسری قوم کا لے آنا خدا کے لئے کیا مشکل ہے۔ آج تم اپنے جن آباء و اجداد کے جانشین بنے بیٹھے ہو، آخر ان کو اٹھا کر تم کو دنیا میں اسی خدا نے جگہ دی ہے۔ بہرحال خدا کا کام رک نہیں سکتا۔ تم نہ کرو گے دوسرے کھڑے کئے جائیں گے۔ ہاں یہ سوچ رکھو کہ یہ ہی بغاوت و شرارت رہی تو خدا کا عذاب اٹل ہے۔ تم اگر سمجھو کہ بھاگ کر یا کسی کی پناہ لے کر سزا سے بچ جاؤ گے تو یہ محض حماقت ہے۔ ساری مخلوق مل کر بھی خدا کو اس کی مشیت کے نفاذ سے عاجز نہیں کر سکتی۔



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 34 حدیث مرفوع مکررات 57متفق علیہ



ابوالیمان، شعیب، ابوالزناد، اعرج، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی ایماندار ہو کر، ثواب جان کر شب قدر میں قیام کرے تو اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔



Volume 1, Book 3, Number 81:



Narrated Anas:



I will narrate to you a Hadith and none other than I will tell you about after it. I heard Allah's



Apostle saying: From among the portents of the Hour are (the following):



1. Religious knowledge will decrease (by the death of religious learned men).



2. Religious ignorance will prevail.



3. There will be prevalence of open illegal sexual intercourse.



4. Women will increase in number and men will decrease in number so much so that fifty



women will be looked after by one man.



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد

iqbalkuwait
04-04-2010, 09:24 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Sunday, 04 April 2010



Quran. 6 Aya.135,136



قُلْ يَا قَوْمِ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدِّارِ إِنَّهُ لاَ يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ



وَجَعَلُواْ لِلّهِ مِمِّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُواْ هَـذَا لِلّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـذَا لِشُرَكَآئِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلاَ يَصِلُ إِلَى اللّهِ وَمَا كَانَ لِلّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَى شُرَكَآئِهِمْ سَاء مَا يَحْكُمُونَ



فرما دیجئے: اے (میری) قوم! تم اپنی جگہ پر عمل کرتے رہو بیشک میں (اپنی جگہ) عمل کئے جا رہا ہوں۔ پھر تم عنقریب جان لو گے کہ آخرت کا انجام کس کے لئے (بہتر ہے)۔ بیشک ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گے،



انہوں نے اﷲ کے لئے انہی (چیزوں) میں سے ایک حصہ مقرر کر لیا ہے جنہیں اس نے کھیتی اور مویشیوں میں سے پیدا فرمایا ہے پھر اپنے گمانِ (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) اﷲ کے لئے ہے اور یہ ہمارے (خود ساختہ) شریکوں کے لئے ہے، پھر جو (حصہ) ان کے شریکوں کے لئے ہے سو وہ تو اﷲ تک نہیں پہنچتا اور جو (حصہ) اﷲ کے لئے ہے تو وہ ان کے شریکوں تک پہنچ جاتا ہے، (وہ) کیا ہی برا فیصلہ کر رہے ہیں،

Say, :O my people, do at your place (whatever you do.) I have to do (in my way). So, you will know for whom is the ultimate abode. Surely, the wrongdoers will not be successful.


They have assigned a portion for Allah from the tillage and the cattle created by Him, and then said, :This is for Allah , so they claim, :And this is for our associate-gods. Then, that which is allocated for their associate-gods never reaches Allah, while that which is allocated for Allah does reach their associate-gods. Evil is what they judge.



TAFSEER


ف٣ یعنی ہم سب نیک و بد اور نفع و ضرر سے آگاہ کر چکے۔ اس پر بھی اگر تم اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے باز نہیں آئے تو تم جانو۔ تم اپنا کام کئے جاؤ میں اپنا فرض ادا کرتا ہوں۔ عنقریب کھل جائے گا کہ اس دنیا کا آخری انجام کس کے ہاتھ رہتا ہے۔ بلاشبہ ظالموں کا انجام بھلا نہیں ہو سکتا۔ آگے ان کے چند اعتقادی اور عملی ظلم بیان کئے جاتے ہیں جو ان میں رائج تھے اور سب سے بڑا ظلم وہ ہی ہے جسے فرمایا اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ۔


ف٤ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ "کافر اپنی کھیتی میں سے اور مواشی کے بچوں میں سے اللہ کی نیاز نکالتے اور بتوں کی بھی نیاز نکالتے۔ پھر بعضا جانور اللہ کے نام کا بہتر دیکھا تو بتوں کی طرف بدل دیا۔ مگر بتوں کی طرف کا اللہ کی طرف نہ کرتے، ان سے زیادہ ڈرتے"۔ اسی طرح غلہ وغیرہ میں سے اگر بتوں کے نام کا اتفاقاً اللہ کے حصّہ میں مل گیا تو پھر جدا کر کے بتوں کی طرف لوٹا دیتے اور اللہ نام کا بتوں کے حصہ میں جا پڑا تو اسے نہ لوٹاتے۔ بہانہ یہ کرتے تھے کہ اللہ تو غنی ہے اس کا کم ہو جائے تو کیا پروا ہے بخلاف بتوں کے کہ وہ ایسے نہیں۔ تماشہ یہ ہے کہ یہ کہہ کر بھی شرماتے نہ تھے کہ جو ایسے محتاج ہوں ان کو معبود و مستعان ٹھہرانا کہاں کی عقلمندی ہے۔ بہرحال ان آیات میں سَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ سے مشرکین کی اس تقسیم کا رد کیا گیا ہے۔ یعنی خدا کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مواشی وغیرہ میں سے اول تو اس کے مقابل غیر اللہ کا حصہ لگانا، پھر بری اور ناقص چیز خدا کی طرف رکھنا کس قدر ظلم اور بےانصافی ہے۔



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 840 حدیث مرفوع مکررات 43متفق علیہ



عبد اللہ بن یوسف، مالک، نافع، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک ریشمی حلہ یعنی کپڑوں کا جوڑا مسجد نبوی کے پاس (فروخت ہوتے ہوئے) دیکھا تو کہا کہ یا رسول اللہ کاش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو خرید لیتے، تاکہ جمعہ کے دن اور وفد کے آنے کے وقت پہن لیتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے وہی شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، پھر اسی قسم کے چند حلے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے ایک عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دیا، تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ پہننے کو دیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حلہ عطارد کے بارے میں فرما چکے ہیں، کہ اس کے پہننے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں اس لئے نہیں دیا تھا کہ تم اسے پہنو، تو عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ایک مشرک بھائی کو جو مکہ میں تھا، پہننے کو دے دیا۔



Volume 1, Book 3, Number 82:



Narrated Ibn 'Umar:



Allah's Apostle said, "While I was sleeping, I saw that a cup full of milk was brought to me



and I drank my fill till I noticed (the milk) its wetness coming out of my nails. Then I gave



the remaining milk to 'Umar Ibn Al-Khattab" The companions of the Prophet asked, "What



have you interpreted (about this dream)? "O Allah's Apostle ,!" he replied, "(It is religious)



knowledge."



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد



اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

iqbalkuwait
04-05-2010, 11:21 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Monday, 05 April 2010



Quran. 6 Aya.137,138



وَكَذَلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلاَدِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُواْ عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ وَلَوْ شَاء اللّهُ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ



وَقَالُواْ هَـذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لاَّ يَطْعَمُهَا إِلاَّ مَن نّشَاء بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَامٌ لاَّ يَذْكُرُونَ اسْمَ اللّهِ عَلَيْهَا افْتِرَاء عَلَيْهِ سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُواْ يَفْتَرُونَ



اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لئے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کو مار ڈالنا (ان کی نگاہ میں) خوش نما کر دکھایا ہے تاکہ وہ انہیں برباد کر ڈالیں اور ان کے (بچے کھچے) دین کو (بھی) ان پر مشتبہ کر دیں، اور اگر اﷲ (انہیں جبراً روکنا) چاہتا تو وہ ایسا نہ کر پاتے پس آپ انہیں اور جو افترا پردازی وہ کر رہے ہیں (اسے نظرانداز کرتے ہوئے) چھوڑ دیجئے،



اور اپنے خیالِ (باطل) سے (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ (مخصوص) مویشی اور کھیتی ممنوع ہے، اسے کوئی نہیں کھا سکتا سوائے اس کے جسے ہم چاہیں اور (یہ کہ بعض) چوپائے ایسے ہیں جن کی پیٹھ (پر سواری) کو حرام کیا گیا ہے اور (بعض) مویشی ایسے ہیں کہ جن پر (ذبح کے وقت) یہ لوگ اﷲ کا نام نہیں لیتے (یہ سب) اﷲ پر بہتان باندھنا ہے، عنقریب وہ انہیں (اس بات کی) سزا دے گا جو وہ بہتان باندھتے تھے،

Similarly, their associate-gods have made the killing of their children seem fair to many mushriks (idolators), so that they may ruin them and may confuse their faith for them. Had Allah so willed, they would not have done that. So, leave them alone with what they fabricate.


They say, :These are prohibited cattle and produce; none can eat them except those whom we wish - so they claimed - :and there are cattle whose backs are prohibited (for riding or loading) , and there are cattle over which they do not pronounce the name of Allah,__all being fabrications against Him. He will soon punish them for what they have been fabricating.



TAFSEER


ف ٥ یہاں"شرکاء" کی تفسیر مجاہد نے "شیاطین" سے کی ہے۔ مشرکین کی انتہائی جہالت اور سنگدلی کا ایک نمونہ یہ تھا کہ بعض اپنی بیٹیوں کو سسر بننے کے خوف سے اور بعض اس اندیشہ پر کہ کہاں سے کھلائیں گے حقیقی اولاد کو قتل کر دیتے تھے اور بعض اوقات منت مانتے تھے کہ اگر اتنے بیٹے ہو جائیں گے یا فلاں مراد پوری ہوگی تو ایک بیٹا فلاں بت کے نام پر ذبح کریں گے۔ پھر اس ظلم و بےرحمی کو بڑی عبادت اور قربت سمجھتے تھے۔ شاید یہ رسم شیطان نے سنت خلیل اللہ ہی کے جواب میں سُجھائی ہوگی۔ یہود میں بھی مدت تک قتل اولاد کی رسم بطور ایک عبادت و قربت کے جاری رہی ہے جس کا انبیائے بنی اسرائیل نے بڑی شدو مد سے رد کیا۔ بہرحال اس آیت میں قتل اولاد کی ان تمام صورتوں کی شناعت بیان فرمائی ہے جو جاہلیت میں رائج تھیں۔ یعنی شیاطین قتل اولاد کی تلقین و تزیین اس لئے کرتے ہیں کہ اس طرح لوگوں کو دنیا و آخرت دونوں جگہ تباہ و برباد کر کے چھوڑیں اور ان کے دین میں گڑ بڑی ڈال دیں کہ جو کام ملت ابراہیمی و اسماعیلی کے بالکل مضاد و منافی ہے، اسے ایک دینی کام اور قربت و عبادت باور کرائیں۔ والعیاذ باللہ! کجا سنت ابراہیمی اور کجا یہ حماقت و جہالت؟

ف ٦ اسی طرح کی آیت "وَلَوْ اَنَّنَا" کے شروع میں گزر چکی۔ وہاں جو کچھ ہم نے لکھا ہے نیز اسی مضمون کی دوسری آیات کے تحت میں لکھا گیا۔ اسے ملاحظہ کر لیا جائے۔


ف١ مثلاً مرد کھائیں عورتیں نہ کھائیں یا صرف مہنت کھا سکیں جو بت خانوں کے مجاور تھے۔ یہ قیود اپنے خیال میں بعض مواشی اور کھیتوں کے متعلق عائد کر رکھی تھیں جو بتوں کے نام پر وقف کئے جاتے تھے، اسی طرح بعض جانوروں کی پیٹھ پر سواری اور بار برداری کو حرام سمجھتے تھے۔ بعض جانوروں کی نسبت یہ اقرار دیا تھا کہ ذبح کرنے یا سواری لینے یا دودھ نکالنے کے وقت ان پر خدا کا نام نہ لیا جائے کہیں بتوں کی چیز میں خدا کی شرکت نہ ہو جائے۔ پھر غضب یہ تھا کہ ان خرافات اور جہالتوں کو خدا کی طرف نسبت کرتے تھے۔ گویا اس نے معاذ اللہ یہ احکام دیے ہیں اور ان ہی طریقوں سے اس کی خوشنودی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایسی بد عنوانیوں کے ساتھ یہ افتراء و بہتان۔ عنقریب ان گستاخیوں کی سزا سے ان کو دو چار ہونا پڑے گا۔



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1328 حدیث متواتر مکررات 19



عبداللہ بن محمد، ابوعاصم نبیل، سعدان بن بشیر، ابومجاہد، محل بن خلیفہ طائی، عدی بن حاتم کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا تو آپ کے پاس دو شخص آئے ایک تو فقر و فاقہ کی شکایت کر رہا تھا دوسرا راہزنی اور راستے غیر محفوظ ہونے کا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہاں تک رہزنی کا تعلق ہے کچھ دنوں بعد تم پر ایسا زمانہ آئے گا جب قافلہ مکہ کی طرف بغیر کسی پاسبان اور محافظ کے روانہ ہوگا، باقی رہا فقر و فاقہ تو قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی کہ تم میں سے کوئی شخص صدقہ لے کر ادھر ادھر پھرے گا اور اس کو اس خیرات کا قبول کرنے والا نہ ملے گا پھر تم میں سے کوئی شخص اللہ کے سامنے اس طرح کھڑا ہوگا کہ اسکے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہ ہوگا اور نہ کوئی ترجمان ہوگا جو ترجمہ کرے۔ پھر اللہ تعالی اس سے فرمائے گا کہ میں نے تجھے مال دیا تھا وہ کہے گا ہاں، تو پھر فرمائے گا کہ کیا میں نے تمہارے پاس رسول نہیں بھیجا تھا ؟ وہ کہے گا ضرور۔ پھر اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو ادھر بھی اسے آگ ہی نظر آئے گی اس لئے تم میں سے ہر شخص آگ سے بچے، اگرچہ ایک کھجور کے ذریعے سے ہی، اگر ایک کھجور بھی میسر نہ ہو تو باتیں اچھی کہے۔



Volume 1, Book 3, Number 83:



Narrated 'Abdullah bin Amr bin Al 'Aas:



Allah's Apostle stopped (for a while near the Jimar) at Mina during his last Hajj for the



people and they were asking him questions. A man came and said, "I forgot and got my head



shaved before slaughtering the Hadi (sacrificing animal)." The Prophet said, "There is no



harm, go and do the slaughtering now." Then another person came and said, "I forgot and



slaughtered (the camel) before Rami (throwing of the pebbles) at the Jamra." The Prophet



said, "Do the Rami now and there is no harm."



The narrator added: So on that day, when the Prophet was asked about anything (as regards



the ceremonies of Hajj) performed before or after its due time, his reply was: "Do it (now)



and there is no harm."



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد

iqbalkuwait
04-06-2010, 10:53 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Tuesday, 06 April 2010



Quran.6 Aya.139,140



وَقَالُواْ مَا فِي بُطُونِ هَـذِهِ الأَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَى أَزْوَاجِنَا وَإِن يَكُن مَّيْتَةً فَهُمْ فِيهِ شُرَكَاء سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ إِنَّهُ حِكِيمٌ عَلِيمٌ



قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُواْ أَوْلاَدَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُواْ مَا رَزَقَهُمُ اللّهُ افْتِرَاء عَلَى اللّهِ قَدْ ضَلُّواْ وَمَا كَانُواْ مُهْتَدِينَ

اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ جو (بچہ) ان چوپایوں کے پیٹ میں ہے وہ ہمارے مَردوں کے لئے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام کر دیا گیا ہے، اور اگر وہ (بچہ) مرا ہوا (پیدا) ہو تو وہ (مرد اور عورتیں) سب اس میں شریک ہوتے ہیں، عنقریب وہ انہیں ان کی (من گھڑت) باتوں کی سزا دے گا، بیشک وہ بڑی حکمت والا خوب جاننے والا ہے،
واقعی ایسے لوگ برباد ہوگئے جنہوں نے اپنی اولاد کو بغیر علمِ (صحیح) کے (محض) بیوقوفی سے قتل کر ڈالا اور ان (چیزوں) کو جو اﷲ نے انہیں (روزی کے طور پر) بخشی تھیں اﷲ پر بہتان باندھتے ہوئے حرام کر ڈالا، بیشک وہ گمراہ ہو گئے اور ہدایت یافتہ نہ ہو سکے،
They say, :Whatever is in the wombs of these cattle is purely for our males, and forbidden to our wives. If it be born dead, then all of them share in it. Soon, He will punish them for what they attribute. Surely, He is All-Wise, All-Knowing.


Losers are those who kill their children foolishly, without knowledge, and hold as prohibited what Allah has provided them, falsely ascribing it to Allah. They have gone astray, and they are not on the right path.



TAFSEER


٣ ف سو اس سے مشرکین کے ان من گھڑت فتوں کے کچھ نمونے پیش فرمائے گئے ہیں جو وہ ذاتی مفادات کیلئے لگاتے تھے اور جو کہ ان کے پروہتوں کی خود ساختہ اور من گھڑت شریعت پر مبنی ہوتے تھے کہ وہی ان کے عالم ہوتے تھے اور انہی کی طرف سے ان چڑھاووں کے بارے میں بڑی بڑی قیدیں اور پابندیاں عائد ہوتی تھیں جس طرح کہ آج ہمارے یہاں کے بدعتی گھرانوں میں بھی اس کے طرح طرح کے نمونے پائے جاتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم، اللہ تعالٰی ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین۔

اولاد کے قاتل


اولاد کے قاتل اللہ کے حلال کو حرام کرنے والے دونوں جہان کی بربادی اپنے اوپر لینے والے ہیں ۔ دنیا کا گھاٹا تو ظاہر ہے ان کے یہ دونوں کام خود انہیں نقصان پہنچانے والے ہیں بےاولاد یہ ہو جائیں گے مال کا ایک حصہ ان کا تباہ ہو جائے گا ۔ رہا آخرت کا نقصان سو چونکہ یہ مفتری ہیں، کذاب ہیں، وہاں کی بدترین جگہ انہیں ملے گی ، عذابوں کے سزاوار ہوں گے جیسے فرمان ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے والے نجات سے محروم کامیابی سے دور ہیں یہ دنیا میں گو کچھ فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر تو ہمارے بس میں آئیں گے پھر تو ہم انہیں سخت تر عذاب چکھائیں گے کیونکہ یہ کافر تھے ۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ اگر تو اسلام سے پہلے کے عربوں کی بد خصلتی معلوم کرنا چاہے تو سورۃ انعام کی ایک سو تیس آیات کے بعد آیت(قد خسر الذین) الخ، والی روایت پڑھو (بخاری کتاب مناقب قریش)



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2115 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 22متفق علیہ



یحیی بن قزعہ، مالک، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصاری، ابوعبیدہ بن جراح، اور ابی بن کعب کو فضیح یعنی کھجور کی شراب پلا رہا تھا، ان کے پاس آنے والے نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی ہے اس پر ابوطلحہ نے کہا کہ اے انس اٹھ کر ان مٹکوں کے پاس جا اور انہیں توڑ دے، حضرت انس کا بیان ہے کہ میں کھڑا ہوا اور ایک مہر اس میں جو ہمارے ہاں تھا اسے میں نے ان مٹکوں پر مارا یہاں تک کہ وہ ٹوٹ گئے۔



Volume 1, Book 3, Number 84:



Narrated Ibn 'Abbas:



Somebody said to the Prophet (during his last Hajj), "I did the slaughtering before doing the



Rami.' The Prophet beckoned with his hand and said, "There is no harm in that." Then



another person said. "I got my head shaved before offering the sacrifice." The Prophet



beckoned with his hand saying, "There is no harm in that."



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد




اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

iqbalkuwait
04-07-2010, 11:24 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Wednesday, 07 April 2010



Quran. 6 Aya.141,142



وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَ جَنَّاتٍ مَّعْرُوشَاتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشَاتٍ وَالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ كُلُواْ مِن ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُواْ حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ



وَمِنَ الأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا كُلُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ



اور وہی ہے جس نے برداشتہ اور غیر برداشتہ (یعنی بیلوں کے ذریعے اوپر چڑھائے گئے اور بغیر اوپر چڑھائے گئے) باغات پیدا فرمائے اور کھجور (کے درخت) اور زراعت جس کے پھل گوناگوں ہیں اور زیتون اور انار (جو شکل میں) ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور (ذائقہ میں) جداگانہ ہیں (بھی پیدا کئے)۔ جب (یہ درخت) پھل لائیں تو تم ان کے پھل کھایا (بھی) کرو اور اس (کھیتی اور پھل) کے کٹنے کے دن اس کا (اﷲ کی طرف سے مقرر کردہ) حق (بھی) ادا کر دیا کرو اور فضول خرچی نہ کیا کرو، بیشک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا،



اور (اس نے) بار برداری کرنے والے (بلند قامت) چوپائے اور زمین پر (ذبح کے لئے یا چھوٹے قد کے باعث) بچھنے والے (مویشی پیدا فرمائے)، تم اس (رزق) میں سے (بھی بطریقِ ذبح) کھایا کرو جو اﷲ نے تمہیں بخشا ہے اور شیطان کے راستوں پر نہ چلا کرو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،

He is the One who has created gardens, trellised and untrellised, and date-palms and crops with a variety of edibles, and the olive and the pomegranate, (some) similar to one another, and (some) dissimilar. Eat of its fruit when it bears fruits, and pay its due on the day of harvest, and do not be extravagant. Surely, Allah does not like the extravagant


Among cattle (He has created) those fit for loading and those fit for laying on the floor. Eat of what Allah has provided you, and do not follow the footsteps of Satan. Surely, he is an open enemy to you.



TAFSEER


١ ف سو اپنے خالق و مالک کی معرفت سے سرفرازی کیلئے تم لوگوں کو کہیں دور جانے اور منطقی صغرے کبرے ملانے کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے لئے تم لوگ خود اپنے وجود کے اندر اور اپنے اردگرد پھیلی بکھری ان عظیم الشان اور گوناگوں نعمتوں ہی کو دیکھ لو اور ان میں نگاہ عبرت و بصیرت ڈال لو تو تم لوگوں کو اس واہب مطلق جَلَّ جَلَالُہ، کے وجودِ باجود اس کی قدرت و حکمت، اور اسکی رحمت و عنایت، کے عظیم الشان مظاہر اور نمونے ملیں گے پس تم دیکھو اور سوچو کہ اس نے کس قدر قدرت وحکمت، اور رحمت و عنایت سے تمہارے لئے اس قدر عظیم الشان نعمتوں کو اس کثرت سے وبہتات اور اس قدر پُر حکمت طریقے کے ساتھ ہر چہارسُو پھیلا دیا ہے اور اس قدر عظیم الشان تنوع اور بوقلمونی کے ساتھ کہ ہمارے جسم کے اندر کی ہر ضرورت کی تکمیل کا سامان نہایت ہی پُرحکمت طریقے سے فرما دیا گیا اگر ہمارے جسم کے اندر گلوکوز اور فولاد کی ضرورت اور اس کا تقاضا ودیعت فرمایا گیا ہے، تو اس کیلئے اس نے انگور اور انار جیسے عظیم الشان پھلوں کے خوبصورت دانوں کے اندر عظیم الشان رس بھر دیا۔ اگر ہماری زبانوں کے اندر مختلف قسم کے ذائقے ودیعت فرمائے گئے، تو اس کیلئے اس نے ان گنت اور گوناگوں مزوں والے اناج غلے اور پھل پیدا فرما دئے۔ ہماری نگاہوں کو حسن و جمال کا ذوق بخشا۔ تو اسکی تسکین کیلئے طرح طرح کی اشیاء میں حسن و رعنائی، اور دلکشی و زیبائی، کے ان گنت اور بےمثال نمونے رکھ دیے۔ اور حضرت خالق حکیم و قدیر جَلَّ جَلَالُہ، وعمّ نوالہ، نے ان بیحد و حساب اشیاء کے اندر ان کے ظاہری تنوع اور اختلاف کے باوجود مقصد کی جو وحدت رکھی ہے وہ اپنی زبان حال سے پکار پکار کر حضرت خالق و مالک جل مجدہ، کی وحدت و یکتائی کا اظہار و اعلان کر رہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ فلہ الحمد ولہ الشکر۔ بکل حالٍ من الاحوال،


٢ ف یعنی جانوروں کی ان دو قسموں کا پیدا کرنا اس خالق و مالک کا تم لوگوں پر ایک اور عظیم الشان انعام و احسان ہے کہ یہ دونوں قسمیں تمہارے لئے دو الگ الگ قسموں کی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان کرتی ہیں۔ سو حمولۃ کی قسم کے جانور تمہارے لئے سواری اور باربرداری وغیرہ کی عظیم الشان اور بیشمار خدمات انجام دیتے ہیں۔ جیسے اونٹ، گھوڑے، خچر اور گدھے وغیرہ جبکہ فرشاً یعنی زمین سے لگے ہوئے جانور تمہارے لئے گوشت اور خوراک وغیرہ کی دوسری طرح طرح کی اور بیشمار ضرورتوں کی تکمیل کا سامان کرتے ہیں۔ سو دیکھو کہ یہ اس خالق و مالک کی تم لوگوں پر کتنی بڑی عنایت اور کس قدر عظیم الشان رحمت ہے۔ پھر بھی اس سے سرکشی و سرتابی کتنا بڑا ظلم اور کس قدر بڑی ناشکری اور بےانصافی ہے؟ والعیاذ باللّٰہ، اَللّٰہُمَّ فَخُذْنَا بِنَواصِیْنَا اِلٰی ما فیہٖ حُبُّکَ وَرَضاکَ۔



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1365 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 13



حسن بن ربیع، ابوالاحوص، اعمش، زید بن وہب سے روایت ہے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ کہ پتھریلی زمین میں چلا جارہا تھا، ہمیں احد پہاڑ نظر آیا، آپ نے فرمایا، اے ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نے عرض کیا، لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے فرمایا، کہ مجھے اچھا نہیں لگتا، کہ میرے پاس اس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو، اور تین رات اس میں سے بجز ادائے قرض کے ایک دینار بھی میرے پاس رہے، بلکہ میں اس کو اللہ کے بندوں میں اس طرح اور اس طرح خرچ کردوں اپنے دائیں بائیں اور پیچھے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا، پھر تھوڑی دیر چلے تو فرمایا زیادہ مالدار قیامت کے دن نیکی کے اعتبار سے مفلس ہوں گے مگر وہ جس نے اس طرح اور اس طرح (دائیں بائیں اور پیچھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) خرچ کیا اور ایسے لوگ کم ہیں، پھر مجھ سے فرمایا کہ اسی جگہ ٹھہرے رہو جب تک میں نہ آؤں، پھر رات کی تاریکی میں آپ چلتے رہے یہاں تک کہ آپ نظر سے غائب ہو گئے میں نے ایک آواز سنی جو بلند ہو رہی تھی، میں ڈرا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی حادثہ پیش آگیا میں نے چاہا کہ آپ کے پاس جاؤں پھر مجھے آپ کا فرمان یاد آگیا، کہ جب تک میں نہ آؤں تم یہیں ٹھہرے رہو،چنانچہ میں وہی ٹھہرا رہا یہاں تک کہ آپ میرے پاس تشریف لائے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے ایک آواز سنی، میں ڈرا کہیں کوئی حادثہ پیش نہ آیا ہو (میں نے آپ کے پاس جانا چاہا) لیکن مجھے آپ کا حکم یاد آگیا آپ نے فرمایا کیا تم نے وہ آواز سنی تھے؟ میں نے کہا ہاں! آپ نے فرمایا کہ وہ جبریل تھے، جو میرے پاس آئے تھے، انہوں نے کہا کہ تمہاری امت میں سے کوئی شخص مر جائے اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے، تو وہ جنت میں داخل ہوگا، میں نے کہا اگرچہ زنا اور چوری کی ہو، انہوں نے کہا (ہاں) اگرچہ زنا اور چوری کی ہو۔



Volume 1, Book 3, Number 85:



Narrated Abu Huraira:



The Prophet said, "(Religious) knowledge will be taken away (by the death of religious



scholars) ignorance (in religion) and afflictions will appear; and Harj will increase." It was



asked, "What is Harj, O Allah's Apostle?" He replied by beckoning with his hand indicating



"killing." (Fateh-al-Bari Page 192, Vol. 1)



Muhammad Iqbal Kuwait



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد




اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

iqbalkuwait
04-09-2010, 12:09 AM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Thursday, 08 April 2010



Quran. 6 Aya.143,144



ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ مِّنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الأُنثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الأُنثَيَيْنِ نَبِّؤُونِي بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ



وَمِنَ الإِبْلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الأُنثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الأُنثَيَيْنِ أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاء إِذْ وَصَّاكُمُ اللّهُ بِهَـذَا فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِبًا لِيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ



(اﷲ نے) آٹھ جوڑے پیدا کئے دو (نر و مادہ) بھیڑ سے اور دو (نر و مادہ) بکری سے۔ (آپ ان سے) فرما دیجئے: کیا اس نے دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ (بچہ) جو دونوں ماداؤں کے رحموں میں موجود ہے؟ مجھے علم و دانش کے ساتھ بتاؤ اگر تم سچے ہو،



اور دو (نر و مادہ) اونٹ سے اور دو (نر و مادہ) گائے سے۔ (آپ ان سے) فرما دیجئے: کیا اس نے دونوں نر حرام کئے ہیں یا دونوں مادہ یا وہ (بچہ) جو دونوں ماداؤں کے رحموں میں موجود ہے؟ کیا تم اس وقت موجود تھے جب اﷲ نے تمہیں اس (حرمت) کا حکم دیا تھا؟ پھر اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اﷲ پر جھوٹا بہتان باندھتا ہے تاکہ لوگوں کو بغیر جانے گمراہ کرتا پھرے۔ بیشک اﷲ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا،

(Allah has created) eight pairs: two of sheep and two of goats. Say, :Is it the two males that He has prohibited or the two females, or whatever the wombs of the two females contain? Tell me on the basis of knowledge if you are true.


And (He has created) two of camels and two of oxen. Say, :Is it the two males that He has prohibited or the two females or whatever the wombs of the two females contain? Or were you present when Allah has advised you of this? So, who is more unjust than the one who fabricates a lie against Allah in order to misguide people without knowledge? Surely, Allah gives no guidance to an unjust people.



TAFSEER


٣ ف یعنی تم لوگ اگر اپنے دعوے میں سچے ہو کہ ان میں سے بعض قسمیں دین ابراہیمی میں حرام تھیں تو تم اس کے لئے کوئی نقلی یا عقلی دلیل پیش کرو۔ یعنی یا تو دین ابراہیمی کی کوئی ایسی قابل اعتماد سند پیش کرو۔ جس سے ثابت ہو کہ فلاں فلاں چیزیں اس دین میں حرام تھیں۔ یا کوئی ایسی عقلی و فطری دلیل، جس سے تمہارے اس دعوے کی صحت پر اعتماد کیا جاسکے۔ اور جب ایسی کوئی دلیل موجود نہیں، اور یقینا نہیں، تو پھر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ تم لوگ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہو۔ والعیاذُ باللہ العظیم


١ ف کیونکہ ایسے ظالم لوگ جب اپنے ظلم پھر اڑے ہوئے ہیں اور وہ نور ہدایت سے سرفرازی چاہتے ہی نہیں تو پھر ان کو ہدایت آخر کیسے اور کیونکر مل سکتی ہے؟ جبکہ نُور ہدایت سے سرفرازی کیلئے اولین شرط طلب صادق ہے۔ سو انسان کی ہدایت و غوایت کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب وباطن، اور ارادہ و نیت سے ہے۔ اور ایسے لوگ جب اپنے کفر و باطل پر اڑے ہوئے ہیں اور اللہ پر جھوٹ باندھ کر دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کے درپے ہیں تو پھر ان کو ہدایت سے سرفرازی آخر کیسے نصیب ہوسکتی ہے؟ والعیاذُ باللہ جل وعلا



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 99 حدیث مرفوع مکررات 2



ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ حصہ آپ کی شفاعت سے کس کو ملے گا؟ رسول اللہ نے فرمایا کہ مجھے یقینی طور پر یہ خیال تھا کہ ابوہریرہ تم سے پہلے کوئی یہ بات مجھ سے نہ پوچھے گا، کیونکہ میں نے تمہاری حرص حدیث پر دیکھ لی تھی، سب سے زیادہ فیض یاب میری شفاعت سے قیامت کے دن وہ شخص ہوگا جو صدق دل سے یا اپنے خالص جی سےلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہہ دے۔



Volume 1, Book 3, Number 86:



Narrated Asma:



I came to 'Aisha while she was praying, and said to her, "What has happened to the people?"



She pointed out towards the sky. (I looked towards the mosque), and saw the people offering



the prayer. Aisha said, "Subhan Allah." I said to her, "Is there a sign?" She nodded with her



head meaning, "Yes." I, too, then stood (for the prayer of eclipse) till I became (nearly)



unconscious and later on I poured water on my head. After the prayer, the Prophet praised



and glorified Allah and then said,



"Just now at this place I have seen what I have never seen before, including Paradise and



Hell. No doubt it has been inspired to me that you will be put to trials in your graves and



these trials will be like the trials of Masiah-ad-Dajjal or nearly like it (the sub narrator is not



sure which expression Asma' used). You will be asked, 'What do you know about this man



(the Prophet Muhammad)?' Then the faithful believer (or Asma' said a similar word) will



reply, 'He is Muhammad Allah's Apostle who had come to us with clear evidences and



guidance and so we accepted his teachings and followed him. And he is Muhammad.' And he



will repeat it thrice. Then the angels will say to him, 'Sleep in peace as we have come to



know that you were a faithful believer.' On the other hand, a hypocrite or a doubtful person



will reply, 'I do not know, but I heard the people saying something and so I said it.' (the



same). "




اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد

اورصبع شام آپنے رب کےنام کا ذکر کيا کريں = قرآن 76/25

Ghulam Ghous
04-09-2010, 01:31 PM
:ma great work keep it up

iqbalkuwait
04-09-2010, 10:24 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Friday, 09 April 2010



Quran. 6 Aya.145,146



قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلاَّ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ



وَعَلَى الَّذِينَ هَادُواْ حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَلِكَ جَزَيْنَاهُم بِبَغْيِهِمْ وِإِنَّا لَصَادِقُونَ



آپ فرما دیں کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے اس میں تو میں کسی (بھی) کھانے والے پر (ایسی چیز کو) جسے وہ کھاتا ہو حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مُردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو کیو نکہ یہ ناپاک ہے یا نافرمانی کا جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام بلند کیا گیا ہو۔ پھر جو شخص (بھوک کے باعث) سخت لاچار ہو جائے نہ تو نافرمانی کر رہا ہو اور نہ حد سے تجاوز کر رہا ہو تو بیشک آپ کا رب بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،



اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والا (جانور) حرام کر دیا تھا اور گائے اور بکری میں سے ہم نے ان پر دونوں کی چربی حرام کر دی تھی سوائے اس (چربی) کے جو دونوں کی پیٹھ میں ہو یا اوجھڑی میں لگی ہو یا جو ہڈی کے ساتھ ملی ہو۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کے باعث انہیں سزا دی تھی اور یقینا ہم سچے ہیں،

Say, :I do not find, in what has been revealed to me, anything (out of the cattle under discussion) prohibited for anyone who eats it, unless it be carrion or blood that pours forth, or flesh of swine - because it is impure - or there be an animal slaughtered sinfully by invoking on it the name of someone other than Allah. However, if anyone is compelled by necessity, neither seeking pleasure nor crossing the limit, then your Lord is Most-Forgiving, Very-Merciful.


For those who are Jews We prohibited all that has claws. Of cows and goats, We prohibited for them their fats, except that which is borne by their backs or the entrails, or what is attached to a bone. Thus We recompensed them for their transgression. We are definitely truthful.



TAFSEER


ف١ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں "یعنی جن جانوروں کا کھانا دستور ہے ان میں سے یہ ہی حرام ہے۔" اس آیت میں کفار کو یہ بتلانا ہے کہ جو چیزیں اوپر مزکور ہوئیں حلال تھیں جن کو تم نے حرام بنا لیا۔ اب وہ چیزیں بتلائی جاتی ہیں جو واقعی حرام ہیں اور تم ان کو حلال سمجھتے ہو۔ باقی مضمون آیت کی تفسیر و توضیح "سورہ مائدہ کے شروع میں حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ الخ کے نیچے گزر چکی ہے وہاں ملاحظہ کر لی جائے۔


ف٢ یعنی اصلی حرمت تو ان چیزوں میں ہے جو اوپر مذکور ہوئیں، البتہ وقتی مصلحت سے بعض چیزیں عارضی طور پر بعض اقوام پر پہلے حرام کی جا چکی ہیں۔ مثلاً یہود پر ان کی شرارتوں کی سزا میں ہر ناخن (کھر) والا جانور جس کی انگلیاں پھٹی نہ ہوں جیسے اونٹ، شتر مرغ، بطخ وغیرہ حرام کیا گیا تھا۔ نیز گائے بکری کی جو چربی پشت یا انتڑیوں پر لگی ہوئی ہو یا ہڈی کے ساتھ نہ ملی ہو ان پر حرام کر دی گئی تھی جیسے گردہ کی چربی۔ بنی اسرائیل کا دعویٰ غلط ہے کہ یہ چیزیں ابراہیم نوح کے زمانہ ہی سے مستمر طور پر حرام چلی آتی ہیں سچی بات یہ کہ ان میں سے کوئی چیز عہد ابراہیمی میں حرام نہ تھی یہود کی نافرمانیوں اور شرارتوں کی وجہ سے یہ سب چیزیں حرام ہوئیں جو کوئی اس کے خلاف دعویٰ کرے جھوٹا ہے، جیسے پارہ "لَنْ تَنَالُوْا" کے شروع میں قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّو ٰرۃِ فَاتْلُوْ ھَا اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ سے ان دعویٰ کرنے والوں کو چیلنج دیا گیا ہے۔



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 28 حدیث مرفوع مکررات 69متفق علیہ



ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (ایک مرتبہ) مجھے دوزخ دکھلائی گئی، تو اس کی رہنے والی زیادہ تر میں نے عورتوں کو پایا، وجہ یہ ہے کہ وہ کفر کرتی ہیں، عرض کیا گیا، کیا اللہ کا کفر کرتی ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ شوہر کا کفر کرتی ہیں اور احسان نہیں مانتیں (اے شخص) اگر تو کسی عورت کے ساتھ ایک زمانہ دراز تک احسان کرتا رہے، بعد اس کے کوئی (خلاف) بات تجھ سے دیکھ لے، تو فورا کہہ دے گی کہ میں نے تجھ سے کبھی آرام نہیں پایا۔



Volume 1, Book 3, Number 87:



Narrated Abu Jamra:



I was an interpreter between the people and Ibn 'Abbas. Once Ibn 'Abbas said that a



delegation of the tribe of'Abdul Qais came to the Prophet who asked them, "Who are the



people (i.e. you)? (Or) who are the delegates?" They replied, "We are from the tribe of



Rabi'a." Then the Prophet said to them, "Welcome, O people (or said, "O delegation (of



'Abdul Qais).") Neither will you have disgrace nor will you regret." They said, "We have



come to you from a distant place and there is the tribe of the infidels of Mudar intervening



between you and us and we cannot come to you except in the sacred month. So please order



us to do something good (religious deeds) and that we may also inform our people whom we



have left behind (at home) and that we may enter Paradise (by acting on them.)" The Prophet



ordered them to do four things, and forbade them from four things. He ordered them to



believe in Allah Alone, the Honorable the Majestic and said to them, "Do you know what is



meant by believing in Allah Alone?" They replied, "Allah and His Apostle know better."



Thereupon the Prophet said, "(That means to testify that none has the right to be worshipped



but Allah and that Muhammad is His Apostle, to offer prayers perfectly, to pay Zakat, to



observe fasts during the month of Ramadan, (and) to pay Al-Khumus (one fifth of the booty



to be given in Allah's cause)." Then he forbade them four things, namely Ad-Dubba.'



Hantam, Muzaffat (and) An-Naqir or Muqaiyar(These were the names of pots in which



alcoholic drinks used to be prepared). The Prophet further said, "Memorize them (these



instructions) and tell them to the people whom you have left behind."



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد

Attari1980
04-10-2010, 11:15 AM
Jazak Allah

iqbalkuwait
04-10-2010, 09:35 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Saturday, 10 April 2010



Quran. 6 Aya.147,148,149



فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ وَلاَ يُرَدُّ بَأْسُهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ



سَيَقُولُ الَّذِينَ أَشْرَكُواْ لَوْ شَاء اللّهُ مَا أَشْرَكْنَا وَلاَ آبَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن شَيْءٍ كَذَلِكَ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم حَتَّى ذَاقُواْ بَأْسَنَا قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إَلاَّ تَخْرُصُونَ



قُلْ فَلِلّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاء لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ



پھر اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو فرما دیجئے کہ تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے اور اس کا عذاب مجرم قوم سے نہیں ٹالا جائے گا،



جلد ہی مشرک لوگ کہیں گے کہ اگر اﷲ چاہتا تو نہ (ہی) ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے آباء و اجداد اور نہ کسی چیز کو (بلا سند) حرام قرار دیتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے تھے حتٰی کہ انہوں نے ہمارا عذاب چکھ لیا۔ فرما دیجئے: کیا تمہارے پاس کوئی (قابلِ حجت) علم ہے کہ تم اسے ہمارے لئے نکال لاؤ (تو اسے پیش کرو)، تم (علمِ یقینی کو چھوڑ کر) صرف گمان ہی کی پیروی کرتے ہو اور تم محض (تخمینہ کی بنیاد پر) دروغ گوئی کرتے ہو،



فرما دیجئے کہ دلیلِ محکم تو اﷲ ہی کی ہے، پس اگر وہ (تمہیں مجبور کرنا) چاہتا تو یقیناً تم سب کو (پابندِ) ہدایت فرما دیتا٭،٭ وہ حق و باطل کا فرق اور دونوں کا انجام سمجھانے کے بعد ہر ایک کو آزادی سے اپنا راستہ اختیار کرنے کا موقع دیتا ہے، تاکہ ہر شخص اپنے کئے کا خود ذمہ دار ٹھہرے اور اس پر جزا و سزا کا حق دار قرار پائے۔

Then, if they give the lie to you, say, :Your Lord is the Lord of all-embracing mercy, and His punishment cannot be averted from the sinning people.
Those who associate partners with Allah will say, :Had Allah willed, we would have not associated (partners with Him), nor our fathers, nor would we have made anything prohibited. In the same way those who went before them gave the lie to (the truth) until they tasted Our punishment. Say, :Do you have any sure knowledge that you may produce to us? You follow nothing but whims, and do nothing but make conjectures.


Say, :Then, Allah‘s is the conclusive proof. So, had He willed, He would have brought all of you on the right path .



TAFSEER


٤ ف سو اس سے پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اس ساری وضاحت کے باوجود اگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں بلکہ آپ کی تکذیب ہی کرتے جائیں تو ان سے کہہ دو کہ اللہ بڑی ہی وسیع رحمت والا ہے۔ اس لئے وہ سرکشوں اور ہٹ دھرموں کو فوراً نہیں پکڑتا۔ بلکہ ان کو ڈھیل ہی دیئے جاتا ہے۔ اور وہ ایسوں کو بڑی لمبی ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ اپنا پیمانہ اتنا لبریز کرلیں کہ اسکے بعد ان کیلئے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ اس لئے وہ تم لوگوں کو بھی ڈھیل دے رہا ہے۔ پس اس سے تم لوگ مغرور نہ ہو جاؤ، کہ ڈھیل بہرحال ڈھیل ہی ہوتی ہے۔ جس نے بالآخر ختم ہو جانا ہوتا ہے۔ لیکن آخرکار جب وہ ظالموں اور مجرموں کو پکڑنے پر آتا ہے تو اسکی پکڑ بھی بڑی سخت ہوتی ہے۔ اور جب اس کی پکڑ کے ظہور کا وقت آجاتا ہے، تو پھر وہ کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتی۔ پس تم لوگ اس سے بچنے کی فکر کر لو قبل اس سے کہ اسکی فرصت تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔ اور تم لوگوں کو ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے۔ والعیاذُ باللہ العظیم پس اس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ انسان کے لئے صحت و سلامتی، امن و امان، اور فوز و فلاح کی راہ یہی اور صرف یہی ہے کہ وہ صدق و اخلاص کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی ہدایت اور ان کے ارشادات کے آگے جھک جائے، اور ان کو صدق دل سے اپنالے اور اپنی زندگی انہی کے مطابق گزارے، وباللہ التوفیق لمایُحِبُّ ویرید، وعلیٰ مایُحِبُّ ویرید،

١ ف سو تم لوگ بغیر کسی دلیل اور سند کے محض اٹکل پچو باتوں سے کام لیتے ہو، تمہارا کام ظن و تخمین کی پیروی کرنا اور محض اٹکل کے تیر چلانا اور قیاس کے گھوڑے دوڑانا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ مشیئت الٰہی اور چیز ہے، اور اس کی رضا و مرضی بالکل الگ چیز۔ تمہارا کفر و شرک اللہ تعالٰی کی مشیئت میں تو ضرور داخل ہے کہ اس کی بادشاہی میں اسکی مشیئت کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ اور اس کی مشیئت یہی ہے کہ اس دنیا میں ہر کسی کو اس کے ارادہ و اختیار کی آزادی دی جائے، کہ ابتلاء و آزمائش کا دارو مدار اسی پر ہے۔ لیکن تمہارا یہ کفر و شرک اسکی رضا اور مرضی کی چیز بہرحال نہیں کہ وہ کفر و شرک پر کبھی راضی نہیں ہو سکتا۔ سبحانہ و تعالیٰ، چنانچہ اس کا اپنا ارشاد ہے، اور صاف و صریح ارشاد ہے، وَلَا یَرْضٰی لِعِبَادِہِ الْکُفْرَ، کہ وہ اپنے بندوں کیلئے کفر پر کبھی راضی نہیں ہو سکتا۔ اور اگر تم لوگوں کی اس احمقانہ اور من گھڑت منطق کو مان لیا جائے تو پھر اس کو ہر ظالم اور سرکش انسان اپنے ظلم اور اپنی بغاوت و سرکشی کے جواز کیلئے استعمال کر سکتا ہے اور ہر قاتل اس کو اپنے قتل کے جواز پر اور ہر چور اپنی چوری کی درستی کیلئے دلیل بنا سکتا ہے اور ہر بدمعاش اس کو اپنی بدمعاشی کے حق میں استعمال کر سکتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس طریق استدلال واحتجاج کی تصویب کوئی بھی نہیں کرسکتا پس یہ کوئی دلیل نہیں بلکہ یہ ان لوگوں کی شرارت کی ایجاد اور اپنی ضد پر اڑے رہنے کیلئے ایک بہانہ ہے۔ یہی روش ان سے پہلے کے منکروں نے بھی اختیار کی جس سے آخرکار وہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہے۔ سو یہ بھی اپنے انجام کا انتظار کریں۔ وقت آنے پر اس سب کا نتیجہ ان کے سامنے خود آجائیگا۔


٢ ف سو اگر اس کو ایسی جبری ہدایت منظور و مطلوب ہوتی تو اس کے لئے اس قادر مطلق کو کچھ بھی مشکل نہیں تھا کہ وہ تم سب ہی کو محض اپنے ارادے اور اشارے ہی سے راہِ حق و ہدایت پر ڈال دیتا لیکن اس کے یہاں مطلوب و مفید وہی ایمان ہے جو اپنے ارادہ واختیار اپنے دل کی چاہت و خواہش اور حجت و برہان کی بناء پر ہو۔ کہ ثواب اور عذاب کا اصل دار ومدار انسان کے اپنے ارادہ و اختیار ہی پر ہے نہ کہ جبری اور قہری ایمان پر۔



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1381 حدیث مرفوع مکررات 7



عبد اللہ بن محمد، محمد بن فضیل، فضیل، عمارہ، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ آل محمد کو قوت لایموت دے (یعنی صرف اتنا جس سے ان کا گزر ہوسکے) ۔



Volume 1, Book 3, Number 88:



Narrated 'Abdullah bin Abi Mulaika:



'Uqba bin Al-Harith said that he had married the daughter of Abi Ihab bin 'Aziz. Later on a



woman came to him and said, "I have suckled (nursed) Uqba and the woman whom he



married (his wife) at my breast." 'Uqba said to her, "Neither I knew that you have suckled



(nursed) me nor did you tell me." Then he rode over to see Allah's Apostle at Medina, and



asked him about it. Allah's Apostle said, "How can you keep her as a wife when it has been



said (that she is your foster-sister)?" Then Uqba divorced her, and she married another man.



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد

iqbalkuwait
04-12-2010, 12:28 AM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Sunday, 11 April 2010



Quran. 6 Aya.150,151



قُلْ هَلُمَّ شُهَدَاءكُمُ الَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ اللّهَ حَرَّمَ هَـذَا فَإِن شَهِدُواْ فَلاَ تَشْهَدْ مَعَهُمْ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاء الَّذِينَ كَذَّبُواْ بِآيَاتِنَا وَالَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ



قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلاَّ تُشْرِكُواْ بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَكُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ



(ان مشرکوں سے) فرما دیجئے کہ تم اپنے ان گواہوں کو پیش کرو جو (آکر) اس بات کی گواہی دیں کہ اﷲ نے اسے حرام کیا ہے، پھر اگر وہ (جھوٹی) گواہی دے ہی دیں تو ان کی گواہی کو تسلیم نہ کرنا (بلکہ ان کا جھوٹا ہونا ان پر آشکار کر دینا)، اور نہ ایسے لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہ (معبودانِ باطلہ کو) اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں،



فرما دیجئے: آؤ میں وہ چیزیں پڑھ کر سنا دوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں (وہ) یہ کہ تم اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اور مفلسی کے باعث اپنی اولاد کو قتل مت کرو۔ ہم ہی تمہیں رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی (دیں گے)، اور بے حیائی کے کاموں کے قریب نہ جاؤ (خواہ) وہ ظاہر ہوں اور (خواہ) وہ پوشیدہ ہوں، اور اس جان کو قتل نہ کرو جسے (قتل کرنا) اﷲ نے حرام کیا ہے بجز حقِ (شرعی) کے، یہی وہ (امور) ہیں جن کا اس نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو،

Say, :Bring your witnesses who testify that Allah has prohibited this. Then, if they testify, (O prophet), do not be a witness to them, and do not follow the desires of those who have given the lie to Our signs and those who do not believe in the Hereafter, and who equate others with their Lord.


Say (O Prophet to the infidels), :Come, and I shall recite what your Lord has prohibited for you: Do not associate anything with Him (as His partner); and be good to parents, and do not kill your children because of poverty – We will give provision to you, and to them as well – and do not go near shameful acts, whether they are open or secret; and do not kill a person whom Allah has given sanctity, except rightfully. This He has enjoined upon you, so that you may understand.



TAFSEER


٣ ف سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جب ان لوگوں کے پاس عقل و نقل کی کوئی دلیل نہیں اور نہ ہو سکتی ہے۔ تو یہ اگر اس کے باوجود اپنی ان خرافات کے حق میں کوئی گواہی دیتے ہیں تو آپ ان کے ساتھ گواہی نہ دینا۔ کیونکہ جس چیز کو یہ لوگ دین کہتے اور بتاتے ہیں وہ دین نہیں بلکہ ان کی خواہشات اور من گھڑت خرافات کا پلندہ ہے، اور خواہشات کی پیروی کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ پھر ان لوگوں کے اس ارشاد میں تین جرائم ذکر فرمائے گئے ہیں جو دراصل ان کے اتباع ہویٰ کے اس جرم ہی سے پھوٹنے والے ہیں ایک یہ کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کی تکذیب کی جس سے ان کی تاریکی اور گہری ہو گئی۔ اور دوسرا جرم یہ کہ یہ لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے جو کہ آیات الٰہی کی تکذیب کا لازمی نتیجہ ہے، اور تیسرا یہ کہ یہ لوگ اپنے رب کے ہمسر ٹھہراتے ہیں، جو کہ تکذیب آیات اور ایمان بالآخرۃ سے محرومی کا طبعی نتیجہ اور منطقی تقاضا ہے۔ ورنہ اس وحدہ لاشریک کا کوئی ہمسر نہ ہے نہ ہوسکتا ہے کہ اسکی صفت و شان وَلَمْ یَکُنْ لَہ، کُفُوًا اَحَدْ کی شان ہے، سبحانہ و تعالیٰ، سو ایمان و یقین کی دولت سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے، والعیاذُ باللہ العظیم


١ ف یعنی تم لوگ سوچو کہ تمہارا بھلا کس میں ہے اور برا کس میں؟ اور یہ کہ اصل ملت ابراہیمی کیا تھی اور تم نے اس کو کیا سمجھ رکھا ہے؟ اور اس کو تم نے کیا سے کیا بنا دیا؟ اصل چیز کو چھوڑ کر تم لوگوں نے چند اچھے بھلے جانوروں کو از خود اور اپنے طور پر حرام قرار دے دیا۔ اور اس پر تم ملت ابراہیمی کے دعویدار بن بیٹھے ہو تم لوگ کہاں سے نکل کر کہاں پہنچ گئے ہو اور کیا سے کیا بن گئے ہو؟ دعوی تو تم لوگ ملت ابراہیمی کا کرتے ہو مگر کام اس کے بالکل برعکس کرتے ہو۔ سو تم لوگ عقل سے کام لو۔ اور ان باتوں کو صدق دل سے اپناؤ جو میں تم کو پڑھ کر سنا رہا ہوں کہ یہی احکام اصل ملت ابراہیمی اور اس کا خلاصہ ہے۔ اور یہی تقاضا ہے کہ عقل سلیم اور فطرت مستقیم کا۔ اور اسی میں سب کا بھلا اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان ہے جبکہ اس سے اعراض و روگردانی سراسر خسارہ اور محرومی ہے۔ والعیاذُ باللہ العظیم



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 130 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 3



مسدد، معتمر، معتمرکے والد انس کہتے ہیں، مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو کوئی اللہ تعالی سے اس حال میں ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا، معاذ نے کہا کہ کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دوں؟ آپ نے فرمایا نہیں، میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اس پر بھروسہ کرلیں اور اعمال چھوڑ دیں گے۔



Volume 1, Book 3, Number 89:



Narrated 'Umar:



My Ansari neighbor from Bani Umaiya bin Zaid who used to live at 'Awali Al-Medina and



used to visit the Prophet by turns. He used to go one day and I another day. When I went I



used to bring the news of that day regarding the Divine Inspiration and other things, and



when he went, he used to do the same for me. Once my Ansari friend, in his turn (on



returning from the Prophet), knocked violently at my door and asked if I was there." I became



horrified and came out to him. He said, "Today a great thing has happened." I then went to



Hafsa and saw her weeping. I asked her, "Did Allah's Apostle divorce you all?" She replied,



"I do not know." Then, I entered upon the Prophet and said while standing, "Have you



divorced your wives?" The Prophet replied in the negative. On what I said, "Allahu-Akbar



(Allah is Greater)." (See Hadith No. 119, Vol. 3 for details)



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد




اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

iqbalkuwait
04-13-2010, 12:22 AM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Monday, 12 April 2010



Quran. 6 Aya.152,153



وَلاَ تَقْرَبُواْ مَالَ الْيَتِيمِ إِلاَّ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَأَوْفُواْ الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ لاَ نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُواْ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى وَبِعَهْدِ اللّهِ أَوْفُواْ ذَلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ



وَأَنَّ هَـذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ



اور یتیم کے مال کے قریب مت جانا مگر ایسے طریق سے جو بہت ہی پسندیدہ ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے، اور پیمانے اور ترازو (یعنی ناپ اور تول) کو انصاف کے ساتھ پورا کیا کرو۔ ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے، اور جب تم (کسی کی نسبت کچھ) کہو تو عدل کرو اگرچہ وہ (تمہارا) قرابت دار ہی ہو، اور اﷲ کے عہد کو پورا کیا کرو، یہی (باتیں) ہیں جن کا اس نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو،



اور یہ کہ یہی (شریعت) میرا سیدھا راستہ ہے سو تم اس کی پیروی کرو، اور (دوسرے) راستوں پر نہ چلو پھر وہ (راستے) تمہیں اﷲ کی راہ سے جدا کر دیں گے، یہی وہ بات ہے جس کا اس نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ،

Do not approach the property of the orphan, except with the best possible conduct, until he reaches maturity. Give full measure and full weight in all fairness – We do not obligate anyone beyond his capacity – and be just when you speak, even though the one (against whom you are speaking) is a relative; and fulfill the covenant of Allah. This is what He has enjoined upon you, so that you may observe the advice.


And: This is My path that is straightforward. So, follow it, and do not follow the (other) ways, lest they should make you deviate from His way. This is what He has enjoined upon you, so that you may be God-fearing.



TAFSEER


١٥٢۔١ جس یتیم کی کفالت تمہاری ذمہ داری قرار پائے، تو اس کی ہر طرح خیر خواہی کرنا تمہارا فرض ہے اس خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ اگر اس کے مال سے وارثت میں سے اس کو حصہ ملا ہے، چاہے وہ نقدی کی صورت میں ہو یا زمین اور جائداد کی صورت میں، تاہم ابھی وہ اس کی حفاظت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ اس کے مال کی اس وقت تک پورے خلوص سے حفاظت کی جائے جب تک وہ بلوغت اور شعور کی عمر کو نہ پہنچ جائے۔ یہ نہ ہو کہ کفالت کے نام پر، اس کی عمر شعور سے پہلے ہی اس کے مال یا جایئداد کو ٹھکانے لگا دیا جائے۔

١٥٢۔٢ ناپ تول میں کمی کرنا لیتے وقت تو پورا ناپ یا تول کر لینا، مگر دیتے وقت ایسا نہ کرنا بلکہ ڈنڈی مار کر دوسرے کو کم دینا، یہ نہایت پست اور اخلاق سے گری ہوئی بات ہے۔قوم شعیب میں یہی اخلاقی بیماری تھی جو ان کی تباہی کے من جملہ اسباب میں تھی۔

١٥٢۔٣ یہاں اس بات کے بیان سے یہ مقصد ہے کہ جن باتوں کی تاکید کر رہے ہیں، یہ ایسے نہیں ہیں کہ جن پر عمل کرنا مشکل ہو، اگر ایسا ہوتا تو ہم ان کا حکم ہی نہ دیتے اس لئے کہ طاقت سے بڑھ کر ہم کسی کو مکلف ہی نہیں ٹھہراتے۔ اس لئے اگر نجات اخروی اور دنیا میں عزت اور سرفرازی چاہتے ہو تو ان احکام الٰہی پر عمل کرو اور ان سے گریز مت کرو۔


٢ ف سو توحید خداوندی کے عقیدے پر مبنی یہی راستہ صراطِ مستقیم اور صحت و سلامتی کا راستہ اور فوز و فلاح کا واحد ذریعہ ہے جو اب میں تم لوگوں کو بتا رہا ہوں۔ اسی کی دعوت و تبلیغ کا پیغام حضرت ابراہیم نے دنیا کو دیا اور اسی کو اپنانے کی تعلیم و تلقین انہوں نے اپنی اولاد کو فرمائی، پس اس سیدھی راہ سے ہٹ کر جو دوسری مختلف ٹیڑھی ترچھی راہیں لوگوں نے نکالی ہیں وہ سب کی سب غلط، اور صراط مستقیم سے انحراف پر مبنی ہیں۔ پس تم لوگ ان سے بچو کہ وہ سب ملت ابراہیمی سے محروم کرنے والی، اور ہلاکت و تباہی کی راہیں ہیں۔ ملت ابراہیمی کی اسی صراط مستقیم سے اللہ تعالٰی نے تم لوگوں کو اب میرے ذریعے آگہی بخشی ہے، اور اس کو از سرنو باز کیا ہے۔ تاکہ اس کو اپنا کر تم لوگ ہلاکت و تباہی کی وادیوں میں بھٹکنے اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالٰی کی گرفت و پکڑ سے بچ سکو، وباللہ التوفیق لمایُحِبُّ ویرید، وعلیٰ مایُحِبُّ ویرید، بکل حالٍ من الاحوال، وہو الہادی الی سبیل الرشاد



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 586 حدیث مرفوع مکررات 12



ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ اذان اور صف اول میں شامل ہونے کا کتنا ثواب ہے پھر قرعہ ڈالنے کے بغیر نہ حاصل ہو تو ضرور قرعہ ڈالیں اور اگر یہ معلوم ہوجائے کہ اول وقت نماز پڑھنے میں کیا ثواب ہے تو بڑی کوشش سے آئیں اور اگر جان لیں کہ عشاء اور صبح کی نماز باجماعت ادا کرنے میں کیا ثواب ہے تو ضرور ان دونوں کی جماعت آئیں خواہ گھنٹوں کے بل چل کر ہی آنا پڑے۔



Volume 1, Book 3, Number 90:



Narrated Abu Mas'ud Al-Ansari:



Once a man said to Allah's Apostle "O Allah's Apostle! I may not attend the (compulsory



congregational) prayer because so and so (the Imam) prolongs the prayer when he leads us



for it. The narrator added: "I never saw the Prophet more furious in giving advice than he was



on that day. The Prophet said, "O people! Some of you make others dislike good deeds (the



prayers). So whoever leads the people in prayer should shorten it because among them there



are the sick the weak and the needy (having some jobs to do)."



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد

iqbalkuwait
04-13-2010, 09:41 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Tuesday, 13 April 2010



Quran. 6 Aya.154,155,156



ثُمَّ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ تَمَامًا عَلَى الَّذِيَ أَحْسَنَ وَتَفْصِيلاً لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُم بِلِقَاء رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ



وَهَـذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ



أَن تَقُولُواْ إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَى طَآئِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ



پھر ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی اس شخص پر (نعمت) پوری کرنے کے لئے جو نیکو کار بنے اور (اسے) ہر چیز کی تفصیل اور ہدایت اور رحمت بنا کر (اتارا) تاکہ وہ (لوگ قیامت کے دن) اپنے رب سے ملاقات پر ایمان لائیں،



اور یہ (قرآن) برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے سو (اب) تم اس کی پیروی کیا کرو اور (اﷲ سے) ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے،



(قرآن اس لئے نازل کیا ہے) کہ تم کہیں یہ (نہ) کہو کہ بس (آسمانی) کتاب تو ہم سے پہلے صرف دو گروہوں (یہود و نصارٰی) پر اتاری گئی تھی اور بیشک ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے بے خبر تھے،

Then We gave Musa the Book, perfect for the one who does good, and explaining everything in detail, and a guidance and mercy, so that they may believe in meeting their Lord.
And this (Qur‘an) is a blessed Book We have sent down. So follow it and fear Allah, so that you may be favored with mercy.


(Had We not sent this book,) you would (have an excuse to) say, :The Book was sent down only upon two groups before us, (i.e. the Jews and the Christians) and we were unaware of what they read.



TAFSEER


ف٢ معلوم ہوتا ہے کہ جو احکام اوپر قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ سے پڑھ کر سنائے گئے، یہ ہمیشہ سے جاری تھے۔ تمام انبیاء اور شرائع کا ان پر اتفاق رہا کیا۔ بعدہ، حق تعالٰی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات اتاری جس میں احکام شرع کی مذید تفصیل درج تھی۔ تورات عطا فرما کر اس زمانہ کے نیک کام کرنے والوں پر خدا نے اپنی نعمت پوری کر دی۔ ہر ضروری چیز کو شرح و بسط سے بیان فرما دیا اور ہدایت و رحمت کے ابواب مفتوح کر دیے تاکہ اسے سمجھ کر لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کا کامل یقین حاصل کریں۔

ف٣ یعنی تورات تو تھی ہی جیسی کچھ تھی، لیکن ایک یہ کتاب ہے (قرآن کریم) جو اپنے درخشاں اور ظاہر و باہر حسن و جمال کے ساتھ تمہارے سامنے ہے اس کی خوبصورتی اور کمال کا کیا کہنا۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب۔ اس کی ظاہری و باطنی برکات اور صوری و معنی کمالات کو دیکھ کر بےاختیار کہنا پڑتا ہے۔ بہار عالم حسنش دل و جاں تازہ میدارد برنگ اصحاب صورت رابہ بوار باب معنی را اب دائیں بائیں دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ اگر خدا کی رحمت سے حظ وافر لینا چاہتے ہو تو اس آخری اور مکمل کتاب پر چل پڑو اور خدا سے ڈرتے رہو کہ اس کتاب کے کسی حصہ کی خلاف ورزی ہونے نہ پائے۔


ف٤ یعنی اس مبارک کتاب (قرآن کریم) کے نزول کے بعد عرب کے امین کے لئے یہ کہنے کا بھی موقع نہیں چھوڑا گیا کہ پیشتر جو آسمانی کتابیں شرائع الہٰیہ کو لے کر اتریں وہ تو ہمارے علم کے موافق انہی دو فرقوں (یہود و نصاریٰ) پر اتریں بیشک وہ لوگ آپس میں اسے پڑھتے پڑھاتے تھے اور بعضے اس کا ترجمہ بھی عربی میں کرتے تھے مثلاً ورقہ بن نوفل وغیرہ اور بہت سے مدت تک اس دھن میں لگے رہے کہ عرب کو یہودی یا نصرانی بنا لیں لیکن ہمیں ان کی تعلیم و تدریس سے کوئی سروکار نہیں رہا۔ اس سے بحث نہیں کہ یہود نصاریٰ جو کچھ پڑھتے پڑھاتے تھے وہ چیز کہاں تک اپنی اصلی سماوی صورت میں محفوظ تھی۔ مطلب صرف اس قدر ہے کہ ان شرائع و کتب کی اصلی مخاطب فقط قوم بنی اسرائیل تھی۔ خواہ اس تعلیم کے بعض اجزاء مثلاً توحید اور اصول دینیہ کی دعوت کو وسعت دے کر بنی اسرائیل کے سوا دوسری اقوام کے حق میں بھی عام کر دیا گیا ہوتا ہم جو شریعت اور کتاب سماوی بہیئات مجموعی کسی خاص قوم پر اسی کے مخصوص فائدہ کے لئے اتری ہو اس کے درس و تدریس سے اگر دوسری اقوام خصوصاً عرب جیسی غیور و خوددار قوم کو دلچسپی اور لگاؤ نہ ہو تو کچھ مستبعد نہیں، بنا بریں وہ کہہ سکتے تھے کہ کوئی آسمانی کتاب و شریعت ہماری طرف نہیں آئی اور جو کسی مخصوص قوم کے لئے آئی اس سے ہم نے چنداں واسطہ نہیں رکھا پھر ہم ترک شرائع پر کیوں ماخوذ ہوں گے۔ مگر آج ان کے لئے اس طرح کے حیلے حوالوں کا موقع نہیں رہا۔ خدا کی حجت اس کی روشن کتاب اور ہدایت و رحمت عامہ کی بارش خاص ان کے گھر میں اتاری گئی۔ تاکہ وہ اولاً اس سے مستفید ہوں، پھر اس امانت الہٰیہ کو تمام احمرو اسود اور مشرق و مغرب کے باشندوں تک حفاظت و احتیاط کے ساتھ پہنچا دیں۔ کیونکہ یہ کتاب کسی خاص قوم و ملک کے لئے نہیں اتاری گئی۔ اس کا مخاطب تو سارا جہان ہے۔ چنانچہ خدا کے فضل و توفیق سے عرب کے ذریعہ سے خدا کا یہ عام اور آخری پیغام آج دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچ گیا۔ والحمدللّٰہ علیٰ ذٰلک۔



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 605 حدیث مرفوع مکررات 5 متفق علیہ



قبیصہ، سفیان، اعمش، ح، بشر بن محمد، عبداللہ ، شعبہ، اعمش، ابووائل، مسروق، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی آدمی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ درد میں مبتلا نہیں دیکھا۔



Volume 1, Book 3, Number 91:



Narrated Zaid bin Khalid Al-Juhani:



A man asked the Prophet about the picking up of a "Luqata" (fallen lost thing). The Prophet



replied, "Recognize and remember its tying material and its container, and make public



announcement (about it) for one year, then utilize it but give it to its owner if he comes."



Then the person asked about the lost camel. On that, the Prophet got angry and his cheeks or



his Face became red and he said, "You have no concern with it as it has its water container,



and its feet and it will reach water, and eat (the leaves) of trees till its owner finds it." The



man then asked about the lost sheep. The Prophet replied, "It is either for you, for your



brother (another person) or for the wolf."



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد

iqbalkuwait
04-14-2010, 08:15 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Wednesday, 14 April 2010



Quran. 6 Aya.157,158



أَوْ تَقُولُواْ لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَى مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يَصْدِفُونَ



هَلْ يَنظُرُونَ إِلاَّ أَن تَأْتِيهُمُ الْمَلآئِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لاَ يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا قُلِ انتَظِرُواْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ



یا یہ (نہ) کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم یقیناً ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے، سو اب تمہارے رب کی طرف تمہارے پاس واضح دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی ہے، پھر اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اﷲ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے کترائے۔ ہم عنقریب ان لوگوں کو جو ہماری آیتوں سے گریز کرتے ہیں برے عذاب کی سزا دیں گے اس وجہ سے کہ وہ (آیاتِ ربّانی سے) اِعراض کرتے تھے،



وہ فقط اسی انتظار میں ہیں کہ ان کے پاس (عذاب کے) فرشتے آپہنچیں یا آپ کا رب (خود) آجائے یا آپ کے رب کی کچھ (مخصوص) نشانیاں (عیاناً) آجائیں۔ (انہیں بتا دیجئے کہ) جس دن آپ کے رب کی بعض نشانیاں (یوں ظاہراً) آپہنچیں گی (تو اس وقت) کسی (ایسے) شخص کا ایمان اسے فائدہ نہیں پہنچائے گا جو پہلے سے ایمان نہیں لایا تھا یا اس نے اپنے ایمان (کی حالت) میں کوئی نیکی نہیں کمائی تھی، فرما دیجئے: تم انتظار کرو ہم (بھی) منتظر ہیں،

Or you would say, :If the Book had been sent down to us, we would have been more adhering to the right path than they are. Now there has come to you a clear sign from your Lord, and a guidance and mercy. So, who is more unjust than the one who gives the lie to the verses of Allah and turns away from them? We will recompense those who turn away from Our verses with an evil punishment, because of their turning away.


They are waiting for nothing less than that the angels should come to them, or your Lord or some signs of your Lord should come. The day some signs of your Lord will come, the believing of a person shall be of no use to him who had never believed before, or had not earned some good through his faith. Say, :Wait. Of course, we are waiting.



TAFSEER


٢ ف سو تم لوگوں پر کتاب اتاری گئی۔ اور وہ بھی ایسی خاص صفات والی کتاب، جو کہ بحیثیت مجموعی اس کے سوا اور کسی بھی کتاب میں نہ ہوئی ہیں نہ ہوسکتی ہیں۔ بلکہ وہ اسی کتاب حکیم کی خصوصیات اور اس کی اہم صفات ہیں۔ جن میں سے اسکی ایک اہم صفت اور اسکی امتیازی شان یہ ہے کہ اس کو تمہارے رب کی طرف سے "بَیّنۃ" یعنی ایک ایسی واضح دلیل، اور قطعی حجت، کے طور پر اتارا گیا ہے۔ جو اپنی صداقت و حقانیت کی دلیل خود ہے۔ اس کا کتاب الٰہی ہونا کسی خارجی دلیل کا محتاج نہیں، اور دوسرا پہلو اسکے بَیِّنۃ یعنی روشن دلیل ہونے کا یہ ہے کہ اس میں تورات کی طرح صرف احکام ہی نہیں ذکر فرمائے گئے، اور یہ محض خالی خولی احکام و ہدایات کا مجموعہ نہیں، بلکہ اس میں ہر دعوے کے ساتھ اس کی دلیل بھی موجود ہے، اور اسکی ہر ہدایت و تعلیم کے ساتھ ایسے دلائل وبراہین بھی موجود ومزکور ہیں۔ جس سے وہ حکم و ارشاد دلوں میں اترتا اور عقول سلیمہ کو اپیل کرتا ہے۔ اور یہ دلائل و براہین ایسے ہیں جو عقول سلیمہ اور طبائع مستقیمہ کے عین مطابق ہیں، جن کے مقابلے میں کٹ حجتی تو کی جاسکتی ہے، لیکن ان کی تردید ممکن نہیں، والحمدللہ جل وعلا، اور دوسری بڑی اور ہم صفت اس کتاب ہدایت کی یہ ہے کہ یہ سراسر ہدایت ہے، یہ زندگی کے ہر گوشے سے متعلق اور ہر اعتبار سے ہدایت و راہنمائی فرماتی ہے، اور اسکی تیسری، اہم صفت اسکی یہ ہے کہ یہ عین رحمت ہے۔ یہ انسان کو اس دنیا میں بھی طرح طرح کی رحمتوں سے نوازتی ہے جس سے اس کو حیات طیبہ یعنی ایک عظیم الشان پاکیزہ زندگی کی سعادتیں نصیب ہوتی ہیں۔ اور پھر اس کو آخرت میں یہ جنت اور اسکی ان بےمثال نعمتوں سے سرفراز کریگی جو سدا بہار اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہونگی اللہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین

٣ ف استفہام ظاہر ہے کہ یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی اس سے بڑھ کر ظالم بدبخت اور محروم القسمت اور کوئی نہیں ہوسکتا، جس کے پاس یہ رحمتوں اور برکتوں بھری کتاب ہدایت آجائے جو تمام عذرات خاتمہ کرنے والی، اور قطعی حجت و برہان ہے۔ اور جو ابر رحمت بن کر برسے، جو راہنمائی کیلئے روشنی کا مینار، دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ، اور آخرت میں رحمت خداوندی سے سرفرازی کی ضامن ہو۔ مگر اس سب کے باوجود وہ اس سے منہ موڑے، اور اس سے اعراض و روگردانی برتے، اور دوسروں کو بھی اس سے روکے۔ تو پھر اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے، والعیاذُ باللہ العظیم، سو ایسے ظالموں کو اپنے ظلم و عدوان کا بھگتان آخرکار، اور بہرحال بھگتنا ہوگا، اور بڑے ہی ہولناک انداز میں بھگتنا ہوگا، کہ یہ حضرت خالق حکیم کے عدل و انصاف اور اسکی حکمت بےپایاں، اور اسکی رحمت و عنایت کا تقاضا ہے، سبحانہ و تعالیٰ


ف٢ یعنی اللہ کی طرف سے ہدایت کی جو حد تھی وہ پوری ہو چکی، انبیاء تشریف لائے، شریعتیں اتریں کتابیں آئیں حتیٰ کہ اللہ کی آخری کتاب بھی آچکی، تب بھی نہیں مانتے تو شاید اب اس کے منتظر ہیں کہ اللہ آپ آئے یا فرشتے آئیں یا قدرت کا کوئی بڑا نشان (مثلاً قیامت کی کوئی بڑی علامت) ظاہر ہو تو یاد رہے کہ قیامت کے نشانوں میں سے ایک نشان وہ بھی ہے جس کے ظاہر ہونے کے بعد نہ کافر کا ایمان لانا معتبر ہوگا نہ عاصی کی توبہ۔ صحیحین کی احادیث بتلاتی ہیں کہ یہ نشان آفتاب کا مغرب سے طلوع کرنا ہے۔ یعنی جب خدا کا ارادہ ہوگا کہ دنیا کو ختم کرے اور عالم کا موجودہ نظام درہم برہم کر دیا جائے تو موجودہ قوانین طبیعیہ کے خلاف بہت سے عظیم الشان خوارق وقوع میں آئیں گے ان میں سے ایک یہ ہے کہ آفتاب مشرق کے بجائے مغرب سے طلوع ہوگا۔ غالباً اس حرکت مقلوبی اور رجت قہقری سے اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہو کہ جو قوانین قدرت اور نوامیس طبیعیہ دنیا کے موجودہ نظم و نسق میں کار فرما تھے، ان کی میعاد ختم ہونے اور نظام شمسی کے الٹ پلٹ ہو جانے کا وقت آپہنچا ہے۔ گویا اس وقت سے عالم کبیر کے نزع اور جانکنی کے وقت کا ایمان اور توبہ مقبول نہیں کیونکہ وہ حقیقت میں اختیاری نہیں ہوتا، اسی طرح طلوع الشمس من المغرب کے بعد مجموعہ عالم کے حق میں یہ ہی حکم ہوگا کہ کسی کا ایمان و توبہ معتبر نہ ہو۔ بعض روایات میں طلوع الشمس من مغربھا کے ساتھ چند دوسرے نشانات بھی بیان ہوئے ہیں مثلاً خروج دجال، خروج دابہ وغیرہ۔ ان روایات کی مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب ان سب نشانات کا مجموعہ متحقق ہوگا اور وہ جب ہی ہو سکتا ہے کہ طلوع الشمس من المغرب بھی متحقق ہو تو دروازہ توبہ کا بند کر دیا جائے گا الگ الگ ہر نشان پر یہ حکم متفرع نہیں۔ ہمارے زمانہ کے بعض ملحدین جو ہر غیر معمولی واقعہ کو استعارہ کا رنگ دینے کے خوگر ہیں وہ طلوع الشمس من المغرب کو بھی استعارہ بنانے کی فکر میں ہیں۔ غالباً ان کے نزدیک قیامت کا آنا بھی ایک طرح کا استعارہ ہی ہوگا۔ (تنبیہ) یہ جو کہا کہ "آئیں فرشتے یا آئے تیرا رب " اس کی تفسیر "سیقول" کے نصف پر آیت ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا اَنْ یَّاْتِیَھُمُ اللّٰہُ فِی ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ کے تحت میں گزر چکی وہاں دیکھ لیا جائے اور جملہ اور کَسَبَتْ فِی اِیْمَانِھَا خَیْراً کا عطف اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ پر ہے اور تقدیر عبارت کی ابن المنیر وغیرہ محققین کے نزدیک یوں ہے لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا اوکسبھا خیرا لم تکن امنت من قبل او لم تکن کسبت فی ایمانھا خیرا یعنی جو پہلے سے ایمان نہیں لایا اس وقت اس کا ایمان نافع نہ ہوگا اور جس نے پہلے سے کسب خیر نہ کیا اس کا کسب خیر نافع نہ ہوگا۔ (یعنی توبہ قبول نہ ہوگی)۔



HADEES MUBARAK



مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 1026 مکررات 0



" اور حضرت حارث ابن وہب کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کیامیں تمہیں جنتیوں کو بتلادوں؟ یعنی کیامیں یہ کہوں کہ کون لوگ جنتی ہیں توسنو ہر وہ ضعیف شخص جنتی ہے جس کولوگ ضعیف وحقیر سمجھیں اور اس کی کمزوری وشکستہ حالی کی وجہ سے اس کے ساتھ جبر وتکبر کا معاملہ کریں حالانکہ حقیقت کے اعتبار سے وہ ضعیف وکمزور اللہ کے نزدیک اس قدر اونچا مرتبہ رکھتاہے کہ اگر وہ اللہ کے بھروسہ پرکسی بات پر قسم کھابیٹھے تواللہ اس کی قسم کوسچا کردے اور کیامیں تمہیں وہ لوگ بتلادوں جودوزخی ہیں؟توسنو ہر وہ شخص دوزخی ہے جو جھوٹی باتوں اور لغو باتوں پرسخت گوئی کرنے والاجھگڑالو ہومال جمع کرنے والا بخیل ہو، اور تکبر کرنے والا ہو۔ (بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ہر وہ شخص دوزخی ہے جو مال کو جمع کرنے والا اور حرام زادہ اور تکبر کرنے والاہو۔



Volume 1, Book 3, Number 92:



Narrated Abu Musa:



The Prophet was asked about things which he did not like, but when the questioners insisted,



the Prophet got angry. He then said to the people, "Ask me anything you like." A man asked,



"Who is my father?" The Prophet replied, "Your father is Hudhafa." Then another man got up



and said, "Who is my father, O Allah's Apostle ?" He replied, "Your father is Salim, Maula



(the freed slave) of Shaiba." So when 'Umar saw that (the anger) on the face of the Prophet he



said, "O Allah's Apostle! We repent to Allah (Our offending you)."



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد



اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

iqbalkuwait
04-15-2010, 11:11 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Thursday, 15 April 2010



Quran. 6 Aya.159,160



إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمْ وَكَانُواْ شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُواْ يَفْعَلُونَ



مَن جَاء بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَمَن جَاء بِالسَّيِّئَةِ فَلاَ يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ



بیشک جن لوگوں نے (جدا جدا راہیں نکال کر) اپنے دین کو پارہ پارہ کر دیا اور وہ (مختلف) فرقوں میں بٹ گئے، آپ کسی چیز میں ان کے (تعلق دار اور ذمہ دار) نہیں ہیں، بس ان کا معاملہ اﷲ ہی کے حوالے ہے پھر وہ انہیں ان کاموں سے آگاہ فرما دے گا جو وہ کیا کرتے تھے،



جو کوئی ایک نیکی لائے گا تو اس کے لئے (بطورِ اجر) اس جیسی دس نیکیاں ہیں، اور جو کوئی ایک گناہ لائے گا تو اس کو اس جیسے ایک (گناہ) کے سوا سزا نہیں دی جائے گی اور وہ ظلم نہیں کئے جائیں گے،

Surely, those who have made divisions in their religion and turned into factions, you have nothing to do with them. Their case rests with Allah alone; then He will tell them what they have been doing.


Whoever comes with a good deed will receive ten times as much, and whoever comes with an evil deed will be requited with no more than the like of it, and they shall not be wronged.



TAFSEER


١٥٩۔١ اس سے بعض لوگ یہود و نصاریٰ مراد لیتے ہیں جو مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے تھے۔ بعض مشرکین مراد لیتے ہیں کہ کچھ مشرک ملائکہ کی، کچھ ستاروں کی، کچھ مختلف بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ لیکن یہ آیت عام ہے کہ کفار و مشرکین سمیت وہ سب لوگ اس میں داخل ہیں۔ جو اللہ کے دین کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کو چھوڑ کر دوسرے دین یا دوسرے طریقے کو اختیار کر کے تفرق وتخرب کا راستہ اپناتے ہیں۔ شیعا کے معنی فرقے اور گروہ اور یہ بات ہر اس قوم پر صادق آتی ہے جو دین کے معاملے میں مجتمع تھی لیکن پھر ان کے مختلف افراد نے اپنے کسی بڑے کی رائے کو ہی مستند اور حرف آخر قرار دے کر اپنا راستہ الگ کرلیا، چاہے وہ رائے حق وصواب کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔


١ ف سو یہ اسی رب رحمان کی رحمتوں بھری تعلیمات کا ایک نمونہ و مظہر ہے جس سے اس نے اس کتاب حکیم کے ذریعے اپنے بندوں کو نوازا ہے، یعنی نیکی کا صلہ و بدلہ تو کم سے کم دس گنا، اور برائی کی سزا اسی کے برابر اور یہ کہ ان لوگوں پر کسی طرح کا کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ نہ کسی کی کوئی نیکی کم کی جائے گی اور نہ کسی کے نامہ اعمال میں کسی ناکردہ گناہ کا کوئی اضافہ کیا جائے گا، بلکہ معاملہ اس سے بھی کہیں آگے ہے جیسا کہ دوسری مختلف نصوص میں اسکی تصریح فرمائی گئی ہے۔ مثلاً یہ کہ نیکی کے سلسلے میں تو محض ارادہ کرنے پر بھی نیکی لکھ دی جائے گی، مگر برائی کے سلسلہ میں محض ارادہ کرنے پر برائی نہیں لکھی جائیگی جب تک کہ برائی کا بالفعل ارتکاب کر نہ لیا جائے، والعیاذُ باللہ العظیم، وغیرہ وغیرہ



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 678 حدیث مرفوع مکررات 41 متفق علیہ



ابوالولید، شعبہ، سعد بن ابراہیم، ابوسلمہ، ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں تو (آپ سے) کہا گیا کہ آپ نے دو رکعتیں پڑھی ہیں؟ پس آپ نے دو رکعتیں (اور پڑھ لیں) پھر سلام پھیر کردو سجدے (ہو کے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیے۔



Volume 1, Book 3, Number 93:



Narrated Anas bin Malik:



One day Allah's Apostle came out (before the people) and 'Abdullah bin Hudhafa stood up



and asked (him) "Who is my father?" The Prophet replied, "Your father is Hudhafa." The



Prophet told them repeatedly (in anger) to ask him anything they liked. 'Umar knelt down



before the Prophet and said thrice, "We accept Allah as (our) Lord and Islam as (our) religion



and Muhammad as (our) Prophet." After that the Prophet became silent.



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد

iqbalkuwait
04-17-2010, 11:09 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Saturday, 17 April 2010



Quran.6 Aya.164,165



قُلْ أَغَيْرَ اللّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَلاَ تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَيْهَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى ثُمَّ إِلَى رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ



وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ إِنَّ رَبَّكَ سَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ





فرما دیجئے: کیا میں اﷲ کے سوا کوئی دوسرا رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر شے کا پروردگار ہے، اور ہر شخص جو بھی (گناہ) کرتا ہے (اس کا وبال) اسی پر ہوتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہیں اپنے رب ہی کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ تمہیں ان (باتوں کی حقیقت) سے آگاہ فرما دے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے،



اور وہی ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجات میں بلند کیا تاکہ وہ ان (چیزوں) میں تمہیں آزمائے جو اس نے تمہیں (امانتاً) عطا کر رکھی ہیں۔ بیشک آپ کا رب (عذاب کے حق داروں کو) جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ (مغفرت کے امیدواروں کو) بڑا بخشنے والا اور بے حد رحم فرمانے والا ہے،



Say, :Should I seek a lord other than Allah while He is the Lord of everything? And nobody does anything but to his own account, and no bearer of burden shall bear the burden of another. Then to your Lord is your return. Then He will let you know what you were disputing about.



TAFSEER


٢ ف سو اس ارشاد سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ملت ابراہیم یعنی ملت اسلام کی اصل روح کی تعبیر کرائی گئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان کی نماز اسکی قربانی اور اس کی ہر عبادت، اور اس کا مرنا اور جینا سب اللہ تعالٰی ہی کیلئے ہے۔ وہ جیتا ہے تو خداوند قدوس کی رضا و خوشنودی کیلئے اور مرتا ہے تو بھی اسی وحدہ لاشریک کی رضا و خوشنودی کیلئے۔ اس کی زندگی میں کوئی تقسیم نہیں بلکہ وہ از ابتداء تا انتہاء ہم رنگ اور ہم آہنگ ہے جب خداوند قدوس کا کوئی شریک نہیں، بلکہ وہ وحدہ لاشریک ہے تو اس لئے بندے کی زندگی میں بھی کوئی اس کا شریک و سہیم نہیں۔ بلکہ وہ پوری کی پوری بغیر کسی تجزیہ و تقسیم کے اور بدوں کسی تحفظ و استثناء کے اللہ وحدہ لاشریک ہی کیلئے ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہی میری فطرت ہے اور اسی کا مجھے میرے خالق و مالک کی طرف سے حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اور اسی کیلئے میں نے اپنی گردن اسی کے آگے ڈال دی ہے، سبحانہ وتعالیٰ


٣ ف یعنی جہاں پر وہ عملی طور پر اس کا فیصلہ فرما دیگا۔ ورنہ علمی طور پر تو اس نے ان سب کا فیصلہ اپنی کتاب حکیم کے ذریعے اسی دنیا میں فرما دیا ہے، بہر کیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہر کوئی اپنے کئے کرائے کا ذمہ دار خود ہے۔ ہر کسی کو اپنے کئے کرائے کا بھگتان خود ہی بھگتنا ہوگا۔ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اور سب کو آخرکار لوٹ کر اپنے رب ہی کے پاس جانا اور اس کے حضور حاضر ہونا ہے اور اسی کے یہاں تمام اختلافات کا آخری اور عملی فیصلہ ہوگا۔ تو پھر ایسے میں اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور کو اپنا حَکمَ و منصف ماننا اور اپنا معبود بنانا کس طرح اور کیونکر درست ہو سکتا ہے؟ سو خالق و مالک اور حَکمَ و معبود وہی وحدہ لاشریک ہے، اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ اَمَرَ اَلاَّ تَعْبُدُوْا اِلاَّ اِیّاہ۔ سبحانہ و تعالیٰ۔ وبہٰذا قدتَمَّ التفسیر المختصر لسورۃ الانعام بتوفیق اللہ و عنایتہ سبحانہ و تعالٰی فلہ الحمد ولہ الشکر قبل کل شیئ وبعد کل شیئ،٩ رجب ١٤٢٥؁ھ مطابق ٢٥ اگست ٢٠٠٤ بروز بدھ بوقت سوا گیارہ بجے شب سطوہ دبی والحمدللہ رب العالمین۔ الذی بِیَدہٖ اَزِمَّۃُ التَّوفیق والعنایۃ، سبحانہ و تعالٰی



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2126 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 6



مسدد، یحیی، یزید بن ابی عبید، سلمہ بن اکوع سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص سے عاشورا کے دن فرمایا کہ اپنی قوم میں یا لوگوں میں اعلان کر دو کہ جس نے کچھ کھا لیا ہے تو وہ باقی دن روزہ پورا کرے اور جس نے کچھ نہیں کھایا ہو تو اس کو چاہیے کہ روزہ رکھ لے



Volume 1, Book 3, Number 95:



Narrated Anas:



Whenever the Prophet spoke a sentence (said a thing), he used to repeat it thrice so that the



people could understand it properly from him and whenever he asked permission to enter, (he



knocked the door) thrice with greeting.



Muhammad Iqbal Kuwait



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد




اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

iqbalkuwait
04-18-2010, 11:33 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Sunday, 18 April 2010



Quran. 7 Aya.2,3



كِتَابٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلاَ يَكُن فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ



اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ



(اے حبیبِ مکرّم!) یہ کتاب ہے (جو) آپ کی طرف اتاری گئی ہے سو آپ کے سینۂ (انور) میں اس (کی تبلیغ پر کفار کے انکار و تکذیب کے خیال) سے کوئی تنگی نہ ہو (یہ تو اتاری ہی اس لئے گئی ہے) کہ آپ اس کے ذریعے (منکرین کو) ڈر سنا سکیں اور یہ مومنین کے لئے نصیحت (ہے)،



(اے لوگو!) تم اس (قرآن) کی پیروی کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف اتارا گیا ہے اور اس کے غیروں میں سے (باطل حاکموں اور) دوستوں کے پیچھے مت چلو، تم بہت ہی کم نصیحت قبول کرتے ہو،

(This is) a book sent down to you. Therefore, your heart must not be straitened because of it. (It is revealed to you) so that you may warn through it, and it may be an advice for the believers.


(O humankind,) follow what has been sent down to you from your Lord, and do not follow any masters other than Him. Little you heed to advice!



TAFSEER


١ ف سو اس ارشاد سے اس کتاب حکیم کے بارے میں پیغمبر کی ذمہ داری کی حد کو واضح فرما دیا گیا۔ کہ آپ کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کو ان کے انجام سے آگاہ اور خبردار کر دیں اور بس آگے یہ لوگ مانتے ہیں یا نہیں مانتے اسکی ذمہ داری آپ پر نہیں آپ کا کام اور آپ کی اصل ذمہ داری انذار و تبلیغ ہے اور بس۔ وَذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ کا عطف معنی لِتُنْذِرَ ہی پر ہے۔ لیکن اس کو فعل کے بجائے اسم کی شکل میں لانے میں اس امر واقعہ کا اظہار مقصود ہے کہ جہاں تک انذار کا تعلق ہے وہ تو آپ سب کو کر دیں، لیکن اس سے تذکیر ویاد دہانی کا فائدہ اہل ایمان ہی اٹھائیں گے، جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس بات کو طرح طرح سے بیان فرمایا گیا ہے۔


٢ ف سو اس ارشاد سے اس کتاب حکیم کے اصل اور مرکزی مضمون کی توضیح فرمائی گئی ہے۔ کہ تم لوگ پیروی کرو اس وحی کی جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے تمہارے رب کی جانب سے کہ اسی میں تمہارا بھلا اور فائدہ ہے دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور اَبَدی جہاں میں بھی جو کہ اس دنیا کے بعد آنے والا ہے۔ اور رب کی وحی اور اس کا کلام و ارشاد ہی ایسی چیز ہے جس میں کسی خطاء و تقصیر کا کوئی خدشہ و اندیشہ اور کوئی تصور وامکان نہیں اور جو ہر پہلو اور ہر اعتبار سے بندوں کیلئے خیر ہی خیر اور ذریعہ فلاح و نجات ہے اور بس، اسلئے اس کو چھوڑ کر دوسرے دوستوں اور سرپرستوں کی پیروی کرنا باعث خسارہ و نقصان ہے۔ مگر افسوس کہ تم لوگ کم ہی دھیان کرتے اور نصیحت کو مانتے ہو۔ والعیاذُ باللہ العظیم۔



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 614 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 13 متفق علیہ



ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میرا یہ ارادہ ہوا ہے کہ اولا لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں اس کے بعد حکم دوں کہ عشاء کی نماز کوئی دوسرا شخص پڑھائے اور میں خود کچھ لوگوں کو ہمراہ لے کر ایسے لوگوں کے گھروں تک پہنچوں جو عشاء کی نماز جماعت سے نہیں پڑھتے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر ان میں سے کسی کو یہ معلوم ہو جائے کہ وہ فربہ ہڈی یا وہ عمدہ گوشت میں ہڈیاں پائے گا تو یقینا عشاء کی نماز میں آئے۔


Volume 1, Book 3, Number 96:

Narrated 'Abdullah bin 'Amr:
Once Allah's Apostle remained behind us in a journey. He joined us while we were
performing ablution for the 'Asr prayer which was over-due. We were just passing wet hands
over our feet (not washing them properly) so the Prophet addressed us in a loud voice and


said twice or thrice, "Save your heels from the fire."



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد




اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

iqbalkuwait
04-19-2010, 09:33 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Monday, 19 April 2010



DEDICATED FOR DIED MUSLIM



Quran. 7 Aya.4,5



وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا فَجَاءهَا بَأْسُنَا بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَآئِلُونَ



فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءهُمْ بَأْسُنَا إِلاَّ أَن قَالُواْ إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ



اور کتنی ہی بستیاں (ایسی) ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا سو ان پر ہمارا عذاب رات کے وقت آیا یا (جبکہ) وہ دوپہر کو سو رہے تھے،



پھر جب ان پر ہمارا عذاب آگیا تو ان کی پکار سوائے اس کے (کچھ) نہ تھی کہ وہ کہنے لگے کہ بیشک ہم ظالم تھے،

How many a town We have destroyed! Our punishment came upon them at night or when they were having a nap at midday.


So, when Our punishment came upon them, they could say nothing but cry, :We were wrongdoers indeed.



TAFSEER


(ف4) اب حکم الٰہی کا اِتّباع ترک کرنے اور اس سے اِعراض کرنے کے نتائج پچھلی قوموں کے حالات میں دکھائے جاتے ہیں ۔

(ف5) معنی یہ ہیں کہ ہمارا عذاب ایسے وقت آیا جب کہ انہیں خیال بھی نہ تھا یا تو رات کا وقت تھا اور وہ آرام کی نیند سوتے تھے یا دن میں قیلولہ کا و قت تھا اور وہ مصروف راحت تھے نہ عذاب کے نزول کی کوئی نشانی تھی نہ قرینہ کہ پہلے سے آگاہ ہوتے اچانک آ گیا اس سے کُفَّار کو مُتنبِّہ کیا جاتا ہے کہ وہ اسبابِ امن و راحت پر مغرور نہ ہوں ، عذاب الٰہی جب آتا ہے تو دَفۡعَۃً آجاتا ہے ۔


٣ ف سو اس سے درس عبرت لینے کیلئے تاریخ کا حوالہ دیا گیا ہے کہ اس سے پہلے کتنی ہی بستیاں ایسی ہوئی ہیں جو اپنے عیش و عشرت میں مگن اور اپنے ظلم وعدوں پر اڑی ہوئی تھیں، قدرت کے قانون امہال کے مطابق ان کو جتنی مہلت ملنا تھی وہ ملی، مگر آخرکار ان کو عذاب خداوندی نے آپکڑا، اور ایسے طور پر کہ ان کو اس کاوہم و گمان بھی نہ تھا، سو اس وقت ان کی سب اکڑغوں نکل گئی۔ ان کا کبر و غرور سب کا سب ہرن ہوگیا، اور اس وقت ان کی چیخ و پکار اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ واقعی ہم لوگ ظالم تھے، مگر بےوقت کے اس اس اقرار و اعتراف کا ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہ ہوا۔ اور ان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے نیست و نابود کر دیا گیا۔ اور قصہ پارینہ، اور داستان عبرت بن کر رہ گئے۔ اور یہی نتیجہ انجام ہوتا ہے منکرین حق کا۔ والعیاذ باللہ سو اس میں سرکشوں کیلئے بڑا سامان عبرت وبصیرت ہے۔ کہ تاکہ وہ اپنی سرکشی کی رَوَش سے باز آجائیں۔



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 2101 حدیث مرفوع مکررات 9 متفق علیہ



علی، سفیان ، عمر، عطاء ، سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز میں دیر کی، تو حضرت عمر نکلے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کا وقت ہو گیا عورتیں اور بچے سو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر آئے اس حال میں کہ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور فرما رہے تھے کہ اگر میں اپنی امت پر یا فرمایا کہ لوگوں پر شاق نہ جانتا (اور سفیان نے امتی کو نقل کیا) تو میں ان کو اس وقت نماز پڑھنے کا حکم دیتا، ابن جریج نے بواسطہ، عطاء، ابن عباس نقل کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نماز میں دیر کی تو حضرت عمر آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ عورتیں اور بچے سو گئے،چنانچہ آپ باہر تشریف لائے اس حال میں کہ آپ کی کنپٹیوں سے پانی ٹپک رہا تھا، اور فرما رہے تھے کہ یہی وقت نماز کا ہے اگر میں اپنی امت کے لئے دشوار نہ جانتا (تواسی وقت نماز پڑھنے کا حکم دیتا) اور عمرو بیان کرتے ہیں کہ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور ابن جریج نے کہا کہ آپ اپنی کنپٹیوں سے پانی پونچھ رہے تھے، اور عمر نے کہا کہ اگر میں اپنی امت کے لئے شاق نہ جانتا، اور ابراہیم بن منذر نے بواسطہ معن محمد بن مسلم، عمرو، عطاء، حضرت ابن عباس، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔

Volume 1, Book 3, Number 97:
Narrated Abu Burda's father:
Allah's Apostle said "Three persons will have a double reward:
1. A Person from the people of the scriptures who believed in his prophet (Jesus or Moses)
and then believed in the Prophet Muhammad (i .e. has embraced Islam).
2. A slave who discharges his duties to Allah and his master.
3. A master of a woman-slave who teaches her good manners and educates her in the best
possible way (the religion) and manumits her and then marries her."
Volume 1, Book 3, Number 97g:
Narrated Ibn 'Abbas:
Once Allah's Apostle came out while Bilal was accompanying him. He went towards the


women thinking that they had not heard him (i.e. his sermon). So he preached them and

ordered them to pay alms. (Hearing that) the women started giving alms; some donated their


ear-rings, some gave their rings and Bilal was collecting them in the corner of his garment.



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد




اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

sahebju
04-20-2010, 11:42 AM
:ja

iqbalkuwait
04-20-2010, 09:43 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Tuesday, 20 April 2010



Quran. 7 Aya.6,7



فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ



فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍ وَمَا كُنَّا غَآئِبِينَ



پھر ہم ان لوگوں سے ضرور پرسش کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور ہم یقیناً رسولوں سے بھی (ان کی دعوت و تبلیغ کے ردِّ عمل کی نسبت) دریافت کریں گے،



پھر ہم ان پر (اپنے) علم سے (ان کے سب) حالات بیان کریں گے اور ہم (کہیں) غائب نہ تھے (کہ انہیں دیکھتے نہ ہوں)،

So, We shall ask those to whom the messengers were sent, and We shall ask the messengers (how they conveyed the message).


Then, having full knowledge, We shall tell them the whole story, as We were never far from them.



TAFSEER


٦۔١ امتوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہارے پاس پیغمبر آئے تھے؟ انہوں نے تمہیں ہمارا پیغام پہنچایا تھا؟وہ جواب دیں گے کہ ہاں! یا اللہ تیرے پیغمبر یقینا ہمار پاس آئے تھے لیکن ہماری قسمت پھوٹی تھی کہ ہم نے ان کی پروا نہیں کی اور پیغمبروں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے ہمارا پیغام اپنی امتوں کو پہنچایا تھا؟ اور انہوں نے اس کے مقابلے میں کیا رویہ اختیار کیا؟ پیغمبر سوال کا جواب دیں گے۔ جس کی تفصیل قرآن مجید کے مختلف مقامات پر موجود ہے۔

ف٣ یعنی تمہارا کوئی جلیل و حقیر اور قلیل و کثیر عمل یا ظاہری و باطنی حال ہمارے علم سے غائب نہیں۔ ہم بلا توسط غیرے ذرہ ذرہ سے خبردار ہیں۔ اپنے اس علم ازلی محیط کے موافق سب اگلے پچھلے احوال تمہارے سامنے کھول کر رکھ دیں گے۔ ملائیکۃ اللہ کے لکھے ہوئے اعمال نامے بھی علم الہٰی کے سرمو خلاف نہیں ہو سکتے ان کے ذریعہ سے اطلاع دینا محض ضابطہ کی مراعات اور نظام حکومت کا مظاہرہ ہے، ورنہ خدا اپنے علم میں ان ذرائع کا (معاذاللہ) محتاج نہیں ہو سکتا۔


HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 611 حدیث مرفوع مکررات 9 متفق علیہ



خندق کے دن عمر بن خطاب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و اللہ میں نے اب تک عصر کی نماز نہیں پڑھی اور آفتاب غروب ہو گیا حضرت عمر کی یہ کہنا ایسے وقت تھا کہ روزہ دار کے افطار کا وقت ہو جاتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بطحان میں اترے اور میں آپ کی ہمراہ تھا آپ نے وضو فرمایا اور آفتاب غروب ہوجانے کے بعد پہلے نماز پڑھی۔

Volume 1, Book 3, Number 98:
Narrated Abu Huraira:
I said: "O Allah's Apostle! Who will be the luckiest person, who will gain your intercession
on the Day of Resurrection?" Allah's Apostle said: O Abu Huraira! "I have thought that none
will ask me about it before you as I know your longing for the (learning of) Hadiths. The
luckiest person who will have my intercession on the Day of Resurrection will be the one
who said sincerely from the bottom of his heart "None has the right to be worshipped but
Allah."
And 'Umar bin 'Abdul 'Aziz wrote to Abu Bakr bin Hazm, "Look for the knowledge of
Hadith and get it written, as I am afraid that religious knowledge will vanish and the religious
learned men will pass away (die). Do not accept anything save the Hadiths of the Prophet.
Circulate knowledge and teach the ignorant, for knowledge does not vanish except when it is


kept secretly (to oneself)."



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد




اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

iqbalkuwait
04-22-2010, 12:28 AM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Wednesday, 21 April 2010




Quran. 7 Aya.8,9



وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ



وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُوْلَـئِكَ الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُم بِمَا كَانُواْ بِآيَاتِنَا يِظْلِمُونَ



اور اس دن (اعمال کا) تولا جانا حق ہے، سو جن کے (نیکیوں کے) پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی لوگ کامیاب ہوں گے،



اور جن کے (نیکیوں کے) پلڑے ہلکے ہوں گے تو یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو نقصان پہنچایا، اس وجہ سے کہ وہ ہماری آیتوں کے ساتھ ظلم کرتے تھے،

The Weighing (of deeds) on that day is definite. As for those whose scales are heavy, they will be the successful ones.


But those whose scales are light, they are the ones who have brought loss to themselves, because they did not do justice to Our verses.




TAFSEER


٤ ف یعنی وزن ضرور ہوگا۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں، اور بدرجہ تمام و کمال پورے ہوسکیں، اور ہر کسی کو اس کے کئے کرائے کا بھرپور صلہ و بدلہ ملے۔ سو یہ اس جملے کا ایک اور ظاہر و متبادر مفہوم و مطلب ہے، جبکہ دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہے کہ اس روز وزن حق ہی کا ہوگا یعنی باطل کا سرے سے کوئی وزن ہوگا ہی نہیں۔ اور باطل پرستوں نے اپنے طور پر اور اپنے ظن و گمان کے مطابق جو کچھ کیا کرایا ہوگا وہ سب اکارت اور ہَبَاءً مَّنْثُوْرَا ہو کر رہ جائے گا۔ اس لئے باطل پرستوں کیلئے اس روز کوئی حساب قائم ہی نہیں ہوگا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا) 18۔الکہف:105) یعنی اکارت چلے گئے ان لوگوں کے سب اعمال پس ہم قیامت کے روز ان کیلئے کوئی وزن قائم کریں گے ہی نہیں۔ والعیاذُ باللہ العظیم


١ ف یعنی حق سے منہ موڑ کر۔ اور اس سے اعراض و انکار کر کے سو پیغام حق و ہدایت سے اعراض و روگردانی سراسر ظلم ہے سو یہ ظلم ہے اللہ کے حق میں جو کہ سب کا خالق و مالک ہے کہ یہ ظلم ہے اس کے حق عبودیت و بندگی میں اور یہ ظلم ہے رسول کے حق میں ان کے حق اطاعت واتباع سے موڑ کر نیز یہ ظلم ہے انسان کی خود اپنی ذات کے حق میں کہ انکار حق کے نتیجے میں اس کو دارین کی سعادت و سرخروائی سے محروم کر کے دائمی ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں ڈالا۔ پس حق کا انکار اور اس سے اعراض و روگردانی ہر اعتبار سے ظلم اور ہر خیر سے محرومی ہے۔ والعیاذُ باللہ العظیم من کل شائیۃ من شوائب الظلم والاعراض والانکار۔




HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1386 حدیث مرفوع مکررات 145متفق علیہ



محمد بن عرعرہ، شعبہ، سعد بن ابراہیم، ابوسلمہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ پسند ہے، آپ نے فرمایا، وہ عمل جو ہمیشہ کیا جائے، اگرچہ کم ہو، اور آپ نے فرمایا، کہ ان ہی عمال کی پابندی کرو جن کی تمہیں طاقت ہے۔


Volume 1, Book 3, Number 99:
Narrated Abdullah Ibn Dinar:
also narrates the same (above-mentioned statement) as has been narrated by 'Umar bin 'Abdul


'Aziz up to "The religious scholar (learned men) will pass away (die)."



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد




اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

iqbalkuwait
04-22-2010, 10:48 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Thursday, 22 April 2010




Quran.7 Aya.10,11



وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ قَلِيلاً مَّا تَشْكُرُونَ



وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآئِكَةِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ



اور بیشک ہم نے تم کو زمین میں تمکّن و تصرّف عطا کیا اور ہم نے اس میں تمہارے لئے اسبابِ معیشت پیدا کئے، تم بہت ہی کم شکر بجا لاتے ہو،



اور بیشک ہم نے تمہیں (یعنی تمہاری اصل کو) پیدا کیا پھر تمہاری صورت گری کی (یعنی تمہاری زندگی کی کیمیائی اور حیاتیاتی ابتداء و ارتقاء کے مراحل کو آدم (علیہ السلام) کے وجود کی تشکیل تک مکمل کیا)، پھر ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے۔ وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہ ہوا،

We established you on earth, and created in it means of living for you. Little you appreciate.


We created you, then gave you a shape, then We said to the angels, :Prostrate yourselves before ‘Adam. So, they all prostrated themselves, except Iblis (Satan). He did not join those who fell prostrate.




TAFSEER


٢ ف سو تمہارے لئے ہم نے طرح طرح کے اور اَنْ گنت و بےحساب یہ سامانہائے زیست اپنی قدرت کاملہ اور رحمت شاملہ سے پیدا فرمائے ہیں اور تمہاری طرف سے کسی طرح کی اپیل و درخواست کے بغیر محض اپنے تقاضاءِ کرم کی بناء پر پیدا فرمائے ہیں اور پھر ان کو ہم نے نہایت ہی حکمت اور عنایت سے اس کائنات میں پھیلا اور بکھیر دیا۔ تاکہ ہر ملک و مقام پر رہنے والے ان سے مستفید و فیضیاب ہوسکیں۔ اور ان سے تم لوگ زندگی کے ہر موڑ پر اور طرح طرح سے اور مسلسل و لگاتار، اور بلا توقف و انقطاع مستفید و فیضیاب ہوتے ہو سو یہ سب کچھ اس قدر حکمت و رحمت کے ساتھ تمہارے لئے پیدا کیا تاکہ تم اس کی قدر پہچانو، اور اپنے خالق و مالک کا شکر بجالاؤ، جو کہ عقل و نقل کا تقاضا بھی ہے اور اس میں خود تمہارا ہی بھلا اور فائدہ بھی ہے مگر تم لوگ کم ہی شکر بجالاتے ہو۔

ابلیس ، آدم علیہ السلام اور نسل آدم


انسان کے شرف کو اس طرح بیان فرماتا ہے کہ تمہارے باپ آدم کو میں نے خود ہی بنایا اور ابلیس کی عداوت کو بیان فرما رہا ہے کہ اس نے تمہارے باپ آدام کا حسد کیا ۔ ہمارے فرمان سے سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر اس نے نافرمانی کی پس تمہیں چاہئے کہ دشمن کو دشمن سمجھو اور اس کے داؤ پیچ سے ہوشیار رہو اسی واقعہ کا ذکر آیت (واذ قال ربک للملائکتہ انی خالق بشرا) میں بھی ہے ۔ حضرت آدم کو پروردگار نے اپنے ہاتھ سے مٹی سے بنایا انسانی صورت عطا فرمائی پھر اپنے پاس سے اس میں روح پھونکی پھر اپنی شان کی جلالت منوانے کیلئے فرشتوں کو حکم دیا کہ ان کے سامنے جھک جاؤ سب نے سنتے ہی اطاعت کی لیکن ابلیس نہ مانا اس واقعہ کو سورۃ بقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار لکھ آئے ہیں ۔ اس آیت کا بھی یہی مطلب ہے اور اسی کو امام ابن جریر رحمتہ اللہ علیہ نے بھی پسند فرمایا ہے ۔ ابن عباس سے مروی ہے کہ انسان اپنے باپ کی پیٹھ میں پیدا کیا جاتا ہے اور اپنی ماں کے پیٹ میں صورت دیا جاتا ہے اور بعض سلف نے بھی لکھا ہے کہ اس آیت میں مراد اولاد آدم ہے ۔ ضحاک کا قول ہے کہ آدم کو پیدا کیا پھر اس کی اولاد کی صورت بنائی ۔ لیکن یہ سب اقوال غور طلب ہیں کیونکہ آیت میں اس کے بعد ہی فرشتوں کے سجدے کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ سجدہ حضرت آدام علیہ السلام کے لئے ہی ہوا تھا ۔ جمع کے صیغہ سے اس کا بیان اس لئے ہوا کہ حضرت آدم تمام انسانوں کے باپ ہیں آیت (وظللنا علیکم الغمام) الخ، اسی کی نظیر ہے یہاں خطاب ان بنی اسرائیل سے ہے جو حضور کے زمانے میں موجود تھے اور دراصل ابر کا سایہ ان کے سابقوں پر ہوا تھا جو حضرت موسیٰ کے زمانے میں تھے نہ کہ ان پر ، لیکن چونکہ ان کے اکابر پر سایہ کرنا ایسا احسان تھا کہ ان کو بھی اس کا شکر گذار ہونا چاہئے تھا اس لئے انہی کو خطاب کر کے اپنی وہ نعمت یاد دلائی ۔ یہاں یہ بات واضح ہے اس کے بالکل برعکس آیت (ولقد خلقنا الانسان من سلالتہ من طین) الخ، ہے کہ مراد آدم ہیں کیونکہ صرف وہی مٹی سے بنائے گئے ان کی کل اولاد نطفے سے پیدا ہوئی اور یہی صحیح ہے کیونکہ مراد جنس انان ہے نہ کہ معین۔ واللہ اعلم ۔




HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 560 حدیث مرفوع مکررات 6



ابو کریب و موسیٰ بن حرام حسین بن علی زائد میسرہ اشجعی ابوحازم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو کیونکہ عورت پسلی سے پیدا ہوئی ہے اور پسلی میں سب سے زیادہ کجی اس کے اوپر والے حصہ میں ہوتی ہے اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی اور اگر چھوڑ دو گے تو ٹیڑھی رہے گی لہذا تم عورتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔


Volume 1, Book 3, Number 100:
Narrated 'Abdullah bin 'Amr bin Al' As:
I heard Allah's Apostle saying, "Allah does not take away the knowledge, by taking it away
from (the hearts of) the people, but takes it away by the death of the religious learned men till
when none of the (religious learned men) remains, people will take as their leaders ignorant
persons who when consulted will give their verdict without knowledge. So they will go astray


and will lead the people astray."



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد




اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں
http://royaltelecome.hotels.officelive.com/images/3%20color%20zekr%20okokok.gif

iqbalkuwait
04-23-2010, 10:07 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Friday, 23 April 2010



Quran. 7 Aya.12,13



قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ قَالَ أَنَاْ خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ



قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ



ارشاد ہوا: (اے ابلیس!) تجھے کس (بات) نے روکا تھا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جبکہ میں نے تجھے حکم دیا تھا، اس نے کہا: میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو تو نے مٹی سے بنایا ہے،



ارشاد ہوا: پس تو یہاں سے اتر جا تجھے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تو یہاں تکّبر کرے پس (میری بارگاہ سے) نکل جا بیشک تو ذلیل و خوار لوگوں میں سے ہے،

Allah said, :What has prevented you from prostrating when I ordered you? He said, :I am better than him. You have created me of fire, and created him of clay.


He said, :Then, get you down from here, it is not for you to show arrogance here. So, get out. You are one of the degraded.



TAFSEER


(ف16) مسئلہ : اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امر وُجوب کے لئے ہوتا ہے اور سجدہ نہ کرنے کا سبب دریافت فرمانا تَوبیخ کے لئے ہے اور اس لئے کہ شیطان کی مُعانَدت اور اس کا کفر و کِبر اور اپنی اصل پر مُفتخِر ہونا اور حضرت آدم علیہ السلام کے اصل کی تحقیر کرنا ظاہر ہو جائے ۔

(ف17) اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ آ گ مِٹی سے افضل و اعلٰی ہے تو جس کی اصل آ گ ہوگی وہ اس سے افضل ہوگا , جس کی اصل مِٹی ہو اور اس خبیث کا یہ خیال غلط وباطل ہے کیونکہ افضل وہ ہے جسے مالک و مولٰی فضیلت دے ، فضیلت کا مدار اصل و جوہر پر نہیں بلکہ مالک کی اِطاعت و فرمانبرداری پر ہے اور آ گ کا مِٹی سے افضل ہونا یہ بھی صحیح نہیں کیونکہ آ گ میں طیش و تیزی اور تَرَفُّع ہے ۔ یہ سبب اِستِکبار کا ہوتا ہے اور مٹی سے وقار ، حِلۡم و حیا و صبر حاصل ہوتے ہیں ، مِٹی سے ملک آباد ہوتے ہیں آ گ سے ہلاک ، مِٹی امانت دار ہے جو چیز اس میں رکھی جائے اس کو محفوظ رکھے اور بڑھائے ۔ آ گ فنا کر دیتی ہے باوجود اس کے لطف یہ ہے کہ مِٹی آگ کو بجھا دیتی ہے اور آ گ مِٹی کو فنا نہیں کر سکتی علاوہ بَریں حماقَت و شَقاوَت اِبلیس کی یہ کہ اس نے نَص کے موجود ہوتے ہوئے اس کے مُقابِل قیاس کیا اور جو قیاس کہ نص کے خلاف ہو وہ ضرور مردود ۔

نا فرمانی کی سزا


ابلیس کو اسی وقت حکم ملا کہ میری نافرمانی اور میری اطاعت سے رکنے کے باعث اب تو یہاں جنت میں نہیں رہ سکتا ، یہاں سے اتر جا کیونکہ یہ جگہ تکبر کرنے کی نہیں ۔ بعض نے کہا ہے (فیھا) کی ضمیر کا مرجع منزلت ہے یعنی جن ملکوت اعلی میں تو ہے اس مرتبے میں کوئی سرکش رہ نہیں سکتا ۔ جا یہاں سے چلا جا تو اپنی سرکشی کے بدلے ذلیل و خوار ہستیوں میں شامل کر دیا گیا ۔ تیری ضد اور ہٹ کی یہی سزا ہے ۔ اب لعین گھبرایا اور اللہ سے مہلت چاہنے لگا کہ مجھے قیامت تک کی ڈھیل دی جائے ۔ چونکہ جناب باری جل جلالہ کی اس میں مصلحتیں اور حکمتیں تھیں بھلے بروں کو دنیا میں ظاہر کرنا تھا اور اپنی حجت پوری کرنا تھی اس ملعون کی اس درخواست کو منظور فرما لیا ۔ اس حکام پر کسی کی حکومت نہیں، اس کے سامنے بولنے کی کسی کو مجال نہیں ، کوئی نہیں جو اس کے ارادے کو ٹال سکے، کوئی نہیں جو اس کے حکم کو بدل سکے ۔ وہ سریع الحساب ہے



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1024 حدیث مرفوع مکررات 6 متفق علیہ



اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا کیا تم سے عبیداللہ نے بسند نافع ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عورت تین دن کا سفر نہ کرے، بجز اس صورت کے کہ اس کا کوئی محرم رشتہ دار ساتھ ہو۔

Volume 1, Book 3, Number 101:
Narrated Abu Said Al-Khudri:
Some women requested the Prophet to fix a day for them as the men were taking all his time.
On that he promised them one day for religious lessons and commandments. Once during
such a lesson the Prophet said, "A woman whose three children die will be shielded by them
from the Hell fire." On that a woman asked, "If only two die?" He replied, "Even two (will


shield her from the Hell-fire)."



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد




اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

iqbalkuwait
04-28-2010, 11:58 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Wednesday, 28 April 2010



Quran.7 Aya.23,24



قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ



قَالَ اهْبِطُواْ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَكُمْ فِي الأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ



دونوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی؛ اور اگر تو نے ہم کو نہ بخشا اور ہم پر رحم (نہ) فرمایا تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے،



ارشادِ باری ہوا: تم (سب) نیچے اتر جاؤ تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہیں، اور تمہارے لئے زمین میں معیّن مدت تک جائے سکونت اور متاعِ حیات (مقرر کر دیئے گئے ہیں گویا تمہیں زمین میں قیام و معاش کے دو بنیادی حق دے کر اتارا جا رہا ہے، اس پر اپنا نظامِ زندگی استوار کرنا)،

They said, :Our Lord, we have wronged ourselves, and if You do not forgive us and do not bless us with mercy, we shall, indeed, be among the losers.


He said, :Go down, some of you enemies of some; and for you on the earth there will be a dwelling place and enjoyment for a time.



TAFSEER


٢٣۔١ توبہ استغفار کے یہ وہی کلمات ہیں جو حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تبارک و تعالٰی سے سیکھے، جیسا کہ سورہ بقرہ، آیت ٣٧ میں صراحت ہے (دیکھئے آیت مذکورہ کا حاشیہ) گویا شیطان نے اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا تو اس کے بعد وہ اس پر نہ صرف اڑ گیا بلکہ جواز و اثبات میں عقلی قیاسی دلائل دینے لگا، جس کے نتیجہ میں وہ راندہ درگاہ اور ہمیشہ کے لئے ملعون قرار پایا اور حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی غلطی پر ندامت و پشیمانی کا اظہار اور بارگاہ الٰہی میں توبہ و استفغار کا اہتمام کیا۔ تو اللہ تعالٰی کی رحمت و مغفرت کے مستحق قرار پائے۔ یوں گویا دونوں راستوں کی نشان دہی ہوگئی، شیطانی راستے کی بھی اور اللہ والوں کے راستے کی بھی۔ گناہ کرکے اس پر اترانا، اصرار کرنا اور اسکو صحیح ثابت کرنے کے لئے دلائل ' کے انبار فراہم کرنا شیطانی راستہ ہے۔ اور گناہ کے بعد احساس ندمت سے مغلوب ہو کر بارگاہ الٰہی میں جھک جانا اور توبہ استغفار کا اہتمام کرنا بندگان الٰہی کا راستہ ہے۔


ف٤ مفسرین کے نزدیک یہ خطاب آدم و حوا اور ابلیس لعین سب کو ہے کیونکہ اصل عداوت آدم اور ابلیس کی ہے اور اس عداوت کا دنگل ہماری زمین بنائی گئی جس کی خلافت آدم کو سپرد ہوئی تھی۔



HADEES MUBARAK



صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2935 حدیث مرفوع مکررات 0



اسحاق بن ابراہیم، عباس بن عبد العظیم، اسحاق ، عباس، اسحاق ، ابوبکر، بکیر بن مسمار، حضرت عامر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اونٹوں میں (موجود) تھے کہ اسی دوران ان کا بیٹا عمر آیا تو جب حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے دیکھا تو فرمایا میں سوار کے شر سے اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں تو جب وہ اترا تو حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہنے لگا کہ کیا آپ اونٹوں اور بکریوں میں رہنے لگے ہیں اور لوگوں کو چھوڑ دیا ہے اور وہ ملک کی خاطر جھگڑا رہے ہیں تو حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: خاموش ہوجا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ اپنے بندے سے پیار کرتا ہے جو پرہیزگار اور غنی ہے اور ایک کونے میں چھپ کر بیٹھا ہے۔

Volume 1, Book 3, Number 106:
Narrated 'Ali:
The Prophet said, "Do not tell a lie against me for whoever tells a lie against me


(intentionally) then he will surely enter the Hell-fire."



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد

iqbalkuwait
04-29-2010, 09:58 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Thursday, 29 April 2010



Quran. 7 Aya. 25,26



قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ



يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْءَاتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَىَ ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ



ارشاد فرمایا: تم اسی (زمین) میں زندگی گزارو گے اور اسی میں مَرو گے اور (قیامت کے روز) اسی میں سے نکالے جاؤ گے،



اے اولادِ آدم! بیشک ہم نے تمہارے لئے (ایسا) لباس اتارا ہے جو تمہاری شرم گاہوں کو چھپائے اور (تمہیں) زینت بخشے اور (اس ظاہری لباس کے ساتھ ایک باطنی لباس بھی اتارا ہے اور وہی) تقوٰی کا لباس ہی بہتر ہے۔ یہ (ظاہر و باطن کے لباس سب) اﷲ کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ نصیحت قبول کریں،

(Further) He said, :There you shall live and there you shall die, and from there you shall be raised again.


O children of ‘Adam, We have sent down to you the dress that covers your shame and provides adornment. As for the dress of Taqwa (piety), that is the best. That is one of the signs of Allah, so that they may learn a lesson.



TAFSEER


ف ٥ یعنی عموماً تمہارا مسکن اصلی و معتاد یہ ہی زمین ہے۔ اگر خرق عادت کے طور پر کوئی شخص کسی وقت ایک معین مدت کے لئے اس سے اوپر اٹھا لیا جائے مثلاً حضرت مسیح علیہ السلام، تو وہ اس آیت کے منافی نہیں۔ کیا جو شخص چند روز یا چند گھنٹے کے لئے زمین سے جدا ہو کر ہوائی جہاز میں مقیم ہو یا فرض کیجئے وہیں مر جائے وہ فِیْھَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْھَا تَمُوْتُوْنَ کے خلاف ہوگا۔ کیونکہ وہ اس وقت زمین پر نہیں ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ہے مِنْھَا خَلَقْنَاکُمْ وَ فِیْھَا نُعِیْدُکُمْ وَ مِنْھَا نُخْرِجُکُمْ جو اموات زمین میں مدفون نہ ہوں ان کو فیھا نعیدکم الخ میں کیسے داخل کیا جائے گا معلوم ہوا کہ اس قسم کے قضایا کلیہ کے رنگ میں استعمال نہیں ہوئے۔

٢ ف اس ارشاد سے لباس کے دو اہم اور بنیادی مقاصد کو واضح فرما دیا گیا اول اور سب سے اہم مقصد لباس کی سترپوشی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ زیب و زینت بھی مقصود اور مقاصد لباس میں داخل و شامل ہے، ستر پوشی کیلئے تو ایک لنگوٹی یا معمولی سا ٹکڑا بھی کافی تھا۔ لیکن اتمام نعمت کے طور پر ہمارے لئے ایسے لباس کا انتظام فرمایا گیا جو سترپوشی اور سردی و گرمی سے حفاظت کے علاوہ وہ ہماری شخصیت و وقار، حسن و جمال، اور شان و شوکت میں اضافے کا بھی باعث ہو۔ کہ انسان کی اولین پہچان، اور اسکی شخصیت کی ظاہری شناخت اسکے لباس ہی کے ذریعے ہوتی ہے۔ اور ہوسکتی ہے، اسی لئے کہا جاتا ہے النَّاسُ باللِّباس۔ کہ لوگوں کی پہچان اور ان کی شخصیت کا اعتبار ان کے لباس ہی سے ہوتا ہے، پس شخصیت کے نکھار و وقار سے تعلق والے ان مقاصد میں سے کوئی بھی مقصد بجائے خود معیوب نہیں۔ البتہ افراط و تفریط سے جس طرح ہرچیز میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے، اسی طرح اس میں بھی خرابی آجاتی ہے، قرآن حکیم نے زیب و زینت کو مقاصد لباس میں داخل کر کے اس جوگیانہ تصور اور رہبانی ذہنیت کی نفی کر دی ہے جو عریانیت یا نیم عریانیت کو مذہبی تقدس کا درجہ دیتے ہیں، جسکے طرح طرح کے مظاہر اور نمونے بھی موجود تھے، اور آج بھی جگہ جگہ موجود ہیں، یہاں تک کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی کتنے ہی ایسے لوگ موجود ہیں جو ننگ دھڑنگ ملنگوں کو پیر اور ولی مانتے ہیں، اور ننگا پیر اور ناگا پیر کے نام سے ایک مستقل عریانیت پائی جاتی ہے، حالانکہ شریعت مقدسہ کی رو سے دوسروں کے سامنے ننگا ہونا حرام ہے، والعیاذ باللہ العظیم


٣ ف اور تقویٰ کا یہ باطنی اور معنوی لباس اہل ایمان کا ایک ممتاز و منفرد لباس ہے جو ان کے سوا اور کسی کو نصیب ہی نہیں ہوسکتا۔ اور یہ اس ظاہری اور حسی لباس سے کہیں بڑھ کر اور اس سے کہیں بہتر ہے، اسی کی بناء پر انسان وہ ظاہری اور حسی لباس اختیار کرتا ہے۔ جو اسکی عزت و عظمت، اور اسکی سترپوشی، اور اسکی طہارت وپاکیزگی، کا عکاس و آئینہ دار ہوتا ہے۔ اور اسی سے اسکے اس ظاہری اور حسی لباس کی عظمت و افادیت ظاہر ہوتی ہے۔ اگر تقوی کا یہ باطنی لباس موجود نہ ہو تو انسان لباس پہن کر بھی ننگا ہی رہتا ہے۔ والعیاذُ باللہ العظیم



HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 981 حدیث مرفوع مکررات 5



محمد بن یوسف، سفیان، عبداللہ بن دینار ابن عمر سے روایت کرتے ہیں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں کہ انہیں خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا، کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہونے والا ہے، اور نہ یہ جانتا ہے کہ رحم مادہ میں کیا چیز ہے، اور نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ وہ کل کیا کرے گا، اور نہ کسی کو یہ خبر ہے کہ وہ کس ملک میں مرے گا، اور نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ بارش کب ہوگی۔

Volume 1, Book 3, Number 107:
Narrated 'Abdullah bin Az-Zubair:
I said to my father, 'I do not hear from you any narration (Hadith) of Allah s Apostle as I hear
(his narrations) from so and so?" Az-Zubair replied. l was always with him (the Prophet) and
I heard him saying "Whoever tells a lie against me (intentionally) then (surely) let him


occupy, his seat in Hell-fire.



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد




اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

iqbalkuwait
05-02-2010, 11:45 PM
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ



Sunday, 02 May 2010




Quran. 7 Aya.31,32



يَا بَنِي آدَمَ خُذُواْ زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وكُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ



قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللّهِ الَّتِيَ أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالْطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِي لِلَّذِينَ آمَنُواْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ



اے اولادِ آدم! تم ہر نماز کے وقت اپنا لباسِ زینت (پہن) لیا کرو اور کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو کہ بیشک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا،



فرما دیجئے: اﷲ کی اس زینت (و آرائش) کو کس نے حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا فرمائی ہے اور کھانے کی پاک ستھری چیزوں کو (بھی کس نے حرام کیا ہے)؟ فرما دیجئے: یہ (سب نعمتیں جو) اہلِ ایمان کی دنیا کی زندگی میں (بالعموم روا) ہیں قیامت کے دن بالخصوص (انہی کے لئے) ہوں گی۔ اس طرح ہم جاننے والوں کے لئے آیتیں تفصیل سے بیان کرتے ہیں،

O children of ‘Adam, take on your adornment at every mosque. Eat and drink and do not be extravagant. Surely, He does not like the extravagant.


Say, :Who has prohibited the adornment Allah has brought forth for His servants, and the wholesome things of sustenance? Say, :They are for the believers during this worldly life (though shared by others), while they are purely for them on the day of Resurrection. This is how We elaborate the verses for people who understand.




TAFSEER


٣١۔١ آیت میں زینت سے مراد لباس ہے۔ اس کا سبب نزول بھی مشرکین کے ننگے طواف سے متعلق ہے۔ اس لئے انہیں کہا گیا ہے کہ لباس پہن کر اللہ کی عبادت کرو اور طواف کرو۔

٣١۔٢ اِسْرَافُ، (حد سے نکل جانا) کسی چیز میں حتیٰ کے کھانے پینے میں بھی ناپسندیدہ ہے، ایک حدیث میں نبی نے فرمایا ' جو چاہو کھاؤ اور جو چاہے پیو جو چاہے پہنو البتہ دو باتوں سے گریز کرو۔ اسراف اور تکبر سے (صحیح مسلم، صحیح بخاری)، بعض سلف کا قول ہے، کہ اللہ تعالٰی نے (وَّكُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا ۚ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِيْنَ ) 7۔ الاعراف:31) اس آدھی آیت میں ساری طب جمع فرما دی ہے (ابن کثیر) بعض کہتے ہیں زینت سے وہ لباس مراد ہے جو آرائش کے لیے پہنا جائے۔ جس سے ان کے نزدیک نماز اور طواف کے وقت تزئین کا حکم نکلتا ہے۔ اس آیت سے نماز میں ستر عورت کے وجوب پر بھی استدلال کیا گیا ہے بلکہ احادیث کی رو سے ستر عورت گھٹنوں سے لے کر ناف تک کے حصے کو ڈھانپنا ہرحال میں ضروری ہے چاہے آدمی خلوت میں ہی ہو۔ (فتح القدیر) جمعہ اور عیدین کے دن خوشبو کا استعمال بھی مستحب ہے کہ یہ بھی زینت کا ایک حصہ ہے۔ (ابن کثیر)


٣٢۔١ مشرکین نے جس طرح طواف کے وقت لباس پہننے کو ناپسندیدہ قرار دے رکھا تھا، اسی طرح حلال چیزیں بھی بطور تقرب الٰہی اپنے اوپر حرام کر لی تھیں نیز بہت سی حلال چیزیں اپنے بتوں کے نام وقف کر دینے کی وجہ سے حرام گردانتے تھے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا لوگوں کی زینت کے لئے (مثلاً لباس وغیرہ) اور کھانے کی عمدہ چیزیں بنائی ہیں۔ گو کفار بھی ان سے فیض یاب اور فائدہ اٹھا لیتے ہیں بلکہ بعض دفعہ دینوی چیزوں اور آسائشوں کے حصول میں وہ مسلمانوں سے زیادہ کامیاب نظر آتے ہیں لیکن یہ بالتبع اور عارضی ہے جس میں اللہ تعالٰی کی تکوینی مشیت اور حکمت ہے تاہم قیامت والے دن یہ نعمتیں صرف اہل ایمان کے لیے ہوں گی کیونکہ کافروں پر جس طرح جنت حرام ہوگی، اسی طرح ماکولات ومشروبات بھی حرام ہوں گے۔




HADEES MUBARAK



صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1835 حدیث متواتر حدیث مرفوع مکررات 5متفق علیہ



عبداللہ بن یوسف، مالک، ابی حازم، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ ہمیشہ بھلائی کے ساتھ رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کریں گے۔


Volume 1, Book 3, Number 110:
Narrated Abu Huraira:
The Prophet said, "Name yourselves with my name (use my name) but do not name
yourselves with my Kunya name (i.e. Abu-l Qasim). And whoever sees me in a dream then
surely he has seen me for Satan cannot impersonate me. And whoever tells a lie against me


(intentionally), then (surely) let him occupy his seat in Hell-fire."



اللھم صل علی سيدنا محمد وعلی آل سيدنا محمد




اس عاجز بندے کو دعاؤں ميں ياد رکھيں

iqbalkuwait
05-03-2010, 10:36 PM
For Reading Please Click Daily to----------DISPLAY (http://royaltelecome.hotels.officelive.com/default.aspx)
http://royaltelecome.hotels.officelive.com/images/salam%20nabi.jpg

http://royaltelecome.hotels.officelive.com/images/5%20color%20ex.gif

Attari1980
05-12-2010, 01:48 PM
:ja

Ramzan Malik
05-24-2010, 08:33 PM
:ja

imranattari
02-21-2011, 06:15 PM
جزاک اللہ