PDA

View Full Version : طالبان کے ہاتھوں مساجد کی شہادت اور نمازی



iqbaljehangir
02-23-2011, 10:15 PM
طالبان کے ہاتھوں مساجد کی شہادت اور نمازیوں کا قتل
مساجد مسلمانوں کا صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ معاشرتی، تعلیمی اور سیاسی مرکز بھی ہیں اور ہمیشہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے رابطہ کا ایک اہم ذریعہ رہی ہیں ۔ مساجد کا سیاسی کردار بھی تاریخی لحاظ سے ابتدا سے اب تک جاری و ساری ہے۔ آ نحضرت صلعم کے دور مین اور بعد کے ادوار مین مسجد نبوی (http://wapedia.mobi/ur/%D9%85%D8%B3%D8%AC%D8%AF_%D9%86%D8%A8%D9%88%DB%8C) صرف نماز کے لیے استعمال نہیں ہوتی رہی بلکہ اس میں غیر ممالک سے آنے والے وفود سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ مسجد نبوی مین مختلف غزوات (http://wapedia.mobi/ur/%D8%BA%D8%B2%D9%88%D8%A7%D8%AA) اور سرایہ (http://wapedia.mobi/ur/%D8%B3%D8%B1%D8%A7%DB%8C%DB%81) کے منصوبے بنے اور صحابہ نے آنحضرت صلعم کی صحبت مین دین اسلام کی اعلی تر بیت حاصل کی۔
قران میں ارشادہے :
اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کئے جانے کو روکے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے ۔۔۔ ان کے لئے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے ۔
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 114 )
مسجد اللہ کا گھر ہے ۔ مسجد میں اللہ ہی کی عبادت کی جاتی ہے ۔
اورمسجد کی اہمیت وخصوصیت کے بارے میں اللہ کے رسول فرماتے ہیں :
أحب البلاد إلى الله مساجدها
اللہ کو مسجدیں بہت زیادہ محبوب ہیں ۔
( مسلم ، کتاب المساجد ، باب فضل الجلوس فی مصلاہ بعد الصبح وفضل المساجد ، حدیث : 1560 ) (http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=1&CID=23&SW=1560#SR1)
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّهِ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاَةَ {التوبہ18}

قرآن کریم میں مساجد کی تعمیر کو اہل ایمان کی صفت قرار دیا گیا ہے:
”انما یعمر مساجد اللّٰہ من آمن باللّٰہ و الیوم الآخر و اقام الصلوٰة و اتی الزکوٰة و لم یخش الا اللّٰہ… الخ۔“ (التوبہ:۱۸)
مساجد بنانے والے اور ان کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے والے‘ نبی آخر الزمان‘کی ‘زبانی ”اللہ کے پڑوسی‘ اللہ کے اہل‘ اللہ کے عذاب کو روکنے کا سبب اور اللہ کے محبوب“ کا خطاب پانے والے ہیں۔
خدا کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے ہیں اور نماز پڑھتے
مسجد کو شریعت میں اللہ تعالی کا گھر کہا گیا اور اسکی نسبت اللہ کی طرف کی گئی :
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا{الجن18}
اور یہ کہ مسجدیں (خاص) خدا کی ہیں تو خدا کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرو
ومااجتمع قوم فی بیت من بیوت اللہ یتلون کتاب اللہ ۔۔۔۔ الحدیث


{ مسلم عن ابی ھریرۃ}

کسی علاقے میں مسجد کا نہ ہونا اور وہاں سے آذان کی آواز کا نہ آنا اس بات کی دلیل تھی کہ یہ بستی مسلمانوں کی نہیں ہے :
ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذاغزا بنا قوم لم یکن یغزو بنا حتی یصبح وینظر الیھم فان سمع الآذان کف عنہم وان لم یسمع اغار علیہم الحدیث
{ متفق علیہ عن انس}
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد بنانے اور مسجد کے قریب رہنے والے کی اہمیت و فضیلت اپنے فرامین میں کچھ اس طرح ارشاد فرمائی ہے کہ: مساجد زمین میں اللہ کے گھر‘ مساجد زمین کے بہترین ٹکڑے‘ مسجد میں آنے والے اللہ کے مہمان‘ مساجد جنت کے باغات‘ مساجد آخرت کے بازار‘ مسجد کے قریب رہنے والے کی ایسی فضیلت جیسے مجاہد کی جہاد سے معذور پر‘ مساجد ہر مومن کا گھر ہیں‘ مساجد بنانے اور اس کو وسعت دینے والے جنت میں اپنا محل بناتے ہیں‘ مسجد میں قندیل (بلب‘ ٹیوب لائٹ وغیرہ) لٹکانے والے کے لئے اس وقت تک ستر ہزار فرشتے دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ قندیل باقی رہے‘ اسی طرح مسجد میں چٹائی (فرش وغیرہ) بچھانے والے کے لئے ستر ہزار فرشتے دعا کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ چٹائی استعمال ہوتی رہے۔
نہایت افسوس کا مقام ہے کہ آج پاکستان مین، القاعدہ سے تعلق رکھنے والے طالبان کے دہشت گردوں کے ہاتھوں اللہ کے گھر اور اولیا اللہ کے مزار بھی محفوظ نہ ہین۔ طالبان دہشت گردون نے پچھلے ۱۰ سالون مین لا تعداد مساجد کو بے رحمانہ طریقے سے اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنایا اور ۱۱۶۵ نمازیون کو قتل کر کے اپنی بربریت کا نشانہ بنایا اور ۲۹۰۰ نمازیوں کو زخمی کر دیا، جن مین بچے،بوڑھے اور نوجوان شامل ہین۔ آجکل مساجد میں عبادت گزار ون کو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی لذت اورعبادت کی سعادت کی بجائے اپنی جان کے لا لے پڑے ہوتے ہیں۔ تحریک طالبان،جند اللہ اور لشکر جھنگوی اور طالبان سے الحاق شدہ دوسری مذہبی جماعتوں و گروپوں نے ان حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کر لی۔
مساجد پر خود کش حملے ، مساجد کو نمازیوں سے خالی کرنے کی طالبان کھلی اور ناپاک سازش وشرارت ہے اور کوئی راسخ العقیدہ مسلمان اس طرح کی شیطانی حرکات کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ تاریخ مین صرف مسجد ضرار کی تباہی کا حکم خدا کی طرف سے آنحضرٹ صلعم کو آیا تھا ۔ مساجد اسلام کو زندہ و تابندہ رکھنے مین بڑی ممد و معاون ہین اور طالبان مساجد کی تباہی جیسی غلیظ حرکتوں سے اسلام اور پاکستان کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہین۔
یہ ایک طے شدہ امرہے کہ اسلام میں خود کشی ناجائز ہ و حرام ہے اور یہ خود کش حملے انتہائی قابل مذمت اور مکروھ طالبانی حرکت ہین۔ مساجد کی تباہی اور نمازیوں پر خودکش حملے ایک ناقابل معافی جرم ،انسانیت سوز اور سفاکانہ طالبانی عمل ہے۔ طالبان معصوم انسانی جانوں کو اس بے دردی سے اپنی سفاکی کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ ہلاکو اور چنگیز خان کے ظلم بھی اس کے سامنے ہیچ ہین۔ طالبان مذہبی تنگ نظری نا رواداری کے پیکر ہین۔ اور یہی بد بختوں کا وہ گروہ ہے جو رسول اللہ کے فرمان کے مطابق دین سےنکل گیا ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ کے اتنے مقدس گھر میں خونزریزی کرتے ہوئے کوئی شرمندگی اورڈر محسوس نہ ہو اس کا اللہ تعالیٰ، اس کےرسول اللہ اور اسلام سے کیا واسطہ ہے؟
طالبان اور دوسری مذہبی جماعتین پاکستان مین مذہبی منافرت پھیلانے کی مر تکب ہو رہی ہین اور وہ پاکستان کے مسلمانون کی اکژیت پر جو، ان کے مذہبی نظریات سے متفق نہ ہین اپنا تنگ نظری والا اسلام مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہین۔ جبکہ اسلام دین ہے امن، محبت اور ہم آہنگی کا اور حقیقی مسلمان مساجد اور خانقاہوں پر حملے نہین کرتے اور نہ ہی ایسا کرنے کا سوچ سکتے ہین۔ یہ دہشت گرد مسلمان اور انسان کہلانے کے حقدار نہ ہین۔
اسلام بے گناہ شہریوں کے قتل عام، بازاروں، کاروباری اداروں، مساجد، قومی تنصیبات اور دیگر عوامی مقامات پر بم دھماکوں یا خود کش حملے کی اجازت ہرگز نہیں دیتا۔ جبکہ دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والے افراد اور گروہ اسلامی تعلیمات سے صریح انحراف اور شرعی طور پر بغاوت و محاربت، اجتماعی قتل انسانی اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوئے ہیں۔
اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مساجد ہی دینِ اسلام کی ہمیشہ سے آبیاری اور تبلیغ و ترویج کے مراکز ہیں اور تاقیامت! یہی مراکزدین کی آبیاری اور سیرابی کا ذریعہ بنتے رہیں گے، انہیں کے سائے میں بیٹھ کرہرزمانہ میں، قراء نے تعلیمِ قرآن ،مفسرین نے تفسیرِقرآن،محدثین نے حدیث، اور علمأنے آپ کے جلال، جمال، اخلاق، کرداراور دینِ متین کا ایک ایک طریقہ، ایک ایک مسئلہ اور حکم، امت کو پڑھایا،سمجھایا اور ان تک پہنچایا،اسی لئے ان مراکز کی ترقی اور حفاظت ہر مسلم پر فرض ہے، خواہ وہ کسی خطّہ کا باشندہ ہو۔
حکیم اللہ محسود اور اسامہ بن لادن، دونوں نے ملا عمر کو بیعت دی ہوئی ہے مگرملا عمر TTP کے سکولوں, مساجد اور عام نہتے پاکستانیوں کو خود کش بم حملوں کے ذریعے ہلاک کئے جانے کو اور کرنل امام کے قتل کو اس بیعت اور اپنے جاری شدہ code of conductکی خلاف ورزی تصور کر رہے ہین۔ اور تحریک طالبان پاکستان ، القائدہ کے اشاروں پر پاکستان کو کمزور کرنے کی سعی کر رہے ہین۔ القائدہ شیخ عطیہ اللہ کے بیان کی خلاف ورزی مین مصروف ہے جس مین انہون نے مساجد، سکولوں اور معصوم شہریوں پر حملوں سے منع کیا تھا۔ لگتا ہے یہ سب بے مہار ہین اور اپنے بیعت کی بھی پرواہ نہین کر رہے۔
یہ عوام کی اولین ذمہ داری ہے کہ ان دینی مراکز کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے کر باغاتِ جنت کی حفاظت کریں اور اللہ کی عظمت کے ان نشانات کو بحال کریں اور طالبان اور دوسرے تخریب پسندون کی تخریبی کاروایون کا حصہ نہ بنین۔
یہی وقت ہے کہ عوام بشمول تمام سیاسی و مذہبی پارٹیاں اور گروپ طالبان اور دوسری تنگ نظر مذہبی جماعتون و گروپون کی درندگی و دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر ان کا ہر سطح پر مقابلہ کرین اور ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں وگرنہ ان کی اس طرح کی سرگرمییان جاری رہین گی اور اسلام اور پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔
اور جو کئی حکم پر چلے اللہ اور اس کے رسول کے اور ڈرتا ہے اللہ سے اور بچ کے چلے اس(کی نافرمانی ) سے سو وہی لوگ ہین مراد کو پینچے۔( سورہ النور ۔۵۲)

imranattari
02-24-2011, 09:15 PM
جزاک اللہ