PDA

View Full Version : طالبان کے ہاتھوں طلبا اور اساتذہ کا قتل او



iqbaljehangir
01-31-2011, 10:48 PM
طالبان کے ہاتھوں طلبا اور اساتذہ کا قتل اور سکولوں کی تباہی

طالبانائزیشن ایک آ ئیڈیالوجی کا نام ہے اور اس کے ماننے والے وحشی اور درندے طالبان، انتہا پسند،تشدد پسند اور دہشت گرد نظریات و افکار پر یقین رکھتے ہین اور صرف نام کے مسلمان ہین، جن کے ہاتھ پاکستان کے معصوم اور بے گناہ شہریوں،طلبا و طالبات، اساتذہ اور ہر شعبہ ہائے ذندگی کے لوگوں کے خون میں رنگے ہوئے ہین۔ بقول طالبان کے وہ پاکستان مین نام نہاد اسلامی مملکت کے قیام کے لئے مسلح جدوجہد کر رے ہین۔ اسلامی مملکت کے خلاف مسلح جدوجہد اسلامی شریعت کے تقاضوں کی سراسر خلاف ورزی ہے۔طالبان معصوم مسلمانوں اور پاکستانیوں کا دائیں و بائیں سے، بے دریغ قتل عام ،خودکش دھماکون اور دہشت گردی کے ذریع کر رہے ہین اور طالبان کا اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق چلنا بڑا مشکوک اور تہڑا مسئلہ ہے۔ طالبان نے ستمبر ۲۰۱۰ تک ۱۰۰۰ سے زیادہ طلبہ و طالبات کے سکولون کو تباہ و برباد کر کے قرآن ،رسول اکرم کی احادیث اور آیمہ کرام کے احکامات کی صریحا خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہین۔ طالبان درندوں نے اپنے حملوں کے دوران سکولوں کے بچوں ، بچیوں اور اساتذہ کو بھی نہین بخشا۔ طالبان کے مذید حملوں کے خوف کی وجہ سے صوبہ ک پ کے ۲۰۵ پرائمری سکول بند کر دئیے گئے جس سے ہزاروں بچیاں تعلیم سے محروم ہو گئیں۔ اقوام متحدہ کے کمشنر مہاجرین کی ایک روپورٹ کے مطابق ۱۔۸ ملین آبادی کے علاقہ مین ۳ سال پہلے ۱۲۰،۰۰۰ لڑکیاں سکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم تھین جو ، اب کم ہو کر صرف ۴۰،۰۰۰رہ گئین۔ ۳۰ فیصد سے زیادہ لڑکیاں سن ۲۰۰۶ اور ۲۰۰۷ مین مولوی فضل اللہ کی دہمکی آمیز ریڈیو تقریروں کی وجہ سے سوات کے سکول چھوڑ گئیں۔طالبان نے سوات مین سکول کی بچیوں کے سکول جانے پر پابندی عائد کر دی۔ طالبان نے سوات کے سکولوں اور مدرسوں سے ، ۱۱ سال عمر کے ۱۵۰۰ طلبا کو خودکش بمبار بنانے کے لئے اغوا کیا۔[ٹائمز روپورٹ2009 / Daily Times January 24 th,2011]طالبان نے دوسرے دہشت گردوں اور گروپوں کو ، ۷ سال عمر کے بچے ،خود کش بمبار بنانے کے لئے ۷۰۰۰ سے لیکر ۱۴۰۰۰ ڈالر مین فروخت کئیے۔ طالبان نے اکتوبر ۲۰۰۹ مین انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد مین خود کش حملہ کیا جس مین ۶ افراد بشمول ۳ طالبات ہلاک ہو گئین۔ طالبان نے اکتوبر ۲۰۱۰ مین سوات یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فاروق خان کو قتل کر دیا اور سوات طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی ۔ تحریک طالبان نے اسلامیہ یونیورسٹی، پشاور کے وائس چالسلر کو ستمبر ۲۰۱۰ مین اغوا کر لیا اور وہ ابھی تک طالبان کی قید میں ہین۔ طالبان نے ۱۹ جنوری 2011 کو پشاور کے ایک نجی سکول کے باہر دہماکہ کیا جس سے دو افراد ہلاک اور ۱۵ بچے زخمی ہو گئے۔۔ذرائع کے مطابق خیبرایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل کے علاقہ کنڈاؤ خیل میں شدت پسندوںنے ۲۴ جنوری 2011 گرلز پرائمری سکول کو دھماکہ خیزمواد نصب کرکے تباہ کردیا۔ ایجنسی بھر میں تباہہونیوالے سکولوں میں اب تک33 درسگاہیں شدت پسندوں کے ہاتھوں تباہ ہوچکی ہیں۔یہ ہین ان طالبان کی قبیح حرکات و کرتوت جو پاکستان مین سکولون کو تباہ کر کے،طلبا ،اساتذہ و دیگر بے گناہ اور معصوم لوگوں کو قتل کرکے اسلامی نظام نافذ کرنے چلے ہین۔
یوں تو پاکستان تعلیمی میدان مین پہلے ہی دوسرے ترقی پزیر ممالک کے مقابلہ مین خاصا پیچھے ہے ، ۱۰۰۰ سے زیادہ ،سکولون کی تباہی سے مذید پیچھا چلا جائےگا۔ اس طرح طالبان نے پاکستانی مسلمانون کی موجودہ اور آئیندہ نسل کو تعلیمی میدان مین جان بوجھ کر پیچھے کی طرف دھکیل دیا ہے اور جرم عظیم کا ارتکاب کیا ہے۔ پاکستان مین عورتوں مین شرح خواندگی ۳۶فیصد اور مردوں مین ۶۳ فیصد ہے۔ خیبر پختونخواہ مین خواندگی کی شرح ۵۰ فیصد ہے اور عورتوں مین شرح خواندگی ۳۰۔۸ فیصد ہے۔ سکولوں کو جلانے کے معاملہ میں طالبان کی سرگرمیاں اسلام کے سراسر خلاف ہیں لہذا ہمیں نہیں چاہئے طالبان کا اسلام جس کی تشریح تنگ نظری پر مبنی ہو اور نہ ہی ہم طالبان کو اس امر کی اجازت دیں گے کہ وہ اپنا تنگ نظری والا اسلام ، پاکستان کی مسلمان اکثریت پر مسلط کرین۔
یہ انپڑہ ، وحشی طالبان درندے جن کے آگے تاتاریوں کے مظالم ہیچ ہین کیا جانیں اسلام میں علم اور تعلیم کی اہمیت ؟ اسلام کے مطابق علم ایک ایسا اجالا اور نور ہے جو کہ جہالت، لاعلمی اور پسماندگی کے اندہیروں کو دور کرتا ہے اور ہمیں اچھے اور برے مین تمیز، فرق اور پہچان کی صلاحیت دیتا ہے۔ کسی بھی قوم نے بغیر علم و تعلیم کے آج تک ترقی نہ کی ہے۔ دنیا کے جن ممالک نے تعلیم و تحقیق کو ترچیح دی وہ آج ہر لحاظ سے پوری دنیا پرحکمرانی کر رہے ہیں ۔ تاریخ مین ارسطو اور افلاطون جیسے فلاسفروں نے تعلیم کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ اقتصادی ، سماجی اور معاشرتی ترقی کا راز تعلیم میں مضمر ہے۔ پڑھا لکھا پاکستان ہی ہماری تر قی کا را ز ہے تعلیم کے میدان میں آ گے بڑھے بغیر ہم دنیا میں اہم مقام حا صل نہیں کر سکتے ۔ تعلیم کی مدد سے کائنات کے پوشیدہ رازوں کو طشت از بام کیا جا سکتا ہے۔
کسی بھی معا شرے کی تر قی ، جمہوریت اور اچھے جمہوری اقدار کا اصل را ز حصول علم میں مضمر ہے۔ دنیا نے آج تک جو بھی تر قی کی ہے ، وہ تمام علم کی بدو لت ہی ہو ئی ہے علم کی دو ڑ میں میں پیچھے رہ جا نے وا لی قو میں غر بت ،بے رو ز گاری ،مصا ئب اور مشکلات میں پھنسی ہو ئی ہیں.
قرآن پاک کی ابتداء ہی اقراء سےہوتی ہے رسول اکرم کاارشاد ہے کہ علم حاصل کروچاہیےتمہیں چین جاناپڑے۔جبکہ اس دورمیں چین کوئیمسلمان ملک نہیں تھااس سےمرادیہ دنیوی تعلیم ہےناں کہ دینی۔ اس سے میری ہرگز یہ مراد نہ ہے کی دین کی تعلیم حاصل نہ کی جاءے۔ دینی تعلیم کی اہمیت سے کسی کو انکار نہین ہے۔دین و دنیاساتھ ساتھہوتوبہتراورجب ہم ان میں کسی بھی حد سے تجاوز کر جائیں گےتومیری نظرمیں وہ دہشت گردیہے۔کیونکہ اسلام ہربات میں اعتدال پسندی پرزوردیتاہے۔
قرآن مین سب سے زیادہ استعمال ھونے والا لفظ “علم” ہے ۔اسلام نے جہاں علم کو اوّلیت دی ہے اور علمِ دین کا حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے۔علم سیکھنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔علم ”اجالا“ ہے۔ ایسا اجالا کہ جو چھپائے نہیں چھپتا، مٹائے نہیں مٹتا، عام کرنے سے نہیں گھٹتا۔ اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج کر حق و باطل، اچھائی و برائی کے فرق کو واضح کردیا۔ حق ظاہر فرمادیا اور ہر ایک کے لئے معیار ”علم“ بنایا تاکہ سچی راہ کا انتخاب بآسانی ہو۔
۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کے بعد بر صغیر ہند و پاکستان کے مسلمان پہلے ہی ہندووں کے مقابلہ میں تعلیم کے میدان مین ۵۰ سال پیچھے رہ گئے تھے۔ بھلا ہو سر سید احمد خان کا جنیوں نے حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے مسلمانون کو جدید علوم سے روشناس کروانے کے لیئے پہلے مدرسہ اور بعد مین علیگڑہ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی ۔ خدا رحمت کنند این عاشقان پاک طینت را
دولتِ علم سے بہرہ مند ہونا ہر مرد و زن کے لئے لازمی ہے۔ ترقی صرف اس قوم کی میراث ہے جس کے افراد زیورِ علم سے آراستہ و پیراستہ ہوں۔ علم کے بغیر انسان خدا کو بھی پہنچاننے سے قاصر ہوتا ہے۔ کسی بھی عمل کے لئے علم ضروری ہے کیونکہ جب علم نہ ہوگا تو اس پر عمل کیسے ہوسکے گا۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے بھی حصول علم لازمی ہے۔ اسلام نے مردو عورت دونوں کے حصول، علم کی تاکید کی ہے۔ خواہ اس کے لئے دوردراز کا سفر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ علم ایک ایسا بہتا دریا ہے جس سے جو جتنا چاہے سیراب ہوسکتا ہے اور اس دریا کے پانی مین کوءی کمی واقع نہین ہوتی۔۔ کامیابی محنت اور لگن مین پنہان ہے۔ زندگی کی اقدار میں نکھار و وقار صرف علم سے ہی آسکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت و مرد دونوں کی اہمیت یکساں ہے۔ ترقی کی راہوں پر آگے بڑھنے کے لئے عورتوں کے لئے بھی علم اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ مردوں کے لئے ہے۔ گویا عورت اور مرد ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں جن میں سے ایک کی بھی علم سے لاتعلقی کائنات کے نظام کو درہم برہم کرسکتی ہے۔ ۔چنانچہ ارشاد منقول ہے۔ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلَّمُسْلِمٍ۔ " علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ تعلیمی شعبے کو تر قی دئیے بغیر ملک نہ تو خوشحال و تر قی کی راہ پر گا مزن کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی تر قی یافتہ اقوام کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے بغیر معا شرے میں انصاف کا بو ل با لا ممکن ہے۔ تعلیم معا شر ے میں شعور پیدا کر نے اور تحقیق کو فرو غ دینے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ لا علمی و پسماندگی آج کے دور مین تر قی پذیر ممالک کی خوشحا لی میں سب سے بڑی رکا وٹ ہے۔
اسلام دینِ فطرت ہے اور اور قومِ رسولِ ہاشمی اپنی ترکیب میں منفرد اور خاص ہے۔جو قوم اپنی تہذیب اور تمدن کو بھول جاتی ہے علم و فن بھی اس سے روٹھ جاتے ہیں۔ آج تعلیم، تحقیق اور تخلیق کے دروازے ہم پر کیوں بند ہوئے ہیں؟ اس لیے کہ ہم اپنی اصل اقدار کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ اگر ہم اپنی اصل کی طرف لوٹ آئیں تو بغداد و ہسپانیہ کے بڑے بڑے تحقیقی و علمی مراکز دوبارہ امّتِ مسلمہ کی رہنمائی کے لیے موجود ہونگے۔ تاریخ کے اوراق، دانشوروں کے اقوال۔ انبیاء علیہ السلام کی تعلیمات اور سائنسدانوں کے تجربات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قوموں کا عروج زوال علم کے تعلق سے جڑا ہوا ہے۔ جو قوم علم سے رغبت ، تحقیقی اور تجربے کو رواج دیتی ہے وہی ترقی کے اعلیٰ مدارج پر ہوتی ہے اور جو قوم اس کے بر عکس رویہ اپناتی ہے اس کی حالت تمام مادی اور افرادی وسائل کی کثرت کے باوجود عبرت کا نشان بن جاتی ہے۔ آج اہل مغرب اس علم میں دسترس کے باعث ہی دنیا مین کامیاب و کامران ہیں۔
قرآن دنیا کی سچی اور قابلِ عمل کتاب ہے جس کے احکامات انسانی نفسیات کے عین مطابق ہیں ۔ اسلام کی ابتدا ہی تعلیم سے ہوئی۔غارحرا میں سب سے پہلی جو وحی نازل ہوئی وہ سورہ علق کی ابتدائی چند آیتیں ہیں ،جن میں نبی صلعم کو کہا گیا :
”اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ. خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ. اقْرَأْ وَرَبُّکَ الْأَکْرَمُ. الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ. عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ یَعْلَم.
(پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے سب کو پیدا کیا۔ پیدا کیا اس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے ۔ پڑھ ، تیرارب بڑا کریم ہے۔ جس نے سکھایا علم قلم کے زریعہ۔ اس چیز کا علم دیا انسان کو جو وہ نہیں جانتا ۔(العلق:۱-۵)

یَرْفَعِ اللَّہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌ

(تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جن کو علم عطا ہواہے ،اللہ اس کے درجات بلند فرمائے گا اورجو عمل تم کرتے ہو اس سے اللہ باخبر ہے۔(المجادلہ:۱۱)

دوسرے مقام پر فرمایا گیا ہے:

(اے نبی،کہہ دیجیے کیاعلم رکھنے والے(عالم) اور علم نہ رکھنے والے (جاہل) برابر ہوسکتے ہیں۔نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔(الزمر:۹)

تاریکی اور روشنی کی مثال دے کر عالم اور جاہل کے فرق کو واضح کیا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

(کہہ دیجیے،کیا برابر ہوسکتے ہیں اندھا(جاہل) اور دیکھنے والا(عالم) یا کہیں برابر ہوسکتا ہے اندھیرا اور اجالا۔)(الرعد:۱۶)

(اے پیغمبر کہو:اے میرے رب !میرا علم زیادہ کر۔)(طٰہٰ:۱۱۴)

اور تجھ کوسکھائیں وہ باتیں جو نہیں جانتا تھااور یہ تیرے رب کا فضل عظیم ہے۔(النساء:۱۱۳)

اس طرح کی بہت ساری آیتیں ہیں جن میں عالم اور جاہل کے فرق کو واضح کیا گیا ہے اور ان کے درجات کے تعین کے ساتھ مسلمانوں کو حصول علم کے لیے ابھارا گیا ہے۔

اس سلسلے میں کثرت سے احادیث بھی وارد ہوئی ہیں جن میں اہل علم کی ستائش کی گئی ہے اور انہیں انسانیت کا سب سے اچھا آدمی قرار دیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول فرماتے ہیں:

” وَفَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعابِدِ ،کَفَضْلِی عَلَی اَدْنَاکُمْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وسلم: اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ وَاھْلَ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضِیْنَ حَتَّی النَّمْلَةَ فِی جُحْرِھَا وَحَتَّی الْحُوْتَ لَیُصَلُّوْنَ عَلی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَیْرَ.“(۳)

(اورعابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنی پر۔ یقینا اللہ عزوجل ،اس کے فرشتے اور آسمان وزمین والے حتیٰ کہ چیونٹی اپنے سوراخ میں اور مچھلی تک لوگوں کے معلم کے لیے بھلائی کی دعاء کرتی ہیں۔)
حضرت ابودرداء روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جو شخص علم حاصل کرنے کیلئے کسی راستے پر چل نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کی طرف جانے والے راستے کو آسان کر دیتا ہے مزید براں اُس کے اِس شوق اور جستجو کے سبب فرشتے اپنے پَر اُس راستے پر پھیلا دیتے ہیں، زمین وآسمان میں پائی جانے والی مخلوقات اس کے لئے استغفار کرتے ہیں، یہاں تک کہ پانی میں رہنے والی مچھلیاں بھی اس کے لئے استغفار کرتی ہیں۔ (سنو) ایک عبادت گزار شخص پر ایک عالم کا مرتبہ ایسے بڑھا ہوا ہے جیسے تاروں میں چمکتا دمکتا چاند۔ علماءہی تو انبیاءکے وارث ہوا کرتے ہیں انبیاءکرام کی وراثت دھن دولت نہیں ہوا کرتی وہ تو بس اپنی وراثت میں علم ہی چھوڑ جاتے ہیں، سو جس نے انبیاءکے اس چھوڑے ہوئے علم کو حاصل کیا اس نے کیا خوب مقدر پایا۔ (رواہ ابودائود والترمذی)


دنیاوی علوم حاصل کرنا صنعت و حرفت اور سائنس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ، چاند اور ستاروں کو مسخر کرنا، اسلام مین منع نہیں۔ تعلیم کے فروغ کےلئے ہمیں جدید ادارے بنانے چاہئیں۔ جہاں تحقیق ہو، اعلی کتب و جدید لایئبریران میسر ہوں۔تمام ادیان کے تقابلاتی مطالعے کے مواقع موجود ہوں۔ دنیا میں ہونے والی نئی پیش رفت کوہی نہ دیکھا جائے بلکہ تاریخ اسلام سے کما حقہ آگاہی دی جائے۔
تاریخ کی کوئی بھی کتاب اٹھا لیجیے، وہ اسلام کے سنہری دور سائنس کا ذکر ضرور کرتی ہے. نویں اور دسویں صدی کے درمیان، مسلم محقق نہ صرف یونانی علم طب، سائنس اور حساب کا ترجمہ کرتے رہے بلکہ انھوں نے تحقیق اور دریافت کے اس عمل کو نئی بلندیوں پر پہنچایا. انھوں نے الجبرا کو نام دیا اور اسکو مزید بہتر بنایا، ۔ کیمسٹری مین کمال حاصل کیا اور کئی تیزاب دریافت کءیے۔جراحی کے عمل کے طریقے کار بہتر بنائے، مَناظَریات اورطَبعیات کے علم میں انکشافات کئے اور کائنات کے مشاہدے کو بنیاد بنا کار زمین و آسمان کے نقشے بنا ڈالے.


غرض فن ہیں جو مایہٴ دین ودولت طبیعی، الٰہی، ریاضی وحکمت


طب اور کیمیا، ہندسہ اور ہیئت سیاست، تجارت، عمارت، فلاحت




لگاؤگے کھوج ان کا جاکر جہاں تم


نشاں ان کے قدموں کے پاؤگے واں تم

(الطاف حسین حالی)

عرب کے ریگستان سے نکل کر عرب کے شتربان دیکھتے ہی دیکھتے اقصائے عالم میں پھیل گئے،اور جہاں کہیں پہنچے وہاں قرآن کے نور ہدایت اور علم وحکمت سے اس خطہ کو اوراس آبادی کو منور کردیا، علوم وفنون کی بڑی بڑی درسگاہیں قائم کیں، بڑے بڑے متمدن شہر آباد کئے، جن کی ترقی وعروج کی یہ شان تھی کہ آج جس طرح طلبہ ممالک یورپ میں اعلیٰ تعلیم کے لئے جاتے ہیں کسی زمانے میں ممالک یورپ سے بلاد اسلامیہ کی طرف علم وحکمت کے موتیوں سے اپنے دامن مراد بھرنے کے لئے آتے تھے۔ پھر تیرھویں صدی کے اواخر میں علم اور سائنس کی یہ جستجو اور آرزو مر سی گئی اور نتیجہ کے طور پر آج دنیا کے پسماندہ قوموں مین کھڑے ہین. ایک حالیہ رپورٹ نے 22 عرب ممالک میں انسانی ترقی اور ارتقا کی افسوس ناک حالت پر روشنی ڈالی ہے اور عرب تجزیہ نگاروں نے اپیل کی ہے کے مسلم حکومتیں حصول علم اور تحقیق و مشاہدے کے عمل کو فروغ دینے پر زور دیں تاکہ باقی دنیا سے قدم بقدم چلا جا سکے.
تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کی تمام تر ترقی سائنسی علوم میں مہارت کی بدولت ہی ممکن ہوتی تھی ہمارے اسلامی مذہب میں تمام مضامین کی تحقیق ہونی چاہئے سائنس، ،فلکیات، ،فقہ، اور احادیث ترقی کے لئے لازمی علوم ہیں لیکن ہم دینی تعلیم قرآن پاک کی ناظرہ تعلیم تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور اسی طرح یہ تاثر پایا جاتا ہےکہ آج کےمدارس دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں ؟ کیادیگر تعلیمی ادارے ایسا نہیں کر رہے ہین؟ لیکن مدارس کی تعلیم صرف اس لئے بدنام ہو رہی ہے کہ مدارس خود کو اپ ڈیٹ نہیں کرتے اگر ان مدارس کو جدید سائنسی اور عمرانی تعلیم سے بھی آراستہ کیا جائے تو تنقید کی کوئی گنجائش باقی نہی رہتی۔
ہمارے والدین کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ دنیاوی اور اسلامی تربیت دینے کی کوشش کریں تاکہ ان کے اخلاق و سلوک میں انحراف پیدا نہ ہو اور وہ اچھے شہری بن کر ملک کی ترقی مین بڑہ چڑہ کر حصہ لے سکین اور دہشت گردی جیسے کاموں سے دور رہیں۔ دشمنانِ اسلام ان نونہالوں کے اخلاق و عقائد کے بگاڑنے اور انہیں اسلامی شریعت سے دور کرنے کی نت نئی قسم کی سازشیں کر رہے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ اسلام نے کبھی کسی کو دنیاوی تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روکا۔ ہمارا مسئلہ واقعی یہ ہے کہ چند ان پڑھ لوگ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اورنہیں*چاہتے کہ مسلمان پڑھ لکھ اسلام کی سربلندی کیلیے کام کریں۔ وہ چاہتے ہیں کہ انکی دال روٹی چلتی رہے چاہے اس کیلیے انہیں تمام مسلمانوں کو جاہل اور گنوار ہیرکھنا پڑے۔۔
دین اسلام جو کہ بہترین معاشی اور معاشرتی اصول سکھاتا ہے اُسے دقیانوسی ۔انتہاء پسندی اور دہشتگردی کا پلندہ ثابت کرنے کی کوششوں کو دوام بخشا جارہا ہے ۔ آخر کیوں ؟ تعلیم کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، اور ساتھ ہی تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کیاہمیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے لیکن وہ لوگ جو تعلیم کے یکسر مخالف ہیں، اور سکولوں کو جلانے کے قبیح کاموں میں شریک ہین ،ان کے بارےمیں مجھے پورا اندازہ ہے کہ وہ اگلے 100 سال بعد بھی ترقی کی شاہراہ پر وہیں پڑےہوں گے جہاں آج سے 200 سال پہلے پڑے تھے۔
تعلیم کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں پاکستان مین غربت ، پسماندگی ، جہالت اور انتہا پسندی و دہشت گردی جیسے مسائلمزید گھمبیر ہو جائینگے، تعلیم کے فروغ* سے ہم پاکستان مین دہشتگردی و انتہا پسندی کی عفریت پر قابو پا سکتےہین اور لوگ اس بات کو درست طور پرسمجھ سکین گے کہ خرابی دین اسلام میں نہیں بلکہ اسلام کی اس غیر معقول اور تنگ نظر طالبانی تشریح میں ہے جس کا علاج، بہتر تعلیم سے ہی کیا جاسکتا ہے اور اسی مین پاکستان کی تعمیر و ترقی کی تعبیر مضمر ہے۔